تازہ ترین

Post Top Ad

Thursday, March 26, 2020

ملک گیر لاک ڈاؤن اور اس کے حالیہ اثرات

شرف الدین عظیم قاسمی الاعظمی
  کرونا وائرس کی قیامت تقریباً پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے'،روئے زمین کے وہ ممالک جو وسائل کی فراوانی،اسباب کی وسعت،ٹیکنالوجی کی جدت اور نت نئی ایجادات کے لحاظ سے امتیازی مقام پر تھے،معیشت جن کی آسمانوں کو چھو رہی تھی ،زندگی کی ضروریات کے وہ سامان جو پسماندہ ممالک میں میسر نہیں تھے یہاں ڈسٹ بین میں ڈال دئیے جاتے تھے،معیار زندگی اس قدر بلند کہ ایک فرد کی عیاشیوں میں خرچ ہونے والے سامان عیش وعشرت کی قیمتوں سے غریب ممالک کی کئی بستیاں آباد ہوجائیں۔ زندگی کے ارد گرد جدید آلات کے وہ حصار کہ ظاہرا تمام مصائب وآلام کی ہلکی سی ہوائیں اور کلفتوں کی دھوپ کے لئے عبور کرنا ناممکن،عیش و عشرت کے خمار میں ڈوبی ہوئی فضا، ہفت رنگ ہواؤں اور دن کے مناظر اور اجالوں کو شرمادینے والی روشنیوں میں نہائی ہوئی راتوں،اور زرق برق ماحول میں خواہشات نفس کی تکمیل کے تمام پر تعیش سامانوں کی موجودگی میں کسے اتنی فرصت ہے'کہ وہ کائنات کی حقیقتوں کو سمجھے،اپنی حیات مستعار کے بارے میں غور کرے، کائنات کے خالق اور اپنی زندگی کے خالق کے متعلق  معلومات حاصل کرے۔۔

سامان عیش و طرب کی فراوانیوں  نے ایک محدود اختیارات کے مالک انسان کو اس کی اپنی دنیا تک محدود رکھا،اس نے اپنی ذات کو اپنی مخصوص مملکت ہی کا نہیں بلکہ تمام انسانوں کا خود ساختہ خدا سمجھا، اپنی ساری خواہشات کو قانونی حیثیت دی، اس کے لئے اس نے دوسرے افراد کے حقوق کو سلب کیا، فرعونیت اور اس کے نظریات   کو اپنے ظالمانہ عمل سے استحکام دیا، ظلم وبربریت کی ہر سوداستان رقم کی، انسانیت سوز جرائم اور حیوانیت کا بازار گرم کیا، قتل وغارت گری کے ذریعے انسانی بستیوں کو تاراج کیا، انا ربکم الاعلی کے دعوؤں کے ذریعے قدرت الہی کو چیلنج کیا، انسانیت کے ساتھ بدترین جرائم اور طبقاتی ومعاشرتی تقسیم کے تحت اور ملکی ووطنی ،مذہبی قومی اور تہذیبی و ثقافتی بنیادوں پر جبر واستبداداور نسل کشی وسفاکیت کا ایسا وحشیانہ کھیل کھیلا کہ پوری فضائے انسانیت لہو لہو ہوکر رہ گئی۔۔

 زمین جب ظلم وجبر سے بھر جاتی ہے، انسانی آبادیاں جب اجتماعی طور پر حیوانیت کی راہوں پر چل پڑتی ہیں، حکومت کے ایوانوں سے لیکر عام انسانوں کے رہائشی مکانات بلڈنگوں فلیٹوں،تفریح گاہوں، تک عیاشیوں اور جرم وفساد کی آماجگاہ بن جاتے ہیں تو نظام قدرت کے مطابق مختلف صورتوں میں ہر دور میں آسمانی مصائب اور آزمائشوں کے ذریعے انہیں ان کے فرائض ان کے مقاصد ان کے اعمال وافعال اور ان کے شرمناک کرداروں پر غور فکر کی راہیں ہموار کی جاتی ہیں، ایسے لوگوں کے لئے ظلم وبربریت جن کا مزاج،اناپرستی وخود غرضی جن کا ذوق، خواہشات نفس کی غلامی جن کامسلک،اور ذاتی مفادات کا حصول اور اس کے لئے دوسرے انسانوں پر ستم رانیوں کی تاریخ لکھنا جن کی عادت بن جاتی ہے تو،خداوند عالم کے ارشاد کے مطابق،، ہم اس عارضی دنیا میں مجرمین اور گنہگاروں پر ہلکا سا عذاب نازل کرتے ہیں اور اصل عذاب اور بدلہ تو قیامت کے روز ہے'اور یہ عذاب کی ہلکی سی جھلک اس لیے ہے'تاکہ یہ ظالم انسان اصل خلاق عالم اور حقیقی پروردگار عالم کی طرف لوٹ آئے (سجدہ آیت نمبر 21)اس وقت دنیا جس اضطرابی کیفیت میں مبتلا ہے'،جس بے کسی اور بے بسی کی حالت زار سے دوچار ہے'ایک عام فرد پر بھی یہ پوشیدہ نہیں ہے'، چائنا ملک جو معیشت اور اسباب ووسائل کے لحاظ سے ترقی یافتہ ملک تھا،وہاں کے ایک شہر ووہان سے نکلی ہوئی ایک وبا نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے، چین تمام تر سامان زندگی اور آلات تحفظ کے باوجود ٹوٹ کر بکھر چکا ہے'،  یورپ کا قدیم اور جدید سائنس ومیڈیکل میں اول پوزیشن اور زندگی کے معیار کے لحاظ سے انتہائی بلندی کے باوجود اس وبا کا ایسا شکار ہوا کہ تمام حفاظتی تدبیریں بے اثر ہو کر رہ گئیں، ایک اک دن میں سینکڑوں افراد لقمہ اجل بن گئے، کیا عرب اور کیا عجم کیا یورپ اور کیا امریکہ،کیا برصغیر اور کیا عالم اسلام، ہر جگہ خوف ودہشت کے سائے پھیل گئے،پوری دنیا میں چار لاکھ افراد اس کی لپیٹ میں ہنوز تڑپ رہے ہیں سترہ ہزار موت کے منہ میں جاچکے ہیں۔ بازاروں میں رونقیں بجھ گئیں،سپر مارکیٹس اندھیروں میں غرق ہوگئیں، تفریح گاہوں،نائٹ کلبوں، میں سناٹا چھا گیا، خانقاہیں اجڑ گئیں، کلیساؤں اور صنم خانوں میں خاک اڑنے لگی، آدمی آدمی کے لئے اجنبی ہو گیا، راستے سنسان ہوگئے، حد یہ ہے'کہ مسجدیں اور اس روئے زمین پر سب سے مقدس مقام اور تجلی گاہ ربانی اور تمام انسانوں کے مرکز بیت اللہ ومسجد حرام و مسجد نبوی علی صاحبہا الصلاۃ والسلام بھی نمازیوں کی غیر موجودگی اور عبادتوں پر پابندی کی وجہ سے بے رونق ہوکر رہ گئی ہیں۔۔

ملک بھارت بھی اس مہلک اور خوفناک وبا کی لپیٹ میں ہے،تاہم نسبتا یہاں اس وائرس سے متاثرین کی تعداد معمولی ہے جس ملک میں ایک ارب تیس کروڑ کی تعداد زندگی گذارتی ہو وہاں تقریباً چار سو متاثرین کی تعداد قابل لحاظ نہیں ہے'،مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ ملک حکمرانوں کی کرم فرمائیوں سے اس پوزیشن میں بالکل نہیں ہے'کہ وائرس کے پھیلنے کی صورت میں اس قابو پالے، یہاں نہ اس سلسلے میں کوئی انتظام ہے'نہ کوئی ڈیفینس اور دفاع کی کوئی مؤثر تدبیر، نہ میڈیکل کی سہولت ہے'نہ ہی دواؤں اور ہاسپیٹلوں میں مریضوں کے لیے وینٹی لیٹر کا انتظام، 

اور ایک ایسے ملک میں جہاں حکومت اور اقتدار کی نگاہوں میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر فیصلے جاری ہوتے ہوں، جہاں انسانیت نہیں بلکہ تعصب کی بنیادوں پر لائحہ عمل مرتب ہوتے ہوں، جہاں حاکمیت کی ترجیحات ملکی وطنی اور قومی مفادات نہیں بلکہ ذاتی نظریات اور مخصوص فکری مفادات میں محصور ہوں وہاں اہل اقتدار کے پاس ملک کی سالمیت ملک کی ترقی اور اس کی تعمیر کی منصوبہ بندیوں کے لئے فرصت کہاں کہ ملک اور اس کے رہنے والوں کی بنیادی ضروریات کی طرف توجہ کرے،

کسے نہیں معلوم کہ ملک غربت اور پسماندگی کے دھانے پر کھڑا تھا، یہاں کی اکثریت وہ ہے'جو صبح کو روزی کی تلاش میں نکلتی ھے اور شام کو صرف ایک وقت کے کھانے کے بقدر سامان لا کر اپنے پیٹ کی بھوک مٹاتی ہے'، بے شمار ایسے افراد ہیں جنہیں ایک وقت کی بھی روٹی میسر نہیں ہے'،ہزاروں ایسے مریض ہیں جو طبی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے گھروں میں دم توڑ دیتے ہیں، ایسی صورت حال میں ملک کو معیشت کے اعتبار سے عوام کی سہولیات کے لحاظ سے حکومت کی ترجیحات کا تعین ہونا چاہیے تھا مگر ایسا نہیں ہوا،ایک قوم کی نفرت اور عصبیت نے ان لازمی اور بنیادی فرائض سے آنکھیں بند کرنے پر مجبور کردیا، اور اسی عداوت کی آگ میں غیر ضروری اور ملک وقوم کے لئے تباہ کن اقدامات کا سلسلہ شروع ہوگیا، دفعہ 370، تین طلاق،بابری مسجد کے فیصلے،یکساں سول کوڈ، اور این آر سی،سی اے اے اور این پی آر،،جیسی منصوبہ بندیاں اسی نیتوں کے فتور اور عصبیت کا شاخسانہ ہیں، 

ایسی صورت حال میں  اس وبا اور کرونا وائرس نے آکر حکومت کے حواس معطل کردئیے،انتظامات کے اعتبار سے نہ پہلے ان کے پاس کوئی پلاننگ تھی اور نہ ہی اس وقت کوئی منصوبہ بندی،شاید یہی وجہ تھی کہ 22/مارچ کو وزیر اعظم کی طرف سے کرفیو اور شام پانچ بجے تالی اور تھالی بجانے کی تلقین کی گئی اور شام میں لاکھوں اندھ بھکتوں کی طرف سے جلوس کی شکل میں اس عمل در آمد نے پوری دنیا کو شرمسار کرڈالا، ملک کے عہدوں میں وزارت عظمی انتہائی اہم اور باوقار ہے مگر اس بے بصیرت اور غیر معقول حکم نامے نے اس کے وقار کو جس طرح خاک میں ملا یا ہے'اس کی مثال دنیا کے نقشے پر ملنی بہت مشکل ہے'


اور سچی بات یہ ہے'کہ ملک وقوم کے سلسلے میں کبھی یہ سنجیدہ بھی نہیں تھی،  چنانچہ آخری اور آسان حربہ حکومت کے پاس یہی ہے'کہ پورے ملک میں لاک ڈاؤن کرکے حالیہ وائرس سے بھی تحفظ حاصل کرلیا جائے اور معیشت کے لحاظ سے ان کی بدترین حکمت عملی کے نتیجے میں ملک جس پستی کے عالم میں ہے'اس کا وبال بھی کرونا وائرس،،کے اوپر ڈال جائے،اس دوران ملک کے غریب طبقات پر فاقے کی بلائیں آتی ہیں تو آتی رہے، فٹ پاتھوں پر رہنے والے بھوک سے مرتے ہیں تو مرجائیں،روزانہ کام اور مزدوری کرکے اپنا پیٹ پالنے والے اگر موت وحیات کی کشمکشِ میں پہونچتے ہیں تو اس کا غم نہیں ہے'،

چنانچہ دنیا کی انکھوں نے دیکھا کہ ایک لمحے میں وزارت کی طرف سے فرمان جاری ہوگیا ، دفعہ 144/نافذ ہوگیا،
سڑکیں ویران ہوگئیں،ٹرینیں بند کردی گئیں، بسوں کی آمد ورفت پر پابندی عائد کردی گئی، مدارس اسکول کالجز،یونیورسٹی کو مقفل کردیا گیا، فلائیٹس منسوخ کردی گئیں، ملک کی ساری عبادت گاہوں کو سیل کردیا گیا، جو جہاں ہے'وہیں پڑا ہے'، زندگی اور کاروبار زندگی یکلخت معطل ہوکر رہ گیا ہے'۔۔۔ملک میں جگہ جگہ انصاف رواداری اور سیکولرازم وجمہوریت کے تحفظ کے لئے وجود میں آنے والے شاہیں باغ کو اجاڑ دیا گیا،

سوال یہ ہے کہ ملک کی حفاظت اور قوم وملت کے تحفظ اور اسے موجودہ وائرس سے دور رکھنے کے لئے محض لاک ڈاؤن اور کرفیو کی تدبیر کافی ہے'،ظاہر ہے'ایک ملک میں جہاں زندگی کی بنیادی سہولیات سے اکثر لوگ محروم ہوں وہاں محض اس ایک منصوبہ پر عمل درآمد کرنا لوگوں کو مزید مصیبت میں ڈالنے کے مترادف ہے'،اس میں شک نہیں کہ اس مہلک بیماری سے حفاظت اور اس سے نجات کے لئے اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے'کہ ملک کی دوڑتی بھاگتی زندگی کو مکمل قید میں محصور کردیا جائے، کہ چائنا میں اس وبا پر قابو پانے کا راز یہی ہے'کہ وہاں لوگوں کو بالکل گھروں میں بند کردیا گیا تھا،بلڈنگوں کو اور ان مکانات کو جہاں کرونا کے متاثرین تھے مکمل طور پر سیل کردیا گیا تھا، کچھ بلائیں اور بیماریاں اس قدر متعدی اور پھیلنے والی ہوتی ہیں کہاختلاط سے وہ مستحکم اور اور خلوت سے وہ کمزور ہوتی ہیں،اس موقع پر یقیناً دانشمندی یہی ہے'کہ انسان گھروں میں قید ہو جائے اور بلا ضرورت باہر نہ نکلے،اس سلسلہ میں خلیفۂ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عہد میں پیش آنے والی طاعون کی شکل میں آزمائش اور آخر میں مسلمانوں کے رہائشی انتشار کی تدبیر ایک نفع بخش نمونہ ہے'علامہ شبلی لکھتے ہیں،، 639ء کازمانہ ہے'اس سال شام ومصر وعراق میں سخت وبا پھیلی اور اسلام کی بڑی بڑی یادگاریں خاک میں چھپ گئیں وبا کا آغاز 17/ھ کے اخیر میں ہوا اور کئی مہینے تک نہایت شدت رہی،حطت عمر کو اول جب خبر پہونچی تو اس کی تدبیر وانتظام کے لئے خود روانہ ہوئے سرغ پہونچ کر ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ وغیرہ سے جو ان کے استقبال کو آئے تھے معلوم ہوا کہ بیماری کی شدت بڑھتی جاتی ہے مہاجرین اولین اور انصار کو بلایا اور رائے طلب کی مختلف لوگوں نے مختلف رائیں دیں لیکن مہاجرین فتح نے یک زبان ہوکر کہا کہ،،آپ کا یہاں ٹھہرنا مناسب نہیں ہے،،حطت عمر نے حضرت عباس رض کو حکم دیا کہ پکار دیں کہ کل کوچ ہے'حضرت عبیدہ رض چونکہ تقدیر کے مسئلہ پر نہایت سختی کے ساتھ اعتقاد رکھتے تھے ان کو نہایت غصہ آیا اور طیش میں آکر کہا،،افرار من قدر اللہ،،یعنی اے عمر تقدیر الہی سے بھاگتے ہو،حضرت عمر نے ان کی سخت کلامی کو گوارا کیا اور کہا۔نعم افر من قضاء اللہ الی قضاء اللہ،،ہاں تقدیر الہٰی سے بھاگتا ہوں مگر بھاگتا بھی تقدیر الہٰی کی طرف ہوں،،

غرض خود مدینہ چلے آئے اور ابو عبیدہ کو لکھا کہ مجھ کو تم سے کچھ کام ہے'کچھ دنوں کے لئے یہاں آجاؤ ابوعبیدہ کو خیال ہوا کہ وبا کے خوف سے بلایا ہے'جواب میں لکھ بھیجا کہ جو کچھ تقدیر میں لکھا ہے'وہ ھوگا میں مسلمانوں کو چھوڑ کر اپنی جان بچانے کے لیے یہاں سے ٹل نہیں سکتا حضرت عمر خط پڑھ کر روئے اور لکھا کہ فوج جہاں اتری ہے'وہ نشیب اور مرطوب جگہ ہے'اس لیے کوئی عمدہ موقع تجویز کرکے وہاں اٹھ جاؤ،ابو عبیدہ نے اس حکم کی تعمیل کی اور جابیہ میں جاکر مقام کیا،جو آب وہوا کی خوبی میں مشہور تھا۔

جابیہ پہونچ کر ابوعبیدہ بیمار پڑے جب زیادہ شدت ہوئی تو لوگوں کو جمع کیا اور نہایت پر اثر الفاظ میں وصیت کی معاذ بن جبل کو اپنا جانشین مقرر کیا اور چونکہ نماز کا وقت آچکا تھا حکم دیا کہ وہی نماز پڑھائیں ادھر نماز ختم ہوئی ادھر انہوں نے داعی اجل کو لبیک کہا،بیماری اس طرح زوروں پر تھی اور فوج میں انتشار پھیلا ہوا تھا۔عمروبن عاص رض نے لوگوں سے کہا کہ یہ وبا نہیں بلاؤں میں سے ہے'جو بنی اسرائیل پر مصر میں نازل ہوئی تھیں اس لیے یہاں سے بھاگ چلنا چاہیے معاذ رض نے سنا تو منبر پر چڑھ کر خطبہ دیا اور کہا کہ یہ وبا بلا نہیں ہے بلکہ خدا کی رحمت ہے'خطبہ کے بعد خیمے میں آئے تو بیٹے کو بیمار پایا نہایت استقلال کے ساتھ فرمایا یابنی الحق من ربک فلاتکونن من الممترین اے فرزند یہ اللہ کی طرف سے ہے دیکھ شبہ میں نہ پڑنا بیٹے نے جواب دیا ستجدنی ان شاءاللہ من الصابرین اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے،یہ کہ کر انتقال کیا معاذ رض بیٹے کو دفنا کر آئے تو خود بیمار پڑے عمر بن عاص کو خلیفۂ مقرر کیا اور اس خیال سے کہ زندگی اللہ کے قرب کا حجاب تھی بڑے اطمینان اور مسرت سے جان دی۔

مذہب کا نشہ بھی عجیب چیز ہے وبا کا وہ زور تھا اور ہزاروں آدمی طعمہ اجل ہوتے جاتے تھے لیکن معاذ رض اس کو اللہ کی رحمت سمجھا کئے اور کسی قسم کی کوئی تدبیر نہ کی لیکن عمرو بن العاص کو یہ نشہ کم تھا معاذ رض کے مرنے کے ساتھ انہوں نے مجمع عام میں خطبہ پڑھا اور کہا کہ،،جب وبا شروع ہوتی ہے'تو آگ کی طرح پھیلتی جاتی ہے اس لیے تمام فوج کو یہاں سے اٹھ کر پہاڑوں پر جا رہنا چاہئے،اگرچہ ان کی رائے بعض صحابہ رضی اللہ عنھم جو معاذ رض کے ہم خیال تھے ناپسند آئی یہاں تک کہ ایک بزرگ نے اعلانیہ کہا کہ تو جھوٹ کہتا ہے،،تاہم عمرو نے اپنی رائے پر عمل کیا فوج ان کے حکم کے مطابق ادھر ادھر پہاڑوں پر پھیل گئی اور وبا کا خطرہ جاتا رہا لیکن یہ تدبیر اس وقت عمل میں آئی کہ 25/ہزار مسلمان جو آدھی دنیا کو فتح کرنے کے لئے کافی ہوسکتے تھے موت کے مہمان ہوچکے تھے (الفاروق حصہ اول ص129)

اس اقتباس میں موجود تدبیر کی روشنی میں وزیراعظم کی طرف سے مسلسل اکیس دنوں کے لئے ملک گیر لاک ڈاؤن یقینا پوری دنیا کو خوفزدہ کرنے والے وائرس کی روک تھام کے لیے سود مند کہی جاسکتی ہے جس کی تائید کی جانی چاہیے۔۔لیکن ملک کی عوام کی ساری ضروریات سے یکسر آنکھیں بند کر کے صرف اسی تدبیر پر اکتفا کرنا اور دیگر انتظامات کو نظر انداز کر دینا کسی طرح دانشمندانہ اقدام  نہیں کہا جاسکتا،صرف چند روز کے کرفیو کے نفاذ نے عام متوسط طبقے کے لوگوں کو موت کے دہانے پر کھڑا کردیا ہے'،اس ملک میں ستر فی صد وہ لوگ ہیں جو روزانہ مزدوری کرتے ہیں اور شام میں اپنا اور اپنے گھر والوں کا پیٹ بھرتے ہیں،ان کی ضروریات ان کے خوردونوش اور ان کے دوا علاج کے سارے راستے بند ہوچکے ہیں انہیں زندگی گذارنے کے لیے بنیادی ضروریات کس طرح میسر ہوں گی، خط افلاس سے نیچے زندگی گزارنے والوں کا ذکر ہی کیا مڈل کلاس کے لوگوں کی دسترس سے بھی آسمان کو چھوتی ہوئی سبزیاں اور راشنوں کے مہنگے سامان باہر ہوچکے ہیں، ہزاروں افراد اپنے گھروں کے لئے نکلے مگر ٹرین کینسل اور بسوں کی پابندیوں کی وجہ سے کہیں بس اسٹاپ تو کہیں ریلوے اسٹیشنوں پر بے یارومددگار پڑے ہیں نہ ان کے کھانے کا نظم ہے'نہ سونے کی کوئی جگہ،نہ ہوٹلوں میں جاسکتے ہیں اور نہ ہی کہیں اور سے کوئی امید،نہ حکومت کی طرف سے خبر گیری نہ ہی اور کوئی ان کا پرسان حال، ممبی جیسے شہروں کی حالت تو انتہائی ناگفتہ بہ ہے'کہ یہاں بے شمار ایسے لوگ ہیں جو کمپنیوں کارخانوں میں کام کرتے ہیں اور ہوٹلوں سے ہی ان کا گذارہ ہوتا تھا،اب نہ وہ کہیں جاسکتے ہیں کہ ٹرانسپورٹ کا سارا نظام معطل ہے'نہ ہی ان کی رہائش کا کوئی بندوبست،سینکڑوں ایسے مریض ہیں ممبئی کے ہاسپیٹلوں میں  جن کے علاج کے لیے ٹکٹ بک تھے وہ اب علاج ومعالجہ سے بھی محروم ہوچکے ہیں،زندگی اور کاروبار زندگی کے اس طرح معطل ہونے کی وجہ سے کتنے لوگوں کی جانیں یوں ہی خطرات کے دہانے پر ہیں،کتنے لوگ بغیر علاج کے موت کی دہلیز پر ہیں، کتنے افراد صرف افلاس اور بھوک کی وجہ سے موت کے منھ چلے جائیں گے اس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ 

وہ لوگ جن کے دلوں میں انسانیت کا درد ہے'، حالات کی نزاکت کو جن کی نگاہیں دیکھ رہی ہیں ملک اور سماج کے بارے میں جو لوگ مثبت رائے رکھتے ہیں انہوں نے کھل کر اس اقدام پر تنقید کی ہے'اکنامسٹ اور ماہر معاشیات واقتصادیات کے بقول یہ لاک ڈاؤن اگر کرونا وائرس سے لوگوں کو محفوظ کیا بھی تو دوسری طرف بے شمار افراد بھوک افلاس اور فاقوں کی وجہ سے لقمہ اجل بن جائیں گے،نیشنل میڈیا اسٹیریم ہندستان ٹائمز کے پولیٹیکل اکنامی ایڈیٹر روش کشور نے لکھا ہے 21/دن کے لاک ڈاؤن کے نتیجے میں ملک کا غریب طبقہ خود فاقہ اور بھکمری کے باعث موت کا شکار ہو جائے گا ،،
مشہور اکنامسٹ اشیش تیاگی کے مطابق،،وزیر اعظم کو اس اعلان سے پہلے کسی متبادل انتظامات اور بنیادی ضروریات کے متعلق سوچنا چاہیے تھا اور اب بھی اس کے اعلان کی شدید ضرورت ہے بصورت دیگر ملک افراتفری کا شکار ہوجائے گا،

اس کے علاوہ ان گنت لوگوں نے اس اقدام کو ملک کے مفاد عامہ کے خلاف اور شعور سے عاری قرار دیا ہے ہاں عصبیت اور ایک کمیونٹی کی مخالفت میں حکومت کے ہر اشارے کی اطاعت جن کا نصب العین ہے'اور وہ سرمایہ دار ولگزری لائف جینے والے جن کے کان محتاجوں کی فریاد سے ناآشنا اور جن کی نگاہیں عام انسانی حقوق سے ناواقف ہیں وہ ضرور اس عمل کی تائید کریں گے اور کررہے ہیں کہ زمینی حقائق سے ان کے رشتے پہلے بھی نہیں تھے اب بھی انہیں انسانی حقوق کے متعلق سوچنے کی فرصت نہیں ہے'،

حاصل یہ کہ یہ فیصلہ ملک میں کس قدر تباہی لائے گا،کس قدر لوگ اس سے متاثر ہوں گے،کس قدر عام زندگی مفلوج ہو گی، کس خوفناک انداز میں افلاس کا سایہ دراز ہوگا، مزدور حمال،کسان ،ملازمین اور رکشے یا گاڑیاں چلانے والوں کی زندگی کس قدر دشوار ہوگی اس کی تصویر اس کے وحشتناک مناظر اور تباہ کن اثرات ایک عام فرد سے جب مخفی نہیں ہے'، تو غیر ممکن ہے کہ حکومت سے یہ بات چھپی ہوئی ہو،اس لئے لازماً یہ بات بھی واضح ہوتی ہے'کہ کرونا اور اس کے لئے اس قدر طویل اور ایمرجنسی لاک ڈاؤن کسی دوسرےا ہداف کا پیش خیمہ ہے'جس کے ذریعے  تمام مخصوص اہداف اور ٹارگیٹس کی تکمیل کا راستہ ہموار کرنا ہے'۔۔

No comments:

Post a Comment

Post Top Ad