تازہ ترین

Post Top Ad

بدھ، 20 مئی، 2020

ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

تحریر: محمد شعیب رضا نظامی فیضی ایڈیٹر:ہماری آواز، گولابازار، گورکھ پور
پوری دنیا کو اپنی زد میں لے چکے کورونا وائرس ۹۱۰۲ کی پیدائش چین کے ووہان نامی شہر میں ہوئی، یہ وائرس ووہان سے نکل چین کے شہروں کی سیر کرتے کرتے کب اس کی سرحد عبور کرگیا کسی کو پتہ نہیں، اٹلی اور امریکہ وغیرہ سمیت وطن عزیز ہندوستان میں اس نے کب قدم رکھا یہ بھی ایک معمہ ہی ہے البتہ اس کی تشخیص سب سے پہلے رواں سال ۰۲/ جنوری کو ہوئی۔ اس وقت چین میں ایک بڑی تعداد کورونا سے نہ صرف متأثر ہوئی تھی بلکہ ہزاروں موت کے گھاٹ اتر چکے تھے، یہی حال اٹلی، امریکہ، اور روس جیسے ممالک کا تھا، کہ دنیا کورونا کی تباہیوں کا منظر دیکھ چکی تھی، مگر افسوس کہ دو مہینے کی مدت تک ہمارا ملک سی۔اے۔اے۔، این۔آر۔سی۔ اور این۔پی۔آر۔ میں الجھا ہوا تھا، حکومت خواب خرگوش کے مزے لے رہی تھی، دہلی میں اپنے حقوق اور جمہوریت کی حفاظت کے مظاہرین پر گولیاں چلائی جا رہی، لاٹھیاں برسائی جارہی تھی، اور سب سے بڑی بات کہ جب پوری دنیا نے اپنی سرحدوں کو سیل کردیا تھا اس وقت ہمارے ملک میں ”نمستے ٹرمپ“ کی رنگ رلیاں منائی جارہی تھیں۔ اس عرصہ میں ۰۶۳/ افراد کو کورونا نے اپنے چنگل میں لے لیا، تب جاکر کہیں حکومت کی نیند ٹوٹی اور اس نے ۲۲/مارچ کو ۴۱/ گھنٹے کا عوامی کرفیو کا اعلان کیا،  ایک روز بعد ۱۲/ دنوں کے مکمل لاک ڈاؤن کا فرمان جاری ہوا، جس میں ۹۱/ اور ۴۱/ دنوں کی توسیع ہوئی، یعنی کل ملاکر اب تک کچھ کم دوماہ گزر چکے ہیں جو لاک ڈاؤن کی نذر ہوگئے۔ اور ابھی حالیہ دنوں میں ملک کے وزیراعظم مسٹر مودی جی نے ۷۱/ مئی کے بعد بھی لاک ڈاؤن کو آگے جاری رکھنے کا اعلان کیا،معتبر ذرائع کے مطابق چوتھا لاک ڈاؤن ۱۳/مئی تک جاری رہے گا۔

غور طلب بات یہ ہے کہ اب تک لاک ڈاؤن کے تین مرحلے گزر چکے ہیں اور تینوں مرحلوں کے درمیان تسلسل بھی برقرار رہا ہے، یعنی بلاناغہ پے در پے لاک ڈاؤن ہوا مگر اس کے باوجود کورونا کے مریضوں میں اضافہ ہی ہوتا رہا۔۲۲/ مارچ کو جب عوامی کرفیو کا اعلان ہوا تب کورونا متأثرین کی تعداد فقط تین سو ساٹھ(۰۶۳) تھی، ۴۲/ مارچ کو جب لاک ڈاؤن کے پہلے مرحلے کا پہلا دن تھا، اس وقت مریضوں کی تعداد پانچ سو انیس(۹۱۵) تھی، اس کے بعد جب پہلا مرحلہ ختم ہوا تب مریضوں کی تعداد بڑھ کر دس ہزار آٹھ سو پندرہ(۵۱۸۰۱) ہوگئی، یعنی ۱۲/ دنوں تقریبا میں دس ہزار تین سو نئے مریض! پھر جب لاک ڈاؤن کا دوسرا مرحلہ ختم ہوا یعنی ۳/ مئی کو تب تک مریض کی تعداد چالیس ہزار کا اعداد وشمار عبور کرچکی تھی، ان ۹۱/ دنوں میں انتیس ہزار سے زائد نئے مریضوں کے ساتھ کورنا متأثرین کی تعداد چالیس ہزار دو سو ترسٹھ(۳۶۲۰۴) ہوگئی۔ اس کے بعد بھی یہ سلسلہ رکا نہیں بلکہ پہلے سے بھی تیز رفتار ہوتا گیا اور لاک ڈاؤن کے تیسرے مرحلے کے اختتام تک کورونا متأثرین کی کل تعداد پنچانوے ہزارچھ سو چوسٹھ(۴۶۶۵۹) ہوگئی اور تادم تحریرایک لاکھ چھ ہزار آٹھ سو چھیاسی(۶۸۸۶۰۱) مطلب یہ ہوا کہ گزشتہ سترہ دنوں میں حیرت انگیز پینسٹھ ہزار سے زائد نئے مریض سامنے آئے۔ اس کے ساتھ ہی اب تک اس مہلک وبا سے مرنے والوں کی کل تعداد تین ہزار تین سو تین(۳۰۳۳) ہوچکی ہے جو لاک ڈاؤن کے پہلے دن یعنی ۴۲/ مارچ کو فقط دس(۰۱) تھی۔ اس اعداد وشمار سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ جیسے جیسے لاک ڈاؤن بڑھتا گیا ہے ویسے ویسے کورونا متأثرین کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا، مگر۔۔۔۔  ع

ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
اس کے ساتھ یہ بھی سوال قائم ہے کہ اب تک کورونا کے کم وبیش پنچانوے ہزار متأثرین میں سے کتنے صحت یاب ہوئے؟ تازہ ترین اعداد وشمار کے مطابق اب تک بیالیس ہزار تین سو نو(۹۰۳۲۴) متأثرین صحت یاب ہوئے ہیں جو کہ فقط ۵۴ فی صد ہے!!!جب کہ کامیابی اس وقت ہے جب ۰۷ فی صد متأثرین صحت یاب ہونے لگیں۔مذکورہ سبھی اعداد وشمار کو سامنے رکھیں تو نتیجہ کچھ یوں سامنے آتا ہے کہ جب لاک ڈاؤن کا آغاز ہوا اس وقت تقریبا پانچ سو افراد کورونا سے متاثر تھے اور آج جب کہ ہم گزشتہ دو ماہ سے کام کاج چھوڑ کر گھروں میں بیٹھے ہیں، لاک ڈاؤن کا چوتھا مرحلہ شروع ہوچکا ہے جو ابھی مزید ۱۱/ دنوں تک جاری رہے گا اس وقت کورونا متاثرین ایک لاکھ کی تعداد عبور کر چکے ہیں۔ اسی طرح جب لاک ڈاؤن کا آغاز ہوا اس وقت کورونا سے مرنے والوں کی تعداد فقط دس(۰۱) تھی اور آج تین ہزار سے زائد ہوچکی ہے۔ مطلب صاف ہے کہ لاک ڈاؤن کا فائدہ بہت کم ہوا؛ جس طرح کورونا کا مرکز کہے جانے والے شہر ووہان میں لاک ڈاؤن کا فائدہ ہوا یعنی دو ماہ تک لاک ڈاؤن جاری رہنے پر مثبت نتیجہ سامنے آگیا اور ڈھائی مہینے کے اندر اندر پورا شہر کورونا سے پاک ہوگیا مگر افسوس کہ ہمارے ملک میں ایسا کچھ بھی نہیں ہوا اور نہ مستقبل قریب میں اس کے آثار نظر آرہے ہیں، کیوں کہ ہمارے ملک میں کورونا سے جنگ جیتنے کے لیے صرف اور صرف لاک ڈاؤن کا سہارا لیا گیا، اور وہ بھی غیر ذمہ دارانہ طریقہ سے کہ کہیں زبردست سختی کی گئی تو کہیں خوب چھوٹ دے دی گئی، کہیں خورد ونوش کے ضروری اشیا لانے کی غرض سے باہر نکلنے پر لاٹھی برسائے گئے تو کہیں مورتی وسرجن اور پوجا کے نام پر گھر سے باہر نکل کر ہزاروں کی تعداد میں اکٹھے ہونے پر انتظامیہ منہ تکتی رہی، اس کے ساتھ ہی میڈیا، انتظامیہ اور حکومت کی دورخی پالیسی نے انتہا کردی جب مدھیہ پردیش میں بی۔جے۔پی۔ کی حکومت اقتدار میں آئی تو سینکڑوں لوگ حلفیہ مجلس میں اکٹھا ہوئے، جب اترپردیش میں وزیراعلی نے ایودھیا مندر میں مورتی رکھی تو بھی سینکڑوں لوگ ان کے ساتھ شریک ہوئے مگر کسی کی مجال کیا کہ اس پر انگشت نمائی کی جرأت کرسکے، ہاں! جب تبلیغیوں کے مرکز میں لوگ پھنسے ملے تو انھیں کورونا جہادی اور مجرموں کی طرح چھپا ہواضرور بتایا گیا لیکن وہیں کئی ایک مندروں میں لوگ ملے تو انھیں جبوروں کی طرح پھنسا ہوا دکھایا گیا، جب (کوٹہ) ہاسٹل میں امیر گھروں کے بچے پھنسے تو حکومت نے انھیں گھر پہنچانے کا انتظام کیا مگر جب اپنے گھروں سے دور بے چارے مزدور پھنسے تو انھیں مرنے کے لیے راستے پر چھوڑ دیا گیا۔ خیر جو ہوا سو ہوا، سوال یہ ہے کہ کیا اب بھی حکومت کو صرف اور صرف لاک ڈاؤن پر منحصر ہونا چاہیے یا پھر دوسرے تدابیر بروے کار لانی چاہیے! اور سب سے اہم بات کورونا ویکسین کی تلاش وجستجو پہ توجہ دینی چاہیے کیوں کہ
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad