تازہ ترین

Post Top Ad

بدھ، 13 مئی، 2020

اگرمدرسۃ البنات کھولوگے تو سرپکڑپکڑکرروؤگے

مفتی خلیل الرحمن قاسمی برنی 
 عارف باللہ حضرت مولاناحکیم اخترصاحب قدس سرہٗ کے پاس جنوبی افریقہ کے کسی مدرسۃ البنات سے فارغ التحصیل ایک عالمہ نے خط لکھا۔یہ عالمہ اب کسی مدرسہ میں تدریس بھی انجام دے رہی تھیں یعنی اب وہ معلمہ بھی تھیں انہوں نے خط میں لکھا کہ دورانِ تعلیم ان کا کسی لڑکے سے حرام تعلق عشق مجازی کا ہوگیا تھا،یہاں تک کہ چھپ کر ملتے تھے،اوراس ملنے میں گناہ گبیرہ کی بھی نوبت آگئی تھی۔بالآخر گھروالوں کو پتہ لگاتو انہوں نے ملاقاتوں پر سخت پابندی عائد کردی۔دونوں اب گناہ سے توبہ کرکے شرعی طریقے سے نکاح کرکے پاک زندگی گذارنا چاہتے ہیں،لیکن لڑکی کے گھر والے لڑکے کو داماد بنانے کے لئے تیار نہیں۔اس لڑکی نے لکھا کہ ”میرے والدین کو معلوم ہے کہ میں اس مسئلے کے بارے میں آپ ہی سے پوچھوں گی،وہ بھی آپ کے جواب کاانتظارکررہے ہیں۔میرا دل چاہتاہے کہ میں اس سے شادی کرلوں۔لیکن معلوم نہیں آپ کے نزدیک اس مسئلے کا صحیح حل کیا ہے۔میں آپ سے بھیک مانگتی ہوں کہ میرامسئلہ حل فرمائیے“۔
 حضرت حکیم صاحب قدس سرہٗ نے جواب میں ارشادفرمایا:  یہ سب مدرسۃ البنات کا شاخسانہ ہے۔حضرت حکیم الامت تھانوی نوراللہ مرقدہٗ نے آج سے تقریباً سوسال پہلے فرمایاتھا کہ:اگر مدرسۃ البنات کھولوگے تو سر پکڑکرروؤگے۔ یہ سب دین پر عمل نہ کرنے اوربے پردگی کا نتیجہ ہے۔نامحرم کو دیکھنا،ملنا،بات کرنا سب حرام ہے۔لیکن جب یہ ہوگیا بلکہ گناہ کبیرہ تک نوبت پہنچ چکی ہے تو اس کا علاج نکاح ہے۔حدیث پاک میں ہے کہ اگر مردوعورت میں عشق ہوجائے تو ان کا نکاح کردو۔والدین کو بھی اس پر راضی ہوجاناچاہیے،کیوں کہ اگر نکاح نہ کیا اوردونوں پھر گناہ میں مبتلاہوئے تووالدین بھی گنہ گار ہوں گے۔

 اسی طرح حضرت مولاناحکیم محمد اختر صاحب قدس سرہٗ کے پاس ان کے ایک خلیفہ و مجاز کا حیران کن خط آیا۔یہ خلیفہءمحترم ایک مدرسۃ البنات میں پڑھاتے تھے اورپڑھانے کے دوران اپنی ایک شاگردہ کے عشق میں گرفتار ہوگئے وہ شاگردہ بھی استاذمحترم کے عشق میں ان سے بھی زیادہ وارفتہ ہوگئیں۔خلیفہءمحترم شادی شدہ تھے اوران کی تین بچیاں تھیں پھر جب شادی تک بات پہنچی تو انہوں نے مناسب سمجھا کہ شیخ قدس سرہٗ کو اطلاع دے کر اجازت لے لی جائے،اجازت لینے کے سلسلے میں انہوں نے جو خط لکھا وہ اس طرح ہے۔”پریشانی یہ ہے کہ ایک لڑکی جو کہ بندہ کی شاگردہ بھی ہے (کیوں کہ کسی وقت بندہ ایک مدرسۃ البنات میں پڑھاتا تھا مگر اب نہیں پڑھا رہا)اوروہ لڑکی  مریدہ بھی ہوگئی تھی۔اس کے گھر والوں کی طرف سے باربار یہ تقاضا آرہاتھا کہ کسی عالم سے اس کا رشتہ لگادیں تو بندہ نے دوتین جگہ پر بات بھی کرائی مگر رشتہ نہ بن سکا۔البتہ اس لڑکی کے دنیادار رشتے بھی آرہے تھے مگر وہ رشتہ دینے کو تیار نہیں ہوتے تھے۔لڑکی کے دوبھائی بھی میرے مرید ہیں ان میں سے ایک شاگرد بھی ہیں،تو میں نے ان کے دینی جذبات کو سامنے رکھتے ہوئے اورلڑکی کے بظاہر اچھے حالات سامنے رکھتے ہوئے  لڑکی کے بھائی کو نکاح کا پیغام اپنے لئے بھجوایاتو انہوں نے اپنے طورپر استخارے بھی کئے تو اچھے نتائج و ثمرات سامنے آئے۔میری غرض اس رشتہ سے یہ تھی کہ باصلاحیت لڑکی ہے اس کے ذریعہ مستورات میں خانقاہ کا نظام یا اگر مدرسہ کی ترتیب بنی تو یہ سنبھال لیں گی اورمیں خود اس ذریعہ فتنہ  ئ نساء سے اسباباً محفوظ رہ سکوں گا ۔تو رشتے کی بات جب چلی تو میں نے اپنی پہلی گھروالی سے اجازت لی تو انہوں نے خوشی سے اجازت دے دی (بندہ کی چھوٹی سی تین بچیاں بھی ہیں)البتہ بندہ کے سسرالی قدرے ناراض ہوئے ہیں۔

 اب حضرت! خلاصہ یہ ہے کہ جن لوگوں سے دوسرے رشتہ کی بات ہوئی ہے وہ ذہنی طورپر شدت سے تیارہیں خاص کروہ شاگردہ،مریدہ لڑکی ذہنی طورپر شدت سے تیار ہے،اس کا بھائی بتارہاتھا وہ وظائف بھی کررہی ہے اورروروکر اللہ تعالیٰ سے دعا بھی کرتی ہے کہ”اے اللہ میں آپ کو پانے کے لئے کسی کو پانا چاہتی ہوں،اگر مقدرمیں نہیں تو مقدر فرمادے“اورذہنی طورپر کافی درجہ تک میں بھی رشتہ لینے کے لئے تیار ہوں،پہلے اطلاع نہ دےسکا،معافی چاہتاہوں اب اگر رشتہ نہیں لیتا تو خطرہ ہے کہ ان لوگوں کو خاص کر لڑکی کو کوئی دماغی اثر نہ ہوجائے۔اگر نہ لوں تو ساری صورتحال کے پیش نظر کیاکروں،اگر لوں تو کس طرح کروں،معافی چاہتاہوں معاف فرمادیں۔جواب کا شدت سے منتظر ہوں تاکہ پریشانی دورہو“۔

 حضرت حکیم صاحب قدس سرہٗ کا جواب 
 اللہ رب العزت اپنے اولیاء اورمقربین کوخاص فراست اورارشاد ی صلاحتیوں سے نوازتے ہیں۔یہ صلاحیتیں ان کو من جانب اللہ عطاہوتی ہیں۔حضرت صاحب قدس سرہٗ بھی ایسے ہی صاحب فراست اورصاحب ارشاد عالم ربانی تھے۔انہوں نے اپنے ان خلیفہ ئ محترم اورمسترشد خاص کے خط کے جواب میں جو ہدایت ارشاد فرمائی وہ بہت سبق آموز ہے۔آپ نے فرمایا: جب بیوی موجود ہے تو کیا یہ فتنہ نساء سے اسباب ِحفاظت میں سے نہیں ہے؟اس زمانے میں دوبیویوں میں عدل کرنا تقریباً ناممکن ہے۔اکثر دیکھنے میں آتاہے کہ زندگی تلخ ہوگئی اورآخرت کے مواخذہ کا اندیشہ الگ۔اس زمانے میں ایک ہی بیوی کاحق اداہوجائے تو غنیمت ہے،مستورات میں خانقاہی کام اورمدرسہ کی ترتیب بھی نفس کا بہانہ معلوم ہوتاہے۔تعجب ہے کہ مشورہ بھی نہیں کیا شاید اس لئے کہ مشورہ میں احتمال تھا کہ آپ کی رائے کے خلاف ہوتا۔مشائخ کا کام دین کا کام کرنا اورلوگوں کو اللہ والا بنانے میں اپنے اوقات کو صرف کرنا ہے نہ کہ شادیاں کرنا۔مشورہ تو پہلے کیا جاتاہے،موجودہ صورت میں یہی کہاجاسکتاہے کہ ابھی کچھ نہیں بگڑا،خود کو فتنہ میں نہ ڈالیں یعنی دوسری شادی ہرگز نہ کریں۔

 حضرت حکیم صاحب قدس سرہ کی مدرسۃ البنات سے متعلق قیمتی نصائح 
 ارشاد فرمایاکہ اگرلڑکیوں کا مدرسہ کھولنا ہے تو نہایت تقویٰ سے رہنا پڑے گا،اپنی بیوی یا کسی محرم یعنی سگی بہن،والدہ،خالہ وغیرہ سے مدرسہ کا انتظام کراؤ۔عورتوں کا عورتوں ہی سے رابطہ رہے۔خود بالکل الگ رہو اوراگر اتنی ہمت اورتقویٰ نہیں ہے تو مدرسہ بند کردو۔دوسروں کو جنتی بنانے کے لئے خود جہنم کا راستہ اختیار کرنا کہاں کی عقلمندی ہے کہ ہمارے ذریعہ سے دوسرے تو جنت میں پہنچ جائیں اورہم نافرمانی سے جہنم میں چلے جائیں۔نفع لازم مقد م ہے نفع متعدی سے۔پہلے خود اللہ والے بنو،یہ فرض ہے،تقویٰ فرض عین ہے اورمدرسے کھولنا فرض کفایہ۔عالم بننا،حافظ بننا سب فرض کفایہ ہے فرض عین نہیں ہے۔آج مدرسوں میں فرض کفایہ کی فکر ہے کہ خود مدرسے کھولو۔خوب حافظ وعالم بناؤ لیکن یہ بتائیے مدرسہ کھولنے والوں کے ذمہ اساتذہ اورطالب علموں کے ذمہ تقویٰ سیکھنا فرض عین ہے یانہیں؟لیکن اس راستہ میں کیوں کہ مشکل نظرآتی ہے نفس کو مارناپڑتاہے حرام کو چھوڑنا پڑتاہے اس لئے فرض عین کو چھوڑدیا اورفرض کفایہ کے پیچھے بھاگے جارہے ہیں۔جب تقویٰ نہیں تو حدودکی پابندی کیسے ہوگی؟ لہذا یہ بات کہتاہوں کہ: اگر  انتہائی تقویٰ،انتہائی احتیاط اورخوف خدا کے ساتھ لڑکیوں کے مدرسے چلاسکتے ہو تو فبہا ورنہ ان مدرسوں کو بند کردو۔مدرسہ سے مقصود جنت میں جاناہے نہ کہ جہنم میں۔

کوئی مرد انتظامی غرض سے بھی لڑکیوں اوراستانیوں سے براہ راست خطاب نہ کرے۔دیکھنا تو حرام ہے ہی ان سے پردہ سے بات کرنا بھی فتنہ سے خالی نہیں ہے۔جو بھی ہدایات،تنبیہات،انتظامی معاملات وغیرہ ہوں اپنی محرم کو لکھ کردے دے،وہ جاکر ان کو سمجھادے اورعمل کرائے۔خود ان سے بات نہ کرے۔عورتوں کی آواز میں کشش ہوتی ہے،اسی لئے قرآن پاک میں حکم ہواکہ اے نبی کی بیبیو! جب صحابہ کسی ضرورت سے مثلاً سودا وغیرہ لانے کے لئے تم سے کوئی بات کریں فلاتخضعن بالقول تو تمہاری آواز میں تمہاری فطری نسوانی لچک بھی نہ رہے بلکہ بہ تکلف آواز بھاری کرکے بات کرو۔اس آیت کا یہ مطلب نہیں کہ نعوذباللہ! ازواج مطہرات ؓ نرم آواز میں گفتگوکرتی تھیں بلکہ یہ مطلب ہے کہ عورتوں کی آواز میں ایک فطری نسوانی لچک ہوتی ہے اس کو فرمایاکہ اپنی فطری آواز میں بات نہ کرو بلکہ بہ تکلف آوازکو ذرا بھاری کرکے گفتگو کرو۔ 

 حضرت حکیم صاحب نوراللہ مرقدہ نے اپنا ایک واقعہ سنایا :
 ایک لڑکیوں کے مدرسہ میں گیا اورچشم دید دیکھا کہ مہتمم صاحب سرمہ لگائے ہوئے اورپان کھائے ہوئے بالغ لڑکیوں کے کمرے میں جارہے ہیں اورپوچھ رہے ہیں کہ آپ لوگوں کوکوئی ضرورت تو نہیں ہے؟ میں نے کہاکہ آپ کمرے میں جاجاکر کیوں پوچھتے ہیں؟ کیا آپ کے لئے پردہ معاف ہوگیا ہے؟ بعد میں اس بستی کے لوگوں سے معلوم ہواکہ مہتمم صاحب رات کو مدرسہ ہی میں ہوتے ہیں اورمدرسہ میں جس عورت کو نائب مہتمم رکھا ہے اس کا کمرہ مہتمم صاحب کے کمرے سے ملاہواہے اوربیچ میں ایک دروازہ ہے۔اسی لئے میں کہتاہوں کہ مخلوق کے نفع کی خاطر اپنے لئے دوزخ کا راستہ مت اختیار کرو۔نہایت بین الاقوامی گدھا اوربے وقوف ہے وہ شخص جو دوسروں کو نفع پہنچانے کے لئے اپنے واسطے دوزخ کا راستہ بنارہاہے۔ایسے نفع متعدی پر لعنت بھیجو جس سے تمہارانفع لازمی برباد ہوجائے

 لڑکیوں  کے مروجہ مدارس للبنات کی اصلاح کے سلسلے میں قیمتی ہدایات . 
 ارشاد فرمایاکہ(۱) جنوبی افریقہ،ہندوستان،ری یونین وغیرہ میں مدرسۃ البنات کا جائزہ لینے سے معلوم ہوا کہ احتیاط اسی میں ہے کہ لڑکیوں کا دارالاقامہ قائم نہ کیا جائے۔اس میں بڑے فتنے ہیں۔لڑکیاں دن میں پڑھ کر اپنے گھر کو چلی جائیں (۲)معلمات صرف خواتین ہوں جو لڑکیوں کو پڑھائیں۔مرد معلمین پردہ سے بھی تعلیم نہ دیں۔اس میں بڑے فتنے سامنے آئے ہیں (۳)خواتین استانیوں سے مہتمم پردہ سے بھی بات چیت یا کوئی ہدایت براہ راست نہ دے،اپنی بیوی،خالہ یا بیٹی سے استانیوں کو ہدایات اورتنخواہ وغیر ہ کا اہتمام ضروری ہے۔مہتمم اوراولاد مہتمم اورمرد استاذ کے براہ راست بات چیت کرنے سے مدرسۃ البنات کے بجائے عشق البنات میں ابتلا کا اندیشہ ہے(۴) کوشش کی جائے کہ پانچ سال سے نوسال تک کی عمر کی طالبات کو ناظرہ قرآن پاک،حفظ قرآن پاک اورتعلیم الاسلام کے چار حصے اوربہشتی زیور تک تعلیم پر اکتفاکیا جائے۔اگر عالمہ نصاب پڑھاناہوتو عربی کی مختصر نصاب سے تکمیل کرائیں مگر شرعی پردہ کا سخت اہتمام ضروری ہے ورنہ لڑکیوں کے لئے بہتر یہ ہے کہ ناظرہ قرآن پاک،بہشتی زیور،حکایات صحابہ ؓ وغیرہ پر اکتفا کیاجائے اورمعلمات خواتین بھی باپردہ ہوں (۵) عالمہ نصاب کی لڑکیوں کو شوہر کے حقوق وآداب کا اہتمام سکھایاجائے اورعالم شوہر کی تلاش ان کے لئے ہوورنہ اگرغیر عالم ہوتو دین دارہونے کی شرط ضروری ہے خواہ ڈاکٹر یا انجینئر ہو(۶)پورے مدرسۃ البنات میں عورتوں کا رابطہ صرف عورتوں سے رہے،مہتمم اپنی محرم(بیوی،والدہ یا بہن)سے دریافت ِحال تعلیمی یادریافتِ حال انتظامی کرے۔ اگر اتنی ہمت نہ ہوتو مدرسۃ البنات مت قائم کروواورمدرسہ بند کردو۔دوسروں کے  نفع کے لئے خود کو جہنم کی راہ پر مت ڈالو۔مخلوق کے نفع کے لئے لڑکیوں یا عورتوں کو پڑھانایا پردہ سے بھی بات چیت کرنافتنہ سے خالی نہیں۔تجربہ سے معلوم ہوا کہ پردہ سے گفتگو کرنے والے بھی عشقِ مجازی میں مبتلاہوگئے،لہذا سلامتی کی راہ یہ ہے کہ خواتین سے ہر طرح کی دوری رہے۔

حضرت حکیم صاحب قدس سرہ کے ان ارشادات کی روشنی میں یہ بات زیادہ درست معلوم ہوتی ہے کہ لڑکیوں کے مدارس اگر ہوں تو غیر اقامتی ہوں یا پھر وہ تمام احتیاط پیش نظر رہنی چاہئیں جو حضرت والا قدس سرہ نے ارشاد فرمائی ہیں. اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ مدرسہ البنات چلانے والے احتیاط والے باب میں بہت کمزور رہتے ہیں. اس سے جو نتائج بر آمد ہوتے ہیں وہ پوری قوم کیلئے مہلک اور خطرناک ہو تے ہیں. میں نے خود بعض ایسے مہتمم حضرات کو ان کے مدرسہ بنات میں بے احتیاطی کے ساتھ دیکھاہے. خاص طور پر مراہقات لڑکیوں سے تو پردہ بلکل ہی نہیں کیا جاتا .بہت ہی تدبر کی ضرورت ہے. اللہ حفاظت فرمائے آمین
ناقل جمیل الرحمن شفیق برنی

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad