تازہ ترین

Post Top Ad

Friday, May 22, 2020

اخلاقی گراوٹ اور واٹس ایپ گروپ

تحریر: محمد وجہ القمر(بیورو چیف مدھوبنی,  بصیرت آن لائن)
واٹس ایپ گروپ صرف تفریح اور دل بہلانے کا ذریعہ ہی نہیں بلکہ سماج کے تانے بانے اور ایک دوسرے کی تکلیف و آسائش کو محسوس کرنے کے ساتھ ساتھ تہذیب و تربیت کا نہایت معتبر ذریعہ ہے۔ ظاہر ہے اس بھاگتی دوڑتی دنیا میں جہاں مادہ پرستی اور تنہائی سے پر ذہنی ہیجان اپنے عروج پر ہے وہیں سوشل میڈیا کا پلیٹ فارم ان تمام لوگوں کے لئے جو اپنوں سے قربت کی تلاش کے لئے موقع و محل ڈھونڈتے رہتے ہیں اور سماجی, سیاسی, تہذیبی, تعلیمی اور اخلاقی اقدار کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اپنی موجودگی کا احساس دلانا چاہتے ہیں نعمت غیر مترقبہ ثابت ہوتا ہے۔ وہیں یہ سوشل میڈیا کا پلیٹ فارم ان بد اخلاق, بد تہذیب اور بد مزاج لوگوں کے اندرون کو سمجھنے اور ان کی اخلاقی و روحانی تربیت کا نہایت سنہرا موقع بھی فراہم کرتا ہے, اسی لئے بہت سے دانشوران اور ماہرین نفسیات اپنا بھر پور وقت سوشل میڈیا کے ذریعہ لوگوں کی تربیت میں صرف کرنا پسند کرتے ہیں تاکہ جو شخص براہ راست وقت نہ دے سکے اسے کم سے کم سوشل میڈیا کے ذریعہ سمجھایا جا سکے یا ان تک مربی حضرات کا پیغام پہنچایا جا سکے۔ 

میں بذات خود اس کا قائل ہوں کہ سوشل میڈیا کے ذریعہ ہم اپنی بات لاکھوں کروڑوں افراد تک پل بھر میں بآسانی اور مؤثر طریقہ سے پہنچا سکتے ہیں جب کہ زمینی سطح پر یہ کام نہ صرف مہنگا ہے بلکہ تکلفات سے بھرا بھی ہے لہذا جن افراد, بچے یا کم سمجھ لوگوں کے ذریعہ اگر کوئی چوک ہوجایا کرتی ہے تو بجائے اس کے کہ انہیں لعن طعن کیا جائے یا گروپ سے نکال دیا جائے ان کے پرسنل پر ان کی تربیت اور ان کی تہذیبی فروغ کا سامان کیا جائے۔ میں سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم کو اس لئے بھی خدائی نعمت سمجھتا ہوں کہ اس کے ذریعہ دعوتی کام کچھ حد تک نہایت آسانی سے انجام پاتے ہیں اور لوگوں کے اشکالات کی بر محل گنجائش ہوتی ہے۔ ساتھ ہی جن افراد کو ہم براہ راست بخوبی نہیں پہچان سکتے انہیں ان کی تحریر اور ان کے انداز بیان نیز ان کے دلائل و براہین سے بھی ان کی ذہنی پختگی, علمی لیاقت اور انفرادی قابلیت کا پتہ چلتا ہے جسے پرکھنے کے لئے ہمیں برسوں درکار ہوتے ہیں۔

 اس کے علاوہ آج کے انٹرنیٹ اور تنہائی کی زندگی گزارنے والے دور میں ان نوجوانوں اور غیر تربیت یافتہ بچوں کی راہ نمائی مزید آسان ہوجاتی ہے کیوں کہ ہمیں نہیں معلوم کہ کون سا بچہ کس غلط راہ روی کا شکار ہو چکا ہے جس کا ہم تصور تک نہیں کرسکتے اور نہ ہی درست اندازہ لگا سکتے ہیں اور اس کی جھلک بعض اوقات انہیں کے موبائل سے غلط تصویر یا غلط ویڈیو کی شکل میں نمایاں ہوجایا کرتی ہے۔ گویا ہم ان کی تنہائی میں کی جانے والی برائیوں اور غلط راہ روی سے آگاہ ہوجاتے ہیں اور اس کے بعد ان کی تنبیہ, اخلاقی تربیت, اور نفسیاتی علاج کی ذمہ داری ہم پر پہلے سے زیادہ ہوجاتی ہے جس سے راہ مفر اختیار کرنے کے بجائے ہم اس کا مداوا کریں تاکہ آخرت کی پرسش سے بچیں۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو اور اسلام کا سچا داعی بنائے۔ آمین

No comments:

Post a Comment

Post Top Ad