تازہ ترین

Post Top Ad

Friday, May 22, 2020

عیدالفطر، خدائی انعام کادن !

از: محمدضیاءالحق ندوی 
بسم اللہ الرحمن الرحیم 
اس دنیائے رنگ وبو میں جتنی قومیں آبادہیں ہرایک نے اپنے لئےسال میں کچھ ایسے ایام ضرور  مخصوص کرلیے ہیں، جن کو وہ اپناعمومی تہوار اورجشن سمجھ کرعیش و عشرت،فرحت وانبساط میں گزارتی ہیں ،چنانچہ عالمگیرمذہب"دین اسلام" نے بھی اپنےماننےوالوں کے لئے سال میں دودن بطور عیدمقررکیا ہے، حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتےہیں کہ اہل مدینہ سال میں دودن بطور تہوارمنایاکرتے تھے جس میں کھیل تماشے کیاکرتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا"یہ دودن جس میں تم خوشیاں مناتےہو،ان کی کیاحقیقت ہے؟تو انہوں نےکہاکہ"ہم اسلام سےقبل ان دونوں دنوں کو تہوار کی طرح منایاکرتےتھے"یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالی نے تمہارےلئے ان دونوں تہواروں کےبدلےمیں ان سے بہتردودن مقررفرما دیئے ہیں۔

یوم عید الفطر اور یوم عیدالاضحی"ابوداؤدعیدالفطرکادن خدائی انعام واکرام کادن ہے لیکن اس انعام واکرام کے مستحق وہی لوگ ہوں گے جنہوں نےرمضان مبارک کی قدر کی ہوگی اور اس کےروزےپورےاہتمام کے ساتھ رکھےہوں گے اور اللہ جل شانہ وعم نوالہ کی عبادت کئے ہوں گے نہ کہ ان لوگوں کےلئے جنہوں نے دن میں گل چھرے اور رات  خواب غفلت کے خراٹوں  میں گزاری ہوگی.عیدالفطرکادن وہ دن ہے جس میں اللہ تبارک وتعالی کی طرف سے روزہ داروں کوپیغام سنایاجاتاہے،اور پورے ماہ کی مزدوری اس دن عطاکی جاتی ہے، مغفرت کا پروانہ عطاکر دیا جاتاہے جب عیدالفطر کادن ہوتاہے توفرشتے تمام راستوں کےدروازے پرکھڑےہوجاتےہیں اور صدالگاتےہیں کہ اے مسلمانوں! رب کریم  کےدروازےپرآؤ وہ تمہارے لئے بھلائی اورخیرکے خزانے لیے ہوئے ہیں اور آج تمہیں بہت زیادہ اجرو ثواب عطافرمائےگا،اور ملائکہ اللہ جل شانہ سے درخواست کرتے ہیں کہ اپنے مطیع وفرمانبردار مزدور کی اجرت عطا فرمادیجئے۔

 اللہ جل شانہ کا حکم ہوتا ہے اے ملائکہ گواہ رہناکہ میں اپنے بندوں کونماز ،روزہ اور تلاوت قرآن کےبدلے اپنی مغفرت کا پروانہ عطاکرتا ہوں روزہ دار عیدگاہ سے اس حال میں لوٹتے ہیں کہ وہ معاف کردیئے گئے ہوتے ہیں. اور عیدالفطر کی رات یعنی رمضان کی آخری رات جزاء وبدلے کی رات ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا" رمضان کی آخری رات میں امت محمدیہ کی مغفرت کردی جاتی ہے عرض کیاگیایارسول اللہ! کیااس سے شب قدر مراد ہے؟فرمایانہیں بات یہ ہے کہ عمل کرنےوالےکااجر اس وقت پورادےدیاجاتا ہے جب کام پوراکردیتاہے. اورآخری رات میں عمل پورا ہوجاتاہے اس لئےبخشش ہوجاتی ہے"مسنداحمدعیدکا دن وہ دن ہے جس میں ہرطرف خوشی وشادمانی کی شہنائیاں بجنے لگتی ہیں اور مردو زن، بچہ وجوان سب خوش و خرم ،جوش و خروش میں نظرآتے ہیں۔

ہرایک کا دامن خوشی کےپھولوں سے لبریزہوتا ہے لیکن یاد رکھئے! کیف وسرور اور طرب ومسرت کےاس مبارک دن میں خدا کے نزدیک اس آدمی کی خوشی خوشی نہیں جو حاجتمندوں ،بےکسوں، ناداروں اوربیواؤں و یتیموں کاخیال نہ رکھ کرصرف اپنے لئے خوشی کےشادیانے بجاتے ہیں انواع اقسام کے خوردو نوش اور نوع بنوع کے پہناوے کا انتظام کرتے ہیں.  اس لئے انسانیت کاتقاضہ ہے کہ خوشی ومسرت میں  فقیروں، بےکسوں، مفلسوں، یتیموں، لاچاروں،بیواؤں کوبھی شریک کریں اور ان کے رنج وغم میں برابرکے شریک ہوں کیونکہ یہی اصل عیدکی روح ہے۔

قارئین کرام !  جب ہم اپنااور سماج و معاشرہ کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ نظر آتا ہیکہ ہم تعلیمات نبوی سے کوسوں دور ہیں، ہم عید کا متبرک اور مسعود دن کو بیہودگی،ہفوات،بے ہنگمی،اور بےکار کی آمد ورفت میں ضائع اور برباد کردیتے ہیں، اور  تعلیم نبوی سے یکسر منحرف نظرآتے ہیں کہاں بیوہ، لاچار،یتم،فقیر،مسکین اور محتاج  ہم فقط اپنے اور اہل وعیال کے چکر میں  سبھوں کو بھول جاتے ہیں.اللہ ہم سبھوں کودین حق پر چلنے کی توفیق نصیب فرمائے آمین یارب العالمین۔

No comments:

Post a Comment

Post Top Ad