تازہ ترین

Post Top Ad

جمعہ، 22 مئی، 2020

انجمن خیرالاسلام کرلا کے سابق ہیڈ ماسٹر صغیر احمد صاحب سپردخاک ،علمی شخصیات کا اظہار افسوس

جونپور۔اسماعیل عمران(یو این اے نیوز22 مئی 2020)ریاست مہاراشٹر کا مشہور وادبی اسکول انجمن خیر اسلام  کرلا کے سابق ہیڈ ماسٹر جناب صغیر احمد صاحب کا پیر کے روز مغرب کے وقت ممبرا میں کئی دنوں کی علالت کے بعد انتقال ہوگیا،انا للہ وانالیہ راجعون،مرحوم کو  منگل کی صبح 8بجے ممبرا کی قبرستان میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے چند احباب کی موجودگی میں نم آنکھوں  سے سپردخاک کردیا گیا،وہ  74سال کے تھے ،پسماندگان میں چار لڑکے اور دو لڑکیاں ہیں۔انکی اہلیہ کا بھی کئی سال قبل انتقال ہوگیا تھا،جسکی وجہ سے وہ اپنے زندگی میں بہت تنہائی محسوس کرنے لگے تھے،انکے ایک بھائی حافظ ذوق صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا بہت پہلے ہی  انتقال ہوچکا تھا۔

چھوٹے بھائی  اپنے آبائی ضلع جون پور  کے گاؤں بھڑ کڑہاں  میں ہی قیام پذیر ہیں۔ماسٹر مرحوم  نے اپنی تعلیمی زندگی کا سفر اپنے آبائی گاؤں بھڑ کڑہاں ہی سے شروع کیا اور ضلع کے مشہور  ،ٹی ڈی کالج سے (بائیلوجی اینڈ ملٹری سائنس)میں  بی ایس سی کیا جسکے بعد وہ ممبئی کا رخ کیا جہاں پر انکا انجمن خیر اسلام اسکول  تھانہ ممبئی میں بطور سرکاری ماسٹر کے عہدے پر تقرر ہوا،جہاں پر انھوں نے تدریسی فرائض بحسن خوبی وامانت داری سے  انجام دئے جسکے بعد انتظامیہ نے انکی  قابلیت اور سینیارٹی کو دیکھتے ہوئے انھیں انجمن خیر اسلام کرلا ممبئی اسکول کا ہیڈ ماسٹر بھی بنایا انھوں نے بطور ہیڈ ماسٹر بھی پوری امانت داری سے اس عہد پر رہ کر کام کیا ،آخر کار 2004میں پورے اعزاز کے ساتھ بطور ہیڈ ماسٹر انجمن خیر اسلام کرلا ممبئی سے ریٹائر ہوئے تھے۔

اس کے بعد بھی  انھوں نے اپنے علمی خدمات کا سفر ممبئی کے ممبرا ہی میں ایک پرائیویٹ انسٹیٹیوٹ میں جاری رکھا،جس سے سیکڑوں طلباء سیراب ہوئے، ماسٹر صغیر  صاحب مرحوم کے جونئیر جناب ماسٹر اعجاز صاحب سابق ٹیچر انجمن  خیر اسلام  نے کہا انکی موت ہم سے سب کے لئے کسی صدمہ سے کم نہیں ہے،وہ ایک ملنسار اور رحم دل انسان تھے وہ معاملہ فہم انسان تھے ،وہ نیک طبیعت کے مالک تھے ،وہ ہر کسی کا بھلا چاہتے تھے،اسٹاف کے ساتھ انکا معاملہ بہت  مشفقانہ تھا ،ماسٹر صاحب نے یو این اے نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بطور ہیڈ ماسٹر رہتے ہوئے انھوں نے کبھی اپنے جونئیر کی شکایت اپنے بڑے ذمہ دراوں سے نہیں کرتے تھے وہ معاملے کو طول دینے سے گریز کرتے تھے۔اسکول کے اسٹاف کی طرف سے دی جانے والی درخواستوں کو اپنے ہی پاس رکھ کر معاملات کو در گزر کرانے کی کوشش کرتے تھے ،ماسٹر  مرحوم  اپنی زندگی کے آخری وقت میں بھی اپنے تئیں طلباء  کو درس دیتے رہے ۔

اسی طرح ماسٹر صغیر صاحب مرحوم کے گاؤں کے رہائشی  مولانا عمران احمد صاحب قاسمی ،نے مرحوم کے انتقال پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے یو این اے نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ماسٹر صاحب صوم وصلاۃ کے پابند تھے علماء کی قدر کرنے والوں میں سے ایک تھے انھوں کہا میری انکی ملاقات مارچ کے پہلے ہفتے میں ممبئی کے ممبرا میں  ہوئی تھی ملاقات درد بھر ے لفظوں سے پر تھی ہمنے انھیں  ہمشیہ  اسلامی وضع قطع میں پایا وہ صوم صلاۃ کے پابند ۔مرحوم کے انتقال سے ممبرا ممبئی سے لیکر انکے آبائی گاؤں بھڑکڑہاں جونپور تک  لواحقین نے بہت افسوس اور غم  کا اظہارکیا ،یو این اے نیوز اللہ سے دعاء گو ہیکہ مرحوم کی بال بال مغفرت فرمائے اور اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے،امین

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad