تازہ ترین

Post Top Ad

Friday, March 6, 2020

وادی سماج واد میں خاموشی کیوں

ڈاکٹر محمد عمار قاسمی
شہریت ترمیمی قانون پاس ہوئے تقریباً تین ماہ گزرنے کو ہے اس قانون نے ملک کو ایک نظریاتی جنگ کی طرف ڈکھیل دیا جہاں ایک طرف حکومت اپنے خاص نظریہ سے ایک انچ پیچھے ہٹنے کا نام نہیں لے رہی ہے تو وہیں ہندوستان کی جمہوری عوام  گاندہی کے نظریہ سے آدہے انچ بھی نہ ہٹنے کی قسم کھا چکی ہے اس قانون نے ملک کو ایسی حالت میں پہونچا دیا ہے کہ اسے  لفظوں میں بیان کرنا اتنا ہی آسان ہے جتنا سی اے اے ،این آر سی، این پی آر کو سمجھنا پورا ملک اس نظریاتی جنگ میں سراپا احتجاج بنا ہوا ہے راتوں رات اس سم آئین نے جو بے چینی کھڑی کی ہے وہ کسی بھی تریاق سے دور ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے اس قانون میں کتنا زہر  بھرا ہوا ہے یہ تو وقت نفاز بتائے گا مگر اس قانون کی آھٹ نے ہر ہندوستانی کے ماتھے پر ایک سوالیہ نشان بن کر کھڑا ہو گیا ہے کہ تیرا کیا ہوگا رے . . . . . . . .ہندوستان کی ایوان اعلی وبالا سےیہ قانون سیاسی آنکھ مچولی کھیل کر کامیاب ہوگئی مگر ہندوستان کی غیور عوام نے اسے شاہراہ ایوان پر کھڑے ہوکر احتجاج کا بگل بجا دیا شاہینی  انقلاب نے پورے ملک میں انقلاب کا سور پھونک دیا ملک کا گوشہ گوشہ اس قانون کی مخالفت میں اتر پڑا۔

 دیر سویر ملک کی غیر بی جے پی جماعتیں بھی نفع نقصان کا اندازہ کر کے میدان احجاج میں نکل پڑی مگر ریاست اتر پردیش سے جو آواز اٹھنی چاہیے تھی وہ سیاسی سقوط میں تبدیل ہوگئی جس طر ح ہندوستانی عوام نوٹبندی کے بعد کیس لیس ہوگئی تھی اسی طرح اس سیاہ قانون کے پاس ہوتے ہی یو پی اپوزیشن لیس ہوگئ بھلا کرے پرینکا گاندہی کا جنھوں نے اپنے پارٹی صدر اجے للو جی کے ساتھ ایک اپوزیشن کا کردار نبھاتی نظر آرہی ہیں مگر حیرت مایوسی اس وقت بھیانک صورت اختیار کر لیتی ہے جب  ،مسلمانوں کی ہمدرد کہی جانے والی سماج وادی اور اسکے میر کارواں ملا ملائم کے لخت جگر نمائندہ اعظم گڑہ وارث لوہیا جناب اکھلیش یادو کی قیامت خیز خاموشی پر نظر ڈالیے تو  بہت سارے سوالوں کو جنم دیتی ہے کہ آخر سماجواد کا نعرہ دینے والے آج خاموش کیوں؟ کیا یہ قانون سماج وادی کے ووٹر کو متاثر نہیں کریگا ؟ کیا یہ قانون صرف مسلم مخالف ہے ؟ کیا اس وقت پارٹی کا قانون کی مخالفت کرنا دیش ہت میں نہیں ہے؟  کیا یہ قانون آئین کے مطابق ہے ؟ اس نظریاتی جنگ میں آپ گاندھی کے نظریات کے ساتھ ہیں یا . . .  ؟ 

کیا آپ کے صرف ٹوئیٹ کرنے سے مسئلہ کا حل ہے ؟آپ کی پارٹی آپکے لوگ آخر کب میدان میں نظر آینگے ؟اکھلیش جی آپ کی نہ ختم ہونے والی خاموشی کا سلسلہ کب تک چلیگا مانا کہ آپ  اعظم گڑھ کے لوک سبھا سانسد ہیں بلا چوں چرا آپ پانچ سال یہاں کے نمائندہ رہینگے  اب اعظم گڑھ کے بلریا گنج میں کیا ہوتا ہے اس سے آپ کو کیا فرق پڑتا بہتر ہو ا کہ آپ بلریا گنج نہیں آئے ورنہ وہ آپ کے نئے دوست جناب سنیل سنگھ جو کبھی یوگی جی کے سپہ سالار ہوا کرتے تھے جو کبھی نفرت کے برانڈ ہوا کرتے تھے بڑی مشکل سے تو آپ نے انکو سماج واد ڈٹرجنٹ سے نہلا دھلا کر اپنے خیمہ میں کیا کہیں وہ ناراض نہ ہوجاتے کہیں بی جے پی آپ کو پھر  مسلم پرست کا طعنہ نہ دیتی اچھا کیا آپ نے اعظم گڈھ کا دورہ نہیں کیا نہیں تو آپکے انکل سنگھ صاحب جو کبھی سماج واد کے آئینہ ہوا کرتے تھے آج بستر مرگ پر پڑے ہیں انہیں بھی تو  تکلیف ہوتیصاحب جی آپ صرف اعظم گڑھ کے سانسد ہی نہیں بلکہ ایک قومی پارٹی کے قانونی صدر بھی ہیں آپ اترپردیش کے سابق وزیر اعلی بھی ہیں آپ ایک قومی لیڈر کی حیثیت رکھتے ہیں مگر آپ کے پردیش کا پڑوسی پردیش میں مہینوں سے ایک احتجاج چل رہا ہے۔

 وہا ں آپ کو جانے کا ابھی تک موقعہ نہ مل سکا حد تو اس وقت ہوئی کہ جب دہلی تین دنوں تک دہکتا رہا مگر آپ پانچ دن خواب خاموشی سے جاگےاور  زوردار لفظوں میں نندا کی بالکل راجناتھ سنگھ کی طرح خیر دونوں ایک ہی ریاست کے ہیں صاحب جی ماناکہ دہلی میں الیکشن ختم ہو چکا ہے اب پانچ سال بعد ہی الیکشن ہوگا مگر آپکے کچھ بھکت تو وہاں بھی رہتے ہیں کم از کم انہیں کے لئے آپ چلے گئے ہوتے جو 2022میں آپ کو دوبارہ cm بنانے کے لئے آینگے  شاہین باغ نے جب دیکھا کہ آپ کو دہلی آنے میں دقت ہے تو لکھنوگھنٹہ گھر کو شاہین باغ بنا دیا کہ آپ اپنی سودھا کے انوسار اپنی لگزری گاڑی سے اپنے لاہ ولشکر کے ساتھ آینگے مگر آپ بھی اپنی بوا کی راہ پر چلتے ہوئے دوری بنائے رکھی تاکہ کو تشٹی کرن کا لاچھن نہ لگا پائےخیر آپ تو دہلی کبھی کبھی جاتے ہیں آپ ایک چاچا بھی دہلی میں رہتے ہیں پروفیسر بھی ہیں انہیں تو سی اے اےکے خلاف ایک چھینک بھی نہیں آئی کم از کم کسی سیمینار کے بہانے جامعہ ملیہ چلے گئے ہوتے مگر انکی بھی کچھ  مجبوری رہی ہوگی ۔

یونھی کوئی بے وفا نہیں ہوتا 
اکھلیش جی میں سنا ہے لوگ آپ کو ٹیپو بھی کہ کر پکارتے ہیں اور تو مجھے امید جگی کی جب انگریزوں نے بھارت پر قبضہ کیا تھا تو سب سے پہلے شیر میسور ٹیپو سلطان نے ان سے مقابلہ کیا تھا مجھے بھی لگا کوئی حکومت وقت کو ئی بھی قانون بنالے یو پی میں ایک ٹیپو ہے مگر آپکی خاموشی نے میرے سارے خواب چکنا چور کردئے ٹیپو نام رکھ بھی حکومت وقت کا اتنا خوف کہ آج اسکے پارٹی کا سب بڑا چہرہ جو ہر وقت میں سماج واد کی قسمیں کھاتا تھا آج جیل کی سلاخوں میں ڈال دیاجاتا اور سارے سپائی خاموش تماشائی بنے رہے آج اسکا کوئی پرسان حال نہیں اکھلیش جی وقت کا پہیا کب گھوم جائے کسی کو معلوم نہیں یہ عوام کب گدی سے ردی اور ردی سے گدی پر بٹھا دیتی ہے آپ کو پتہ نہ چلے گا۔

صرف نام رکھ لینے سے کوئی ٹیپو سلطان نہیں بن جاتا
آگر سیاست میں رہنا ہے تو دورنگی چھوڑ کر ایک رنگ پر آجائے کھل کر میدان میں آئیے اپنی پارٹی کے لوگوں کو ساتھ میں لیکر یوپی کے عوام کے دکھ درد میں شامل ہوئے  این پی آر کیا کرنا اپنی پارٹی ضلع صدر بلاک لیول کے لیڈروں کو کھلا میسج دئیجے  نہیں تو تاریخ بننے میں دیر نہیں لگے گی۔

No comments:

Post a Comment

Post Top Ad