تازہ ترین

Post Top Ad

Thursday, March 26, 2020

ساری دنیاکے علماءکامتفقہ فیصلہ یہی ہے لوگ اپنے گھروں میں نمازپڑھیں مسجدوں میں نہ جائیں۔مولانا نذر محمد

عوام جمعہ کی نماز مسجد میں نہیں پڑھیں گے۔مولانا راشدکاندھلوی
 اس وبائی مرض سے نجات تک ہم اپنے گھروں میں نمازاداکریں۔مفتی خلیل الرحمٰن
کسی بھی صورت ہمیں مندر یا مسجد نہیں جانا ہے۔ایس،ایس،پی۔مظفر نگر
وبائی مرض کے پیش نظرہمیں احتیاط کے ساتھ اپنے گھروں میں ہی رہناچاہیے۔مولانا امجد
ہم اپنے گھروں میں محصورہوکراس مرض کےپھیلنے سےروکنے میں کامیاپ ہوسکتے ہیں۔ڈاکٹر طاہر قمر

مظفر نگر/شاہد حسینی(یواین اے نیوز 26مارچ2020)اپنےجاری بیان میں مولانانورالحسن راشدکاندھلوی نے آج کےکوروناوبائی مرض کی صورت حال پرکہا کہ بہت سے احباب کے مسلسل  فون آرہے ہیں کہ ان حالات میں جبکہ ہرجگہ کرفیوکی سی نوعیت ہے گھرسے نکلناپریشانی کودعوت دیناہے جمعہ کیسے پڑھیں تومولاناکاکہناتھاکہ جب علماء نے واضح کردیاکہ محمکہ صحت وحکومت کی ہدایات کااتباع کیاجائے اورحکومت نےکسی بھی شکل میں مجتمع ہونے سے منع کردیاہے تواب جمعہ کی بات بھی ایسے ہی سمجھئے اس لئے کہ اس میں لوگوں کاجمع ہونا مرض کے پھیلنے کا سبب ہے اوراس سے بچنا ضروری ہے اس لئے عوام جمعہ نہیں پڑھیں گے اورجس بات کی شریعت نے گنجائش دی ہے اس کوزبردستی لازم کرنا عقل مندی نہیں ہے مسجد میں بشمول امام چارافرادجمعہ پڑھیں باقی تمام افرادگھروں میں رہ کر ظہرکی نمازاداکریں لیکن یہ ملحوظ رہے کہ جمعہ کے دن ظہرکی جماعت نہیں ہوگی سب اپنی اپنی نماز اداکریں گے باقی نمازوں میں گھروالوں کے ساتھ باجماعت نماز کا اھتمام کرناچاہئے۔

مفتی خلیل الرحمٰن نے میڈیاکے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ کروناوائرس جیسے وبائی مرض کی بنیادپرہمیں جہاں ایک ساتھ پانچ افراد کو مجتمع ہونے سے روکا گیا ہے تو یہی مسجد میں آکر نماز پڑھنے میں بھی ہے اس لیے جب تک اس وبائی مرض سے نجات کا کوئی راستہ نہیں مل جاتا ہم اپنے گھروں میں نماز ادا کریں ایسے ہی جمعہ کی نماز ہے وہ بھی ہم گھروں میں ہی اداکریں۔

مولانا نذر محمد نائب صدر جمیعت علماء اتر پردیش نے اپنے بیان میں کہا کہ کورونا وائرس جیسی مہلک بیماری نے پوری دنیا کو اپنی چپیٹ میں لے لیا ہے اور بھیانک سے بھیانک تر حالات ہوتے جارہے ہیں ان حالات میں مولانا نے جمعہ کو لیکر تمام مسلمانوں سے اپیل کی ہے سبھی لوگ اپنے گھروں میں رہیں گھروں میں ہی نماز ادا کریں جمعہ کی نماز پڑھنا ممکن ہو تو پڑھیں ورنہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ظہر کی نماز پڑھیں ضلع انتظامیہ اس سلسلہ بہت سخت ہے حالات کے پیش نظر ساری دنیا کے علماء کا متفقہ فیصلہ بھی یہی ہے لوگ اپنے گھروں میں نماز پڑھیں مسجدوں میں نہ جائیں۔

جیساکہ آپ کومعلوم ہے کہ کروناوائرس جیسے وبائی مرض نے ہمارے ملک ہندوستان میں بھی دستک دیدی ہے اورحکومت ورہبران قوم نے کچھ احتیاطی تدابیر تجویزکرکے ہمیں ان پرعمل کرنے کی ہدایت دی ہیں جو ہمارے لئے ہمارے ملک کے لئےبہت ہی مفید ثابت ہوں گی جس میں بالخصوص آپس میں اختلاط یعنی باہمی میل جول سے سختی کے ساتھ منع کیا گیا ہے اورکرفیو یعنی لاک ڈاؤن کا مطلب بھی یہی ہے کیونکہ یہ بیماری ایک دوسرے انسان سے منتقل ہوکراپنا قہر برپاکرتی ہے ان خیالات کااظہارمولانا محمدامجد قاسمی دارالعلوم الاسلامیہ لدھاوالا نے کیاموصوف نے مساجدکے ائمہ،متو لیان ودیگرذ مہ دران سے مخاطب ہوکرکہا کہ متفقہ طورپرمساجد سے اعلان کریں لوگوں کو سمجھائیں کہ نماز اپنے گھروں میں ہی اد کریں ایسے خطرناک وبائی مرض کے پیش نظر ہمیں احتیاط کا پہلو اختیار کرتے ہوئے اپنے گھروں میں ہی رہنا چاہیے نمازیں بھی ہم گھروں میں ہی ادا کریں۔

ڈاکٹر طاہر قمر میرانپوری نےکہاکہ اس وقت پورے ملک میں کوروناوائرس بہت تیزی کے ساتھ پھیلاہےاس کاواحدعلاج جہاں ایک طرف اللہ سے توبہ واستغفارپرہے تووہیں دوسری طرف ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہےکہ ہم اپنے گھروں میں محصورہوکراس مرض کو پھیلنے سےروکنے میں کافی حدتک کامیاپ ہو سکتے ہیں آج کےان مشکل حالات میں مساجدمیں زیادہ دیربھیڑکے ساتھ ٹھہرنانقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔

مظفر نگر کے ایس،ایس،پی ابھیشیک یادو نے آج اپنا ایک بیان جاری کیا اس میں انہوں نے کہا کہ آج کے حالات میں کسی کو بھی ایک ساتھ پانچ افراد پر مشتمل کوئی پروگرام کرنے یا ایک ساتھ جمع ہونے کی اجازت نہیں ہے آپ کو کوئی عبادت کرنی ہے اپنے گھر میں رہ کر کرے کسی بھی صورت ہمیں مندر یا مسجد نہیں جانا ہے کل جمعہ ہے اس کے لئے میں اپیل بھی کررہاہوں اور آگاہ بھی کردینا چاہتا ہوں کہ جمعہ کی نماز بھی اپنے گھر میں ہی ادا کریں کسی بھی حال میں آپ کو مسجد میں جانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی کیونکہ اسی سے یہ مرض بڑھے گا اس سے کوئی بھی شخص متاثر ہوسکتا ہے ہماری سستی اور لاپرواہی کسی کی بھی جان مشکل میں ڈال سکتی ہے اگر کوئی شخص اس کی خلاف ورزی کرے گا اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی

No comments:

Post a Comment

Post Top Ad