تازہ ترین

Post Top Ad

پیر، 18 مئی، 2020

انفاق فی سبیل اللہ حصول جنت کابہترین وسیلہ

از:محمدضیاءالحق ندوی
 بسم اللہ الرحمن الرحیم
انفاق فی سبیل اللہ خیرو بھلائی اورجنت کے حصول کابہترین ذریعہ ہے چنانچہ فرمان باری تعالی ہے" لن تنالوالبرحتي تنفقوا مماتحبون ... . "(سوره آل عمران. ٩٢)ترجمہ :ہرگزحاصل نہ کرسکوگے نیکی میں کمال جب تک نہ خرچ کرو اپنی پیاری چیزسےکچھ " (تفسیرعثمانی) علامہ ابن کثیررحمۃاللہ علیہ رقم طراز ہیں * "حضرت عمروبن میمون رح کہتے ہیں کہ "بر "یعنی نیکی و بھلائی سےمراد یہاں جنت ہے "(تفیسرابن کثیر) یعنی جب تک تم بہترین مرغوب طبع اورپسند خاطر عمدہ عمدہ چیزیں اللہ کی راہ میں خرچ نہ کروگے جنت میں ہرگز داخل نہ ہوگے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ انصارمدینہ میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ بڑے مالدار اورصاحب ثروت تھے انہیں اپنےتمام مال و جائداد میں "بیرحاء " نامی باغ جومسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تھابہت محبوب اور پسندیدہ تھا ،

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم بھی کثرت سےاس باغ میں تشریف لےجاتے تھے اوراس کےکنویں کا عمدہ،میٹھاپانی پیاکرتے تھے جب آیت مذکورہ نازل ہوئی تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت مبارکہ میں حاضرہوا اور دریافت کیایارسول اللہ اللہ کایہ فرمان آیاہے اور میرےنزدیک سب سے محبوب اور عزیز مال " *بیرحاء "نامی باغ ہے، لہذا میں اس مال کو اللہ کی راہ میں اس امید کے ساتھ خرچ کرتاہوں کہ جو بھلائی اورنیکی اللہ کومحبوب ہے وہ میرے لئے جمع رہے ،آپ کو اختیار ہے جس طرح چاہیں اس کو تقیسم کردیں ،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خوش ہوکر فرمایا واہ واہ یہ نہایت مفید مال ہے،یہ نہایت مفیدمال ہے اس سے لوگوں کو بہت فائدہ ہوگا پھر آپ نےفرمایا میری یہ رائے ہےکہ اس باغ کو اپنے اعزہ واقارب میں تقسیم کردو حضرت ابوطلحہ نے کہابہت اچھا اور پھراسے اپنےاعزہ واقارب اور چچازاد بھائیوں میں تقسیم کردیا " متفق عليه مذکورہ آیت وحدیث میں اس بات کی ترغیب دی گئ ہے

 اللہ کی راہ میں مرغوب طبع اورپسند خاطر بہترین چیزیں خرچ کرویہ تمہارے لئے ذخیرہ آخرت بنےگی اور یہی حصول جنت کابہترین ذریعہ ثابت ہوگی، اور اللہ کی راہ میں میں ردی واہیات ،سڑی گلی بیکار چیزیں نہ دو ارشادباری ہے " ياايهاالذين آمنوا انفقوا من طيبات ماكسبتم ومما اخرجنا لكم من الأرض ولا تيممواالخبيث ولستم بآخذيه الاان تغمضوافيه واعلمواأن الله غني حميد "(سورہ بقرہ ۲٦٧) ترجمہ "اےایمان والو خرچ کرو ستھری چیزیں اپنی کمائی میں سے اور اس چیزمیں سے کہ جو ہم نےپیداکیا تمہارے واسطے زمین سے اور قصدنہ کروگندی چیز کا اس میں سےکہ اس کو خرچ کرو حالانکہ تم اس کوکبھی نہ لوگےمگریہ کہ چشم پوشی کرجاؤ اور جان رکھوکہ اللہ بےپروا ہےخوبیوں والا "(تفسیر عثمانی) 

 قارئین کرام ! یہ رمضان مبارک کامہینہ چل رہا ہے جونہایت خیروبرکت والا مہینہ ہے یہ مہینہ ہمیں غریبوں ،مسکینوں اور حاجتمندوں اورکمزوروں کی بھوک ،پیاس کا احساس دلاتا ہے،یہ گناہوں سےتوبہ کرنے،نیکیاں کمانے اورجہنم کی آگ سے نجات حاصل کرنےکا مہینہ ہے لہذاہمیں چاہیے کہ حلال،جائزاورپسندیدہ چیزیں راہ خدامیں خرچ کرکے اللہ تعالی کوراضی کریں اور یہی خرچ کردہ چیزیں حصول جنت کے لئے بہترین ذریعہ بنےگا .اللہ تعالی سے دعاگوہوں کہ ہم سبہوں کو راہ خدا میں مرغوب ومحبوب چیزیں خرچ کرنے کی توفیق نصیب فرمائے اورجنت میں اس کا نعم البدل عطافرمائے آمین

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad