تازہ ترین

Post Top Ad

بدھ، 20 مئی، 2020

بكرياں چَرانے والا مفتى

از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى آكسفورڈ

مت سہل ہميں جانو، پهرتا ہے فلك برسوں
تب خاك كے پردے سے انساں نكلتے ہيں

 بكرياں چرانے والے پيغمبروں كے بارے ميں آپ كو علم ہوگا، بخارى شريف وغيره كى روايت ميں ہے كه بشمول نبى اكرم صلى الله عليه وسلم كے انبياء عليہم السلام نے بالعموم  بكرياں  چرائى ہيں، گله بانى سے وه جہاں بانى كا ہنر سيكهتے تهے، آج آپ كو بكرياں چرانے والے ايك ايسے ذى علم كى داستان سنانے جا رہا ہوں، جو ايك محقق مفتى، كامياب مدرس، اور جادو بياں واعظ تهے ، وه مفتى صاحب كے نام سے جانے جاتے تهے، جس تندہى سے وه اپنے علمى مشغلوں كو انجام ديتے اسى وارفتگى سے وه بكريوں پر وقت صرف كرتے،  جس طرح وه  طلبه پر شفقت كرتے، سامعين كا خيال كرتے، اور مہمانوں كى خاطر دارى كرتے اسى طرح بكريوں پر بهى جان چهڑكتے، جب كوئى ان سے ملنے آتا تو اگر انہيں ان كے حجره ميں نه پاتا تو اسے يه جاننے ميں دير نه لگتى كه  مفتى صاحب اس وقت بكريوں كے جهنڈ ميں ہوں گے۔

مفتى صاحب بكريوں سے  والہانه باتيں كرتے، ان باتوں ميں حلاوت ہوتى، محبت كى آميزش ہوتى، پيار كا لہجه ہوتا، اور وه بكرياں مفتى صاحب كو ديكهكر  نازنينوں كى طرح ناز كرتيں، اور ادائے دلبرانه سے ان كا استقبال كرتيں، اگر  مجهے بكريوں سے ہمكلامى كا موقع ملتا تو ان سے ضرور پوچهتا كه وه مفتى صاحب كى باتوں كو كتنا سمجهتى ہيں؟ بہر حال خواه وه  بكرياں جملۂ فعليه اور جملۂ اسميه كى تقسيم سے واقف نه ہوں، تاہم جملوں كى شيرينى، نگاه محبت،  انداز الفت، دل نواز مسكراہٹ، اور پيار بهرے ہاتهوں  كے لمس  كو ضرور سمجهتى تهيں، اور اپنے مالك كو  ديكهكر زبان حال سے گويا ہوتيں:

ميكدے ميں تو چند خم ہوں گے
تيرى آنكهوں ميں چشمۂ مے ہے

 يه ہيں ميرے گاؤں كے رہنے والے مفتى محمد حنيف صاحب رحمة الله عليه، ايك شخصيت منفرد، ايك جہان دانش، ايك گوشه نشين، اور ايك مرجع فقه وفتوى، كسانوں كے ايك غريب گهرانه ميں پيدا ہوئے، بچپن دوسروں كے يہاں مزدورى كرتے گزرا، مجه سے كئى بار فرمايا كه ميرے دادا مرحوم  كے يہاں بهى انہوں نے كام كياتها، جوان ہونے كے بعد علم كى طرف رغبت ہوئى، ضياء العلوم مانى كلاں ميں مولانا عبد الحليم صاحب اور مولانا ضياء الحق صاحب رحمة الله عليهما سے فارسى اور عربى كى  تعليم حاصل كى،  اس دوران حكيم الامت مولانا اشرف على تهانوى رحمه الله كے پاس بيعت واسترشاد كى درخواست پر مشتمل ايك عريضه ارسال كيا،  حكيم الامت نے پيرانه سالى اور بيمارى كى وجه سے معذرت كردى، البته اپنے كچه خلفاء كے نام لكهديئے كه ان ميں سے كسى سے ربط پيدا كرليں،  اور ساته ہى اس كى اجازت دى كه وقتا فوقتا دعا كے لئے خط وكتابت كرسكتے ہيں۔

 ہمارے علاقه ميں اس وقت مولانا تهانوى كے خليفۂ اعظم شاه وصى الله فتحپورى كا شہره تها، مفتى صاحب شاه صاحب كے گاؤں فتحپور پہنچے، اور ان كے پاس  مجاہدانه اٹهاره سال  گزار كر طلب علم اور سلوك كى  منزليں طے كيں، راه كٹهن تهى، ہمت سے كام ليا، لگن اور دهن سے رشته استوار كيا،  شاه صاحب سے اصول سته كى سارى كتابيں پڑهيں،  باره مرتبه صحيح بخارى كى سماعت كى، شاه صاحب حديث شريف ميں مولانا انور شاه كشميرى رحمه الله كے شاگرد تهے۔صحبت كيميا گر نے اثر دكهايا، مس خام كو كندن بنايا، شاه صاحب نے مفتى صاحب كو اجازت وخلافت سے نوازا، ان كے جوہر كو پہچانا اور اپنے پاس روك ليا، تقريبا سوله سال تك شاه صاحب كى خدمت كى اور اله آباد ميں ان كے مدرسه ميں تدريس كے فرائض انجام ديئے،  بعد ميں كئى سال ضياء العلوم ميں پڑهايا، اور سنه 1974 ميں  جب مدرسۂ رياض العلوم گورينى كا وجود عمل ميں آيا تو وہاں منتقل ہوگئے، سالہا سال فقه اور حديث كى اونچى كتابوں كا درس ديا،  بخارى شريف اٹهائيس بار پڑهائى، عمر كے آخرى چند سالوں ميں بيت العلوم سرائے مير ميں تدريس كى خدمات انجام ديں، عمر طويل پائى، بڑهاپے ميں بهى صحتمند تهے، انتقال سے كچه  پہلے  اختلاط ہوگيا، ليكن شديد نہيں، اس حال ميں بهى جب ميں ان سے ملا پہچان ليا، كچه غير مربوط باتيں كرتے، ليكن فرائض وواجبات كى ادائيگى ميں آخر تك نشاط  قائم رہا۔

ضياء العلوم ميں ميں نے دو سال فارسى اور ايك سال عربى پڑهى، اس وقت وه وہاں مدرس اعلى تهے، مشكاة المصابيح وغيره پڑهاتے تهے، ميرا كلاس روم ان كے حجره سے قريب تها، دن ميں بار بار آمنا سامنا ہوتا، اور مجه پر ہميشه شفقت فرماتے، ضياء العلوم ميں مفتى صاحب سے كچه پڑهنے كى نوبت نہيں آئى، جب وه گورينى منتقل ہوگئے تو ميں نے ايك دوسرے مدرسه مولانا آزاد تعليمى مركز ميں داخله لے ليا، كبهى كبهى ملاقات كى غرض سے حاضر ہوتا، ان كى مجالس وعظ ميں شركت كرتا، اور ايك بار رمضان كى چهٹيوں ميں رياض العلوم ميں قيام كيا اور مفتى صاحب سے الگ  سے مشكوة كے كچه ابواب پڑهے، ندوه آجانے كے بعد بهى چهٹيوں ميں وطن جاتا تو مفتى صاحب سے ضرور ملتا، شفقت ومحبت كے كيا لطيف جذبات تهے! محبت سے ہاته پكڑ ليتے اور اپنے كمره ميں لے جاكر كچه نه كچه كهلاتے اور پلاتے، ميں ان كى مجلسوں كا عاشق تها، رمضان ميں ہر روز ظہر سے پہلے گورينى جاتا، ان كا بيان سنتا اور افطارى سے كچه پهلے گهر آتا، مفتى صاحب نے مجهے اور ميرى اولادكو اجازت عامه بهى دى، ميرى بڑى بچى كا نكاح پڑهايا، اور ميرى دعوت پر گاؤں ميں مدرسه محموديه كى تأسيس كى تقريب كى صدارت فرمائى۔

تصوف وطريقت  ميں خلافت ہونے كے باوجود مفتى صاحب نے اس فن كى طرف توجه نہيں،  خانقاہيت ان كے مزاج سے مناسبت نہيں ركهتى تهى،  ان پر علم كا غلبه رہا، پڑهنا پڑهانا ان كا اوڑهنا بچهونا تها، تبحر علم اور وسعت نظر سے متصف تهے، اور بيحد ذہين تهے، ان كى ذاتى لائبريرى منتخب كتابوں كا خزانه تهى، فن تدريس ميں يگانۂ عہد تهے، سارى عمر تدريس ميں گزار دى، سيكڑوں طلبه ان كے فيض تربيت سے علماء بن كر نكلے، مطالعه كركے محنت سے پڑهاتے، تقرير دروس ميں مہارت تامه حاصل تهى، ان كے سبق ميں دل لگتا، اور دلچسپى آخر تك قائم رہتى، درس عالمانه ہوتا، كتاب كے ما له وما عليه كى تشريح كرتے، بين السطور مضامين كو بهى سمجهاتے، كبهى كبهى رقت طارى ہوجاتى تو پهر آنسوؤں كو سنبهال نه پاتے، افسوس كه  ايسے با كمال مدرسين سے دنيا خالى ہوتى جا رہى ہے۔

شعله بيان مقرر تو نہيں تهے، ليكن واعظ سحر آفريں ضرور تهے اور ايك بلبل خوش نوا، ان كے وعظ ميں جو كشش تهى اس كى مثال نہيں،  كسى كے وعظ ميں دل كى وه كيفيت نه ہوتى جو مفتى صاحب كے وعظ ميں  ہوتى، ايك عجيب لطف اور ايك نشه آور سرور، سوتوں كو جگانے اور مرده دلوں كى مسيحائى كے فن سے واقف تهے، احياء العلوم، كيميائے سعادت، مثنوى شريف وغيره كى مدد سے وعظ شروع كرتے، درميان ميں حسب مناسبت  مولانا تهانوى، شاه وصى الله فتحپورى وغيره  كے احوال بيان كرتے، تاريخى قصوں اور مقامى كہانيوں كا بهى حواله ديتے، ايك قصه شروع كرتے، تو اس سے كسى اور قصے ميں منتقل ہو جاتے، پهر كوئى تيسرى حكايت شروع كرديتے، داستان امير حمزه كى طرح ايك كہانى سے دوسرى كہانى نكلتى، يا كليله ودمنه كى طرح الجهتے ہوئے گيسو سلجهتے، بيان زلف محبوب كى طرح دراز اور دلفريب ہوتا، وقتا فوقتا مقامى زبان كو اس طرح استعمال كرتے كه مزه دوبالا ہوجاتا: ہوئى معزولى انداز وادا ميرے بعد بحيثيت مفتى ديار مشرق ميں ان كا طوطى بولتا تها،  فتوى نويسى ان كى قابليت كا سب سے بڑا مظہر تهى، كتب فقه كى جزئيات پر  ان كى وسعت نظر بدرجۂ اتم تهى، اگر وه دار العلوم ديوبند ميں ہوتے تو رئيس المفتين ہوتے، وه عام مفتيوں كى طرح ناقل نہيں تهے، بلكه تحقيق سے فتوے ديا كرتے تهے، اور جو مسائل تفصيل طلب ہوتے ان ميں اختصار سے كام نه ليتے، ميرے خيال  ميں مفتى كفايت الله صاحب رحمة الله عليه كے بعد ايسا محقق اور دقيقه رس  مفتى ہندوستان ميں كوئى دوسرا نہيں پيدا ہوا، علم كى وسعت وگہرائى كے باوجود ان كے يہاں  فروع وجزئيات ميں تنگى تهى، يه تشدد كيوں تها سمجه ميں نہيں آيا، كيونكه وه بہت نرم مزاج، ملنسار اور محبت كرنے والے انسان تهے، شايد اس كى وجه يه رہى ہو كه عہد آخريں كے علماء كے ذہن ميں يه بات بيٹهه گئى تهى كه اگر جزئيات وفروع ميں نرمى اختيار كى گئى تو  عام لوگ آزاد ہو جائيں گے، اور دين سے ہاتهه دهو بيٹهيں گے، اور يه ان كى صريح  غلطى تهى، صحيح بات يه ہے كه فروع وجزئيات ميں تشدد ہى نے امت كے بڑ ے  طبقه كو دين سے بيزار كرديا ہے، اور ان شدت پسند علماء كے شاگردوں نے اپنے اساتذه كى طرح علم ميں وسعت و گہرائى تو نہيں پيدا كى، البته بيجا تشدد ميں وه  ان سے بهى آگے نكل گئے۔

مفتى صاحب نے تصنيف وتاليف پر زياده توجه نہيں كى، مولانا تهانوى رحمة الله عليه كى جزاء الاعمال كا عربى ميں ترجمه كيا تها جو استاد محترم مولانا سعيد الرحمن اعظمى صاحب مد ظله كے مقدمه سے شائع ہوئى تهى، چند رسالے لكهے، اور فتووں كا ايك بڑا ذخيره چهوڑا، زبان وادب سے مناسبت تهى، بر محل اشعار پڑهتے، ايك مرتبه مولانا عبد الحليم صاحب رحمة الله عليه كو اپنى كوئى فقہى تحرير سنا  رہے تهے، اس مجلس ميں ميں بهى موجود تها، تحرير مرتب ومدلل تهى، اور اس پر حيرت ہو رہى تهى كه زبان شسته تهى، اس طرح كا انداز ہمارے قديم علماء ميں شاذ ونادر ہى پايا جاتا ہے۔زہد وقناعت، تواضع اور سادگى ان كے اوصاف گراں مايه تهے،  عبادت گزار اور طاعت شعار تهے، زندگى محنت اور جان كاہى ميں گزار دى،  مزاج ميں ظرافت تهى اس لئے ان كے پاس بيٹهنے ميں كبهى اكتاہٹ نه ہوتى، ايك گوشه ميں زندگى گزار دى، اله آباد ميں ضرورت سے قيام كيا، ليكن شوقيه كوئى شہر ديكهنے نہيں گئے، لكهنؤ بهى كبهى جانا نہيں ہوا، استاذ محترم مولانا واضح رشيد ندوى كى ان سے ملاقات ہوئى تو اس پر سخت استعجاب كيا كه انہوں نے اب تك لكهنؤ نہيں ديكها، استاد محترم نے ميرے سامنے بهى ايك بار  اس حيرت  كا اظہار كيا، مختصر يه كه مفتى صاحب اپنى مجموعى خوبيوں كى بنا پر فخر جونپور تهے اور آبروئے تدريس وافتاء ووعظ، زمانه كا رنگ ديكهكر يه توقع مشكل ہے كه ہمارے علاقه ميں اس طرز كا عالم پهر پيدا ہوسكے:

روش دہر كا ہر نقش پكارے گا مجهے
يه نه سمجهو كه مجهى تك مرا افسانه ہے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad