تازہ ترین

Post Top Ad

منگل، 19 مئی، 2020

اجمیر درگاہ کو بم سے اڑانے کی سازش ’سنا تن دھرم‘ کے اراکین کیخلاف شکایت درج

اجمیر(یواین اے نیوز19مئی2020)سوشل میڈیا پر مذہبی منافرت پھیلانے کے الزام میں بھارت مکتی مورچہ کے عہدیداران نے ٹیلیگرام پر ’’ سناتن دھرم‘‘ نامی گروپ کےاراکین کے خلاف پین پولیس اسٹیشن میں تحریری شکایت درج کر وا کر اشتعال انگیز بات چیت کے ثبوت بھی پولیس کو پیش کئے اورمسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کر نے والوں کے خلاف سخت کاروائی  کا مطالبہ بھی کیا۔کورونا وبائی بیماری  کے بہانے  مسلمانوں کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ  کئے جانے کے درمیان یہ ایک نیا سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا ہے۔ ضلع رائے گڑھ کے شہر پین میں ٹیلیگرام نامی سوشل سائٹ پر سناتن دھرم نامی گروپ کے ومل کمار، اُپانشو اگروال ، روہت اگروال ، نتن شر ما، پر کاش کمار نامی ممبراس نے آپسی بات چیت کے دوران انتہائی اشتعال انگیز ی کا مظاہرہ کر تے ہوئے درگاہ اجمیری کو بم سے اڑا نے کی سازش تک کر ڈالی۔ 

اس ضمن میں رائے گڑھ بھارت مکتی مورچہ کے صدر وجے آوسکر نے انقلاب کو بتایا کہ اُن کے ایک ساتھی نے ۵؍ مئی ۲۰۲۰؍ کو سناتن دھرم نامی گروپ کے ممبرس کی آپسی گفتگو کی چند پوسٹ انہیں بتائی جس میں روہت اگروال اپنے ساتھیوں سے کہتا ہے کہ ’’ راجستھان میں ہی ہے نا اجمیر،توڑ نا شروع کرو۔اجمیر در گاہ مُلا ؤں کا ، دھماکہ کردو پلان کر کے ، پھر کہنا کہ کورونا کی وجہ سے تبلیغی چھپے تھے ، اس لئے عوام کی حفاظت کیلئے اڑا دیا۔‘‘  وجے آوسکر نے مزید بتایا کہ اُپانشو اگروال مسلمانوں کے تئیں نفرت انگیزی کا مظاہر ہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ مسلمانوں کی مذہبی کتابوں کا مطالعہ کرو، اور ان کو ہی آپس میں لڑا کر شکست دی جا سکتی ہے ۔ شیعہ ، سنی  کی تھوڑی سی جانکاری لے لو  بس! 

بھارت مکتی مورچہ کے ضلعی کنوینر پر بھاکر موکاشی نے بتایا کہ پر کاش کمار گپتا نامی شخص گروپ میں موجود اپنے ساتھیوں کو اکساتے ہوئے کہتا ہے کہ’’ مسلمانوں کا قتل کر نا شروع کردو ،سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹو ٹے۔‘‘ علاوہ ازیں نتن شر مانامی شخص مسلمانوں کا معاشی بائیکاٹ کر تے ہوئے اُن سے کوئی بھی اشیاء نہیں خر ید نے کی وکالت کرتا ہے۔بقول پر بھاکرموکاشی ہم نے پین پولیس اسٹیشن میں تحریری  شکایت در ج کر کے سنا تن دھرم گروپ میں اشتعال انگیزی کر نے والے اراکین کے خلاف آئی پی سی ۱۲۰؍ بی، ۱۵۳؍ اے، ۲۹۵؍ اے ، اور انفارمیشن ٹکنالوجی ایکٹ ۲۰۰۰؍ ۶۶؍اے کے تحت کاروائی کا مطالبہ کیا ہے نیز پولیس کو ثبوت اور شواہد کے طور پرا شتعال انگیز پوسٹ کا ویڈیو بھی دیا ہے۔
بشکریہ انقلاب

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad