تازہ ترین

Post Top Ad

جمعرات، 14 مئی، 2020

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فضائل اوراقوال و ارشادات

از قلم : محمد ساجد علی مصباحی جامعہ اشرفیہ مبارک پور، اعظم گڑھ 

علی امامِ من است ومنم غلامِ علی 
ہزار جانِ گرامی فداے نامِ علی
    خلیفہ چہارم مولاے کائنات حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم علوم ومعارف کے بحر ناپیدا کنار ،اسرار شریعت کے رمز شناس ،کشورِ ولایت کے تاج دار،عزم واستقلال اور شجاعت وبہادری میں بے مثال تھے ۔رحمتِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے دنیا میںہی آپ کو جنت کی بشارت سنائی اوردارین میںاپنا بھائی بتایا۔ اپنی چہیتی بیٹی خاتونِ جنت حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کوآپ کے عقدِ نکاح میں دیا اور مَنْ کُنْتُ مَوْ لَاہ فَعَلِیٌّ مَوْلَاہ کا مخصوص طغراے امتیاز بخشا۔ آپ کے ایمان و عمل ،زہد وتقویٰ کا ذکر اور دیگر فضائل ومناقب کا بیان قرآن و حدیث میں وارد ہوا۔بطور نمونہ 

چند آیات واحادیث قارئین کرام کی ضیافتِ طبع کے لیے زیب ِقرطاس ہیں :
حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ کے فضائل: (قرآن کی روشنی میں )
اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوٰلَہُمْ بِالَّیْلِ وَالنَّہَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِیَۃً فَلَہُمْ اَجْرُہُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوْنَ(لبقرہ٢ ، آیت ٢٧٤)
    وہ جو اپنے مال خیرات کرتے ہیں رات میں اور دن میں چھپے او رظاہر، ان کے لیے ان کا نیگ (اجر )ہے ان کے رب کے پاس ،ان کو نہ کچھ اندیشہ ہو نہ کچھ غم ۔ (کنز الاےمان)
    حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے ارشاد فرمایا : یہ آیت حضرت علی مرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کے حق میں نازل ہوئی جب کہ آپ کے پاس فقط چار درہم تھے ۔ آپ نے وہ سب خیرا ت کردیے۔ ایک رات میں، ایک دن میں، ایک پوشیدہ اور ایک علانیہ۔ (الفتح المبین فی فضائل الخلفاء الراشدین،)
    وَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسْکِیْنًا وَّ یَتِیْمًا وَّ اَسِیْرًا(الدہر:٧٦ ، آیت :٨)
    ترجمہ:اور کھانا کھلاتے ہیں اس کی محبّت پر مسکین اور یتیم اور اسیر کو ۔ (کنز الاےمان)
    یہ آیت حضرت علیِ مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور ان کی کنیز فضّہ کے حق میں نازل ہوئی ، حسنینِ کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیمار ہوئے ، ان حضرات نے ان کی صحت پر تین روزوں کی نذر مانی ، اللہ تعالیٰ نے صحت دی ، نذر کی وفا کا وقت آیا ، سب صاحبوں نے روزے رکھے ، حضرت علیِ مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک یہودی سے تین صاع (صاع ایک پیمانہ ہے) جَو لائے ، حضرت خاتونِ جنّت نے ایک ایک صاع تینوں دن پکایا ،لیکن جب افطار کاوقت آیا اور روٹیاں سامنے رکھیں تو ایک روز مسکین ، ایک روز یتیم ، ایک روز اسیر آیا اور تینوں روز یہ سب روٹیاں ان لوگوں کو دے دی گئیں اور صرف پانی سے افطار کرکے اگلا روزہ رکھ لیا گیا۔ (خزائن العرفان)
حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ کے فضائل: (احادیث کی روشنی میں )
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
    مَنْ اَحَبَّ عَلِیًّا فَقَدْ اَحَبَّنِی، وَمَنْ اَحَبَّنِی فَقَدْ اَحَبَّ اللّٰہَ، وَمَنْ اَبْغَضَ عَلِیًّا فَقَدْ اَبْغَضَنِی، وَمَنْ اَبْغَضَنِی فَقَدْ اَبْغَضَ اللّٰہَ.(المعجم الکبیر للطبرنی ،ج٥ ،ص :٥،حدیث نمبر ١٩٣٤٣،)
    جس نے علی سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی ،اور جس نے مجھ سے محبت کی اس نے اللہ سے محبت کی ۔اور جس نے علی سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا ،اور جس نے مجھ سے بغض رکھا اس نے اللہ سے بغض رکھا۔
    حضرت اُمِّ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
    لا یحب علیا منافق ولا یبغضہ مومن۔ رواہ احمد والترمذی.(مشکوٰۃ المصابیح،باب مناقب علی بن ابی طالب ،ص٥٦٤،)
    منافق علی سے محبت نہیں کرے گا اور مومن ان سے بغض نہیں رکھے گا ۔
    آخرکی ان دونوں احادیث سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت علی مرتضیٰ شیر خدا رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی محبت ایمان کی علامت ہے اور ان کی دشمنی منافقت کی نشانی ہے۔ اللہ جل شانہ ہمیں ان کی دشمنی سے محفوظ رکھے ۔آمین۔ 
اقوال وارشادات :
    امیر المومنین حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کے اقوال وارشادات بلاشبہہ دریاے علم وعرفان کے ایسے بے نظیر موتی ہیںجن سے آدمی اپنے اخلاق وکردار کوآراستہ وپیراستہ کرسکتا ہے ۔ اوران کی زبانِ فیض ترجمان سے نکلے ہوئے کلمات آسمان رشد وہدایت کے وہ تابندہ ستارے ہیں جن کی روشنی میں چلنے والا انسان کبھی اپنی منزل سے بھٹک نہیںسکتا ۔ دلیلِ مدعا کے طور پر بعض اقوال وارشادات پیش خدمت ہیں :
    بے وقوف کی دوستی سے بچو ؛کیوں کہ وہ تجھے نفع پہنچانا چاہے گا ،لیکن نادانی کی وجہ سے نقصان پہنچاے گا،اور کذاب (جھوٹے )کی دوستی سے بچو ؛کیوں کہ وہ تجھ پردور کو قریب ظاہرکرے گا اور قریب کو دوربتائے گا،اور بخیل کی دوستی سے بچو ؛کیوں کہ جب تجھے اس کی مدد کی ضرورت ہوگی تو وہ تجھ سے دور بھاگ جائے گا ، اور بدکار کی دوستی سے بچو ؛کیوں کہ وہ معمولی چیز کے بدلے تجھے فروخت کردے گا ۔(تاریخ الخلفاء ، علی بن ابی طالب، اخبارہ وقضا یاہ وکلماتہ ،ص١٤٥)
    یقینا جس قوم نے جنت کی لالچ میں اللہ تبارک و تعالیٰ کی عبادت کی ، اس کی عبادت تاجروںکی طرح ہوئی ۔اور جس قوم نے عذاب کے ڈر سے اللہ تبارک وتعالیٰ کی عبادت کی ، اس کی عبادت غلاموں کی طرح ہوئی ۔اور جس قوم نے شکریہ ادا کرنے کے لیے اللہ جلّ شانہ کی عبادت کی ،اس کی عبادت آزاد شریف لوگوںکی طرح ہے ۔(نہج البلاغۃ ،مجموعہ کلام امیر المومنین سیدنا علی بن ابی طالب،ج٤، ص٥٣۔)
    تم میں کا ہر شخص صرف اپنے گناہوںسے ڈرے اور اپنے پروردگار ہی سے امیدیں لگائے ،جو شخص نہیں جانتا ہے وہ علم حاصل کرنے میںشرم نہ کرے ، اورکم علم آدمی سے جب ایسامسئلہ پوچھاجو اسے معلوم نہیں ہے تو یہ کہنے میںکہ اللہ جل شانہ بہتر جانتا ہے اپنی بے عزتی نہ سمجھے ۔صبر ایمان کے لیے ایسا ہی ہے جیسا کہ سر جسم کے لیے،جب صبر کا دامن چھوٹ جائے گا تو ایمان رخصت ہوجائے گا اور جب سر نہیں رہے گا تو جسم بے کار ہوجائے گا ۔(تاریخ الخلفاء ، علی بن ابی طالب، اخبارہ وقضا یاہ وکلماتہ ،ص١٤٧)
    سب سے بڑا عاجز وہ ہے جو اچھے دوست نہ بناسکے ،اور اس سے بھی بڑا عاجز وہ ہے جو اچھا دوست پاکر اسے ضائع کردے ۔(نہج البلاغۃ ،ج٤، ص٤۔)
    بے وقوف کادل اس کے منہ میں ہوتا ہے ،اور عقل مند کی زبان اس کے دل میں ہوتی ہے ۔(نہج البلاغۃ ،ج٤، ص١٢)
    تیرے دوست تین طرح کے ہیں : تیرا اپنا دوست ،تیرے دوست کا دوست اور تیرے دشمن کا دشمن ۔اور تیرے دشمن بھی تین طرح کے ہیں : تیرا اپنا دشمن ، تیرے دوست کا دشمن اور تیرے دشمن کا دوست ۔(ایضاً،ج٤، ص٧١)
    سب سے بڑی دولت عقل ہے ،سب سے بڑی محتاجی وتنگ دستی حماقت وبے عقلی ہے ،سب سے خطر ناک دیوانگی تکبر وغرور ہے اور سب سے بڑی بزرگی حسن اخلاق ہے ۔(تاریخ الخلفاء ،علی بن ابی طالب ،اخبارہ وقضایاہ وکلماتہ ،ص١٤٥)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad