تازہ ترین

Post Top Ad

منگل، 19 مئی، 2020

ہم اور ہمارا سماج

محمد طاسین ندوی
           ـــ ــــ بسم اللہ الرحمن الرحیمــــ ـــ ـــ ـــ ــ
اللہ تعالی نے حضرت انسان کی تخلیق فرمائی ،ان کے کھانے پینے رہنے بسنے کا سارا انتظام و انصرام فرمایا، مخلتف قبائل و گروہ بنایا تاکہ ایک دوسرے کی پہچان ہوسکے، چنانچہ فرمان باری تعالی ہے ."يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا ۚ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ"سورة الحجرات ١٣اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک ہی مرد اور عورت سے پیدا کیا ہے، اور تمہارے خاندان اور قومیں جو بنائی ہیں تاکہ تمہیں آپس میں پہچان ہو، بے شک زیادہ عزت والا تم میں سے اللہ کے نزدیک وہ ہے جو تم میں سے زیادہ پرہیزگار ہے، بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا خبررکھنےوالا ہے

 اس دستور العمل اور دستورحیات میں  اللہ جل جلالہ نے آپسی و باہمی عداوت و منافرت کو ممنوع قراردیا، تاکہ بنی نوع انسان چاہے مسلم ہو یا غیر مسلم  باہم عدم منافرت و عداوت کے ساتھ اپنی اپنی  زندگیاں جئے.لیکن جب ہم اپنا معاشرہ اپنے سماج پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں دیکھنے کو کیا ملتا ہے؟  یہی نا کہ کہیں قبیلہ اور خاندان ایک دوسرے سے دست وگریباں ہیں، تو کہیں مسلم اور غیر مسلم کا دنگل چل رہا ہے، ہم سبہوں نے انسانیت کہ سارے اسباق و پیغام کو بالکل بھلا دیا ہے، اسی وجہ سے آج جہاں جو اقلیت میں ہیں اکثریت ان پر بھاری ہے، اور ایسا ہو کیوں نا کیونکہ ہم مسلمان نے بھی فرمودات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سرے سے اپنے دل و دماغ سے نکال کر کہیں دور دراز کھائی میں جا پھینکا ہے، ہم مسلمان ہیں اور اللہ تعالی نے فرمایا ہے :اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللّـٰهِ الْاِسْلَامُ.سورة آل عمران ٢٠٠ترجمہ:بےشک دین اللہ کے ہاں فرمانبرداری ہی ہے.اور یادرکھئے اللہ کی فرمانبرداری ہی عبادت وبندگی ہے  چنانچہ باری تعالی کا ارشاد ہے :وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ.سورة الذاريات٥٦ترجمہ:اور میں نے جن اور انسان کو بنایا ہے تو صرف اپنی بندگی کے لیے.
آج اس آفت ناگہانی سے دوچار عالم میں ہم بحیثیت مسلمان یہ جائزہ لیں کہ ہرچہار جانب اس جان لیوا وبائی بیماری کووڈ ۱۹ کورونا وائرس  کا کس قدر ہنگامہ برپا ہے

آج تک بقول اطباء و حکماء اور ماہرین  اس کی کوئی مناسب دوا دریافت نہ ہوسکی ہے اس وبا سے بچنےکا واحد حل و علاج سماجی دوری بنا کر رکھنا ہی بتایا جارہا ہےحکومت ممالک اپنے باشندگان ملک سے باربار یہ گزارش کررہی کہ اپنے آپ کو اس وبا سے محفوظ رکھنے کے لئے سماجی دوری بناکر حکومت کا ہاتھ بٹائیں بھیڑ بھاڑ جلسہ و جلوس سےبالکلیہ اجتناب کریں  اگر کوئی اس وبا سے دوچار ہوں تو اسکے بارے میں جلد از جلد حکومت کو آگاہ کریں تاکہ حکومت اس کی جان بچانے میں کامیاب ہوسکے اور بیماری دوسروں تک نہ پہنچے .عالمی و ملکی حالات کے اس تناظر میں ہمیں ایک مھذب شہری ہونے کہ ناطے حکومت کے اقدامات پر خود بھی عمل کرناچاہئیے اور اعزہ و اقارب ،ہمسایہ و دوست، ہر کس و ناکس کو اس پر عمل کی تلقین کرنی چاہیے کیونکہ حکومت کی جائز و مصلحت پر مبنی  باتوں کو سمجھنا ماننا اور اس پر عمل کرنا بھی عبادت کے مترادف ہے.

قارئین کرام!  ایسےپرآشوب وقت میں جبکہ حکومت نے اس وبا سے نمٹنے کہ لئے بالکل لاک ڈاؤن کیا ہواور اسکی تاریخ میں مزید توسیع ہوتی چلی جارہی ہے تو ہمیں اپنے گردو نواح میں رہنے بسنے والوں کا جائزہ لینا چاہئیے کہ آیا اس مہاماری میں ـ جب کہ سارے لوگ معطل بیٹھے منتظر فردا ہیں کہ کب حالت ساز گار ہو سارے لوگ اپنے اپنے کاموں پر لوٹیں ـ جو بن بڑے اشیاء خوردونوش یا اس کے علاوہ اور کوئی ضروریات زندگی کی اشیاء ان تک پہنچانے کی جتن کریں اور ضرورت مندوں تک راحت رسانی کا کام جاری رکھیں کیوں کہ اچھا  انسان وہ ہے جو دوسروں کے کام آئے


ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے 
آتے ہیں جو کام دوسروں  کے 

اللہ تعالی ہمیں ان باتوں پر عمل کی توفیق دے  اور اس آفت ناگہانی" کرونا وائرس "سے جلد از جلد نجات نصیب  فرمائے آمین

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad