تازہ ترین

Post Top Ad

Thursday, March 5, 2020

بابری مسجد فیصلے پر پاپولر فرنٹ نے داخل کی کیوریٹیو پٹیشن

نئی دہلی (یواین اے نیوز5مارچ2020)پاپولر فرنٹ آف انڈیا کی قومی مجلس عاملہ کے فیصلے کے مطابق، تنظیم کے نارتھ زون کے سکریٹری انیس انصاری نے بابری مسجد حق ملکیت معاملے میں سپریم کورٹ کی آئینی بنچ کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے کیوریٹیو پٹیشن داخل کی ہے۔ اس سے پہلے چیف جسٹس ایس اے بوبڈے، جسٹس ڈی وائی چندچوڑ، اشوک بھوشن، ایس عبدالنظیر اور سنجیو کھنّہ پر مشتمل بنچ کے بند کمرے کے اجلاس میں سپریم کورٹ نے اس مسئلے پر داخل کردہ نظر ثانی کی تمام  عرضیوں کو 12 دسمبر 2019 کو خارج کر دیا تھا۔ پاپولر فرنٹ کی جانب سے 11 فروری کو کیوریٹیو پٹیشن داخل کی گئی ہے جو زیر التوا ہے۔

یہ کیوریٹیو پٹیشن روپا اشوک ہُرّا معاملے میں سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کو سامنے رکھتے ہوئے داخل کی گئی ہے، جس میں عدالت نے کہا تھا کہ ”ان تمام بنیادوں کو شمار کرنا نہ تو مناسب ہے اور نہ ہی ممکن، جن کو سامنے رکھتے ہوئے ایسی درخواستوں پر غور کیا جا سکتا ہے۔ تاہم درخواست گذار کو راحت دی جا سکتی ہے، اگر وہ ثابت کرے کہ (1) اس معاملے میں جس میں وہ فریق تو نہیں لیکن فیصلے سے اس کے مفادات پر کافی برا اثر پڑا ہے، اس میں فطری انصاف کے اصولوں کی خلاف ورزی ہوئی ہے یا، اگر وہ فریق ہو، لیکن اسے کاروائی سے مطلع نہ کیا گیا ہو اور کاروائی اس طرح آگے بڑھائی گئی ہو جیسے اسے اس کی اطلاع دی گئی ہے اور (2)  اگر کاروائی میں جج اس معاملے یا فریقین سے اپنے تعلق کو واضح کرنے میں ناکام ہو جائے،جس کی وجہ سے تعصّب کا اندیشہ ہونے لگے اورفیصلے سے درخواست گذار پر کافی برا اثر پڑاہو۔

درخواست میں یہ کہا گیا ہے کہ، ”کیوریٹیو پٹیشن داخل کرنے والا شخص گرچہ اس معاملے میں فریق نہیں ہے، لیکن بابری مسجد حق ملکیت معاملے میں عدالت عظمیٰ کے فیصلے سے اس کے مفاد پر کافی برا اثر پڑا ہے۔ درخواست گذار نے ٹھوس تاریخی حقائق اور شواہد کی بنیاد پر عدالت سے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔“درخواست میں کھلی عدالت میں سنوائی کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی درخواست میں 30 دسمبر 2010 کے الٰہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو عمل میں لانے پر روک لگانے؛ اور 9 نومبر 2019  کے عدالت عظمیٰ کے فیصلے کو عمل میں لانے پر روک لگانے کے ساتھ ساتھ 9 نومبر 2019 کے عدالت عظمیٰ کی آئینی بنچ کے فیصلے کے مطابق کوئی بھی اقدام کرنے سے مرکزی حکومت کو باز رکھنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

No comments:

Post a Comment

Post Top Ad