تازہ ترین

Post Top Ad

پیر، 18 مئی، 2020

بہار کا تعلیمی نظام: ہر آنکھ میں آنسو ہر شخص پریشان!

عبدالغنی
 ریاست بہار میں پرائمری درجات سے لیکر سکنڈری،سینئر سکنڈری اور ٹین پلس ٹو اسکولوں میں سالہال سال سےاساتذہ کے ہزاروں اسامیاں خالی ہیں۔ جس سے طلبہ کا تعلیمی نقصان ہورہا ہے۔ کئی تعلیمی سیشن کا آغاز اور اختتام بغیر اساتذہ کے ہی انجام پاگیا ہے۔ اور تعلیمی نظام کے خستہ حالی کا یہ سلسلہ کئی سالوں سے جاری ہے۔ جس سے بہار کا  تعلیمی منظرنامہ اور متعلمین کا بیڑہ غرق ہوا ہوا ہے۔تازہ معاملہ رواں سال کے جنوری ماہ میں منعقدہ بہار اہلیتی امتحان برائے اساتذہ کے منسوخی کا ہے اٹھائیس جنوری کو منعقد ہونے والے اس امتحان میں شریک امیدواروں کی بحالی سے خالی پڑی اسامیاں کافی حد تک پر ہوسکتی تھی۔ جس سے طلبہ کے ساتھ ساتھ ریاست کا تعلیمی نظام میں نکھار پیدا ہوتا اور بےسمتی کی شکار نظام کہن میں تازگی پیدا ہوتی مگر اے کاش!

ریاست کے زیرانتظام اور مخلتف اداروں کے زیراہتمام منعقد ہونے والے بیشتر مسابقاتی امتحانات میں امیدواروں کو مخلتف مراحل سے گزرنا پڑتا ہے کہاجاتاہے کہ بہار میں بحالی کے لئ امیدواروں کئی ایک جاں گسل مرحلہ سے گزرنا پڑتا ہے یعنی امیدوارں کو پہلے امتحان،انٹرنس میں کامیاب ہونا ہوتا ہے پھر نتائج جاری ہوتے ہیں اس کے بعد کورٹ میں مقدمہ دائر ہوتا ہے تب کے جاکے بحالی ہوتی ہے۔ اور پھر اگر اساتذہ بحالی ہو تو وہ اتنا گنجلگ ہوتا ہے کہ امیدواروں کی بحالی بھی نہیں ہوتی ہے مگر  بحالی عمل جاری رہتا ہے آخرش عہدہ بھی پرنہیں ہوپاتا ہے۔ بہار کے تعلیمی نظام پر ہر حساس شہری خون کے آنسو رونے پہ مجبور ہے کہ یہاں تعلیم کے نام پرشعبدہ بازی کا کھیل کئی سالوں سے کھیلا جارہا ہے ۔استاد معاشرہ میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ملک کے مستقبل کا بھاری بھرکم اور ذمہ داریوں سے بھرا بوجھ انہی اساتذہ کے کاندھے پر ہوتا ہے ۔بہار علم و آگہی کا مظہررہا ہے۔یورپ کی آکسفورڈ اور کیمبرج یونیورسٹی سے بھی کئی صدی قبل بھارت کی شمال مشرقی ریاست بہار کی نالندہ یونیورسٹی تعلیم و تعلم کا ایک اہم اور عالمی مرکز ہوا کرتی تھی۔ گویا بہار تعلیم کا عالمی مرکز تھا اور اس وقت نالندہ یونیورسٹی،وکرم شیلا یونیورسٹی دنیا کے ممتاز تعلیمی مرکز میں شامل تھا۔ مگر اب حالات یکسر تبدیل ہوگئے ہیں۔تعلیمی ترقی کے دور میں بھی ریاست کی تعلیمی پسماندگی کا خاتمہ نہیں ہوسکا ہے۔ اور تعلیم کا شعبہ دن بدن روبہ زوال ہورہا ہے۔

اس میں اساتذہ کے اسامیوں کو پرکیا جانا،نصابی کتب کی دستیابی اور بنیادی انفراسٹکچر جیسے اہم مدے ہیں جو بہار کے لئے کبھی موضوع بحث نہیں بنا۔ چونکہ جات پات کی بنیاد پر الیکشن میں شہ اور مات کے کھیل کھیلنے والے سیاسی بازیگروں کے لئے ہنوز" تعلیم" ترجیحی اہداف میں شامل نہیں ہے۔ بہار کی اسکولی تعلیم کی خستہ حالی کو دور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔  تاکہ قومی سطح پر جو رپورٹیں پیش کی جاتی  ہیں ان میں بہتری آسکے فی الحال صورتحال یہ ہے کہ بہار میں اسکولی نظام تعلیم کے تعلق سے منفی رپورٹ کے سبب طلبہ نفسیاتی عوارض کے شکار ہورہے ہیں۔ محکمہ فروغ انسانی وسائل حکومت ہند کے ایک رپورٹ کے مطابق حق تعلیم ایکٹ 2009 کی فہرست میں پرائمری اور اپرپرائمری اسکولوں میں طالب علموں اور ساتذہ کا تناسب طے کیا گیا ہے اس کے مطابق پرائمری کلاس ایک سے پانچ تک کے کلاس کے لئے 30 طالب علموں پر ایک استاد ہونا چاہیے کلاس 6 سے 8 میں کم از کم 35 طالبعلموں پر ایک استاد ہونا چاہیے  بہار میں کلاس پانچ تک 38 پر ایک استاد اور اپر کلاس میں 39 طالبعلموں پر ایک استاد ہیں ۔یعنی  طلبہ اور استاد کے تناسب کو برابر کیا جانا نہایت لازم ہے۔سال 2018 میں ریاست کے 2569 مڈل اسکول کو ہائی اسکول میں اپ گریڈ کیا گیا ہے۔ انصاف کے ساتھ ترقی کا نعرہ دینے والے  نتیش حکومت کے عزائم میں شامل ہے کہ بہار کے ہرایک پنچایت میں ایک ہائی اسکول قائم ہونا چاہیے۔ لہذا آنا فانا میں مڈل اسکولوں کو ہائی اسکول میں  اپ گریڈ تو کردیا گیا۔مگر انفراسٹرکچرکا ڈیولپمنٹ اور ان نو اپ گریڈیڈ اسکولوں میں ہنوز اساتذہ کی بحالی نہیں ہوسکی ہے۔ جس سے ان اسکولوں میں زیرتعلیم لاکھوں طلبہ کو نقصان ہورہا ہے جبکہ یہ اہل اور قابل ہنرمند اساتذہ امیدواروں کے ساتھ بھدا مذاق بھی ہے حکومت ٹریننگ یافتہ صلاحیت مند اساتذہ کی خدمات نہیں لے پارہے ہیں اور ریاست کے بیش قمیتی اذہان کسمپرسی اوع بیروزگار کی مار جھیل رہے ہیں۔ لمحئہ فکریہ ہے ایل ایسا نظام ہے جس میں  ہر آنکھ میں آنسو ہر شخص پریشان سا ہے 

مہلک وبا کورونا وائرس کی وجہ سے جاری لاک ڈاؤن اور معاشی ایمرجنسی کے دور میں امید ہی ایک واحد سہارا ہے لوگوں کا۔مگر بہار اسکول اگزامنیشن بورڈ نے گزشتہ 16 مئی کو ایک دھماکہ خیز آرڈر جاری کرتے ہوئے ہزاروں ایسے لوگوں کے ارمانوں کا خون کردیا جس نے دن رات محنت کرکے ایس ٹی ای ٹی 2019 کے امتحان دیا تھا۔مذکورہ امتحان میں شریک امیدوار نتائج کے تعلق سے ادھیڑبن میں تھے۔ مگر جب بورڈ کی جانب سے آنسر کی جاری ہوگیا تو امیدواروں کی آس بندھی کہ دیر سویر ہی سہی ریزلٹ آجائےگا مگر ہوا اس کے برعکس بورڈ نے لیٹر جاری کرتے ہوئے بہار میں ایس ٹی ای ٹی کا امتحان منسوخ کردیا ہے ۔اس سے بہار کے ہائی اسکولوں میں مختلف مضامین کے 34 ہزار اساتذہ کی بحالی ایک بار پھر معلق ہوگیا ہے  بورڈ کے ذریعہ جانچ کمیٹی کی رپورٹ میں کئے گئے انکشافات سے حکومتی اقدامات کے تعلیمی پیش رفت کو شدید دھچکا لگا ہے ۔حکومت بہار معیاری تعلیم کے لئے ہزار جتن کررہی ہے ۔مگر بورڈ کے اہلکاروں اور کرسی کے نشہ میں مخمور امتحانی پرچہ کو ترتیب دینے والے افسران الم غلم سوالات ترتیب دیتے ہیں جو مضحکہ خیز بھی ہے۔ اور باعث فکر بھی کہ ریاست کے 34 ہزار ہائی اسکولوں کے مجوزہ خالی اسامیوں پہ بحالی کا عمل التوا میں پڑجائےگا ۔جس سے تعلیمی پسماندگی کی کھائی مزید گہرا ہوگا ۔اور یہ ریاست کے لئے نیک فال نہیں ہے سابق آئی ایس افسر نیل کنول کی صدارت میں تشکیل شدہ چار رکن کمیٹی نے جو رپورٹ پیش کیا ہے وہ چونکا دینے والا ہے۔   بہار بورڈ نے یہ فیصلہ رواں سال 28 جنوری کو منعقدہ امتحان میں بدعنوانی کے پیش نظر لیا ہےاس میں 2 لاکھ 43 ہزار 141 امیدواروں نے شرکت کی تھی ۔بورڈ نے امتحان کو از سر نو منعقد کرنے کے حوالے سے حکومت کو ایک تجویز بھیجی ہے۔

 اب محکمہ تعلیم اس بات کا حتمی فیصلہ کرے گی کہ دوبارہ ایس ٹی ای ٹی کا امتحان کب لیا جائے۔ اہم بات یہ ہے کہ حال ہی میں ، بہار حکومت نے ریاست میں 34 ہزار آسامیوں پر اساتذہ کی بحالی کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔اس امتحان کی منسوخی کا اس عمل پر اثر پڑ سکتا ہے کمیٹی نے اپنے جانچ رپورٹ میں سہرسہ گیا ،پٹنہ اور گوپال گنج میں امتحان کے دوران بدنظمی کا ذکر کرتے ہوئے سوالات کے وائرل ہوجانے کا ذکر ہے اسی کے ساتھ امتحان کی منسوخی کی توجیہ پیش کرتے ہوئے ہےکہا ہے کہ سائنس مضامین کے امیدواروں سے سائنس ، نباتیات ، زولوجی اور طبیعیات کے سوالات پوچھے گئے ہیں گریجویشن سطح پر کیمسٹری ، نباتیات اور حیاتیات کا مطالعہ امیدوار کرتے ہیں اسی طرح انٹرمیڈیٹ سطح پر بھی تمام امیدواروں کو فزکس کا مطالعہ کرنا ضروری ہے ایسی صورتحال میں سائنس کے ان تمام مضامین سے سوالات کرنا مناسب ہوگا۔ ریاضی کے مضمون کے امیدواروں کے لئے انڈرگریجویٹ سطح پر ریاضی ،طبیعیات اور کیمسٹری کا مطالعہ کرنا ضروری ہے اور یہ بالکل مناسب ہے اگر صرف ریاضی کے مضامین سے ریاضی کے مضامین پوچھے جائیں۔

سنسکرت کے مضمون میں ہندی یاسوشل اسٹڈیز کا سوال نہیں پوچھا گیا ہے۔51 سے 150 تک کے تمام سوالات سنسکرت کے مضمون کے نصاب سے متعلق ہیں ، مثال کے طور پر جیسے  سوال: بھگوان بودھ کو علم کہاں سے ملا؟  سنسکرت فلسفہ میں  ملحد اور چارواک فلسفہ پڑھایا جاتا ہے۔   سوال: سرودھرما کانفرنس کہاں ہوئی تھی؟  سرودھرما سمیلن کو +2 سطح کی کتاب "کوستبھ" (این سی ای آر ٹی ، بہار) میں بیان کیا گیا ہے۔  سوال: بھرتمونی کے مطابق رس کی تعداد ہے۔  بھرٹمونی کی شاعری میں بھرتومونی کے رس کو بیان کیا گیا ہے۔  سوال کٹیانا کا دوسرا نام کیا ہے؟  کٹیانا سنسکرت زبان کے تین بڑے گرامر کے جانکاروں میں سے ایک ہے۔  ایہ بات واضح ہے کہ یہ سارے سوال سنسکرت کے مضمون سے متعلق ہیں۔ جہاں تک سماجی سائنس کا موضوع ہے جس میں امیدواروں کومعاون سبجیکٹ کے تحت ہسٹری ، جغرافیہ ، پولیٹیکل سائنس اور اکنامکس کے کسی بھی دو مضامین میں شرکت کی ضرورت ہوتی ہے ، جس میں ایک مضمون ہسٹری یا جغرافیہ کا ہونا ضروری ہے۔سوالیہ پیپر چاروں مضامین سے پوچھا گیا ہے جو مناسب ہے ، لیکن سوال پیٹرن کو سوالیہ سیٹ کے ذریعہ چار گروپوں میں تقسیم کیا جانا چاہئے تھا ، جس میں امیدوار کے لئے لازم ہے کہ وہ تاریخ اور جغرافیہ کے کسی بھی مضمون کا جواب دے۔ باقی تین مضامین میں سے کسی  ایک مضمون کا جواب دینے کا اختیار ہوگا ، تاہم سوالیہ پیپر ترتیب دینے والوں نے چاروں مضامین کو الگ الگ گروپوں میں تقسیم نہیں کیا اور سوشل سائنس کے تمام سوالات کو ایک گروپ میں ڈال دیا جو نہایت غلط ہے۔

جانچ کمیٹی نے دیانت داری کے ساتھ امتحانات میں بدنظمی اوع بدعنوانی کے پیش نظر امتحان کو منسوخ کرنے کی سفارش کی جس پہ بہار بورڈ نے فیصلہ بھی لے لیا ہے بہار اسکول اگزامنیشن بورڈ کی کارکردگی پہ انہی وجوہات کے سبب سوالیہ نشان لگتا رہا ہے اب جبکہ امتحان منسوخ ہوگیا ہے اس میں کئی ایک پہلو قابل غور ہے اول یہ کہ جب امتحان کو رد ہی ہونا تھا تو انسر کی(جوابی کنجی) ریلیز کرنے کی ضرورت کیا تھی دوئم بورڈ کے چیئرمین کی جانب سے باربار یقین دہانی کرانا کہ جلد ہی ریزلٹ جاری کردیا جائےگا شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے اس میں دولاکھ سے زائد امیدواروں کا مستقبل داؤں پر لگ گیا ہے جبکہ برسوں سے ہائی اسکولوں کے خالی عہدوں کے پر ہونے کا امکان بھی معدوم ہوگیا ہے۔ لاکھوں افراد استحصال کی چکی میں پس جائیں گے سوالات کے ترتیب دینے والے ہوں یا دیگر امیدواروں کے ساتھ انصاف ہونا چاہیے ۔چونکہ یہ آواز بھی اٹھ رہی ہے کہ سرکار نے حیلہ بہانہ سے امتحان رد کروایا ہے۔ لہذا حکومت بہار کو مدبرانہ انداز میں منعقدہ امتحان کی منسوخی،عدم منسوخی اور نئے سرے سے امتحان کے انعقاد کے مضمرات پہ فیصلہ لینے کی ضرورت ہے اس سلسلے میں خاطی افسران کے خلاف سخت کارروائی کی اشد ضرورت چونکہ اگر بروقت تادیبی کارروائی نہیں ہوئی تو محکمہ تعلیم اپنے دامن سے  دیوار پہ چڑھ کر نقل نویسی اور پوڈیگل گرل جیسے بدنما داغ کو دھو نہیں پائےگا نیز مزید تاخیر سے بہار کے اسکولوں میں تعلیم و تعلم کا بحران پیدا ہوجائےگا۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad