تازہ ترین

Post Top Ad

جمعہ، 15 مئی، 2020

اعتکاف کےفضائل و اقسام اور احکام

بسم اللہ الرحمن الرحیم 
๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏๏
از - محمدضیاءالحق ندوی 
رمضان المبارک کا بیشتر حصہ گزرنے کو ہے، خیر کے طلبگار خیر کی طرف پیش رفت کررہے ہیں  ،ہر شخص نیکیوں کو بٹورنے کی فکر میں منہمک ہے ، اور اس مبارک مہینہ کے فیوض وبرکات سے استفادہ کے لئے کوشاں ہے تو اسی ماہ مبارک اور بالخصوص اس کے آخری عشرہ کے اعمال میں سے ایک اہم عمل اعتکاف ہے .
 اعتکاف کیاہے ؟اعتکاف ایک ایسی عبادت ہے کہ انسان کچھ وقت کے لئے علائق دنیوی سے کٹ کر خلوت نشیں ہوجائے ،اللہ کے ساتھ اپنے تعلق وبندگی کی تجدید کرلے ، اس کے در پہ آجائے اور ذکر الہی سے دل کی دنیا آباد کر لےنیز تخیلات وتفکرات کی جگہ ذکرالہی اوراس کی محبت میں مست ہو جائے ، مرزا اسداللہ خان غالب نے کیا خوب کہا ہے.

پھر جی میں ہے کہ در پہ کسی کے پڑے رہیں 
 سر زیر بارِ منتِ درباں کیے ہوئے
جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت، کہ رات دن 
 بیٹھے رہیں تصورِ جاناں کیے ہوئے
 دراصل حالت اعتکاف میں انسان دنیا وما فیہا سے منقطع ہوکر اللہ کے درپہ آکرروتا ہے ،گریۂ وزاری کرتاہے ، توبہ و استغفار کرتا ہے اور اللہ تعالی کی تسبیح وتحمید  کرتا ہے ،اور جب تک انسان حالت اعتکاف میں ہوتا ہےاس کا ہرلمحہ عبادت میں لکھا جاتا ہے ،حتی کہ معتکف کا سونا ، کھانا پینا اور اس کی ہر نقل وحرکت عبادت میں شمار ہوجاتی ہے ،اس سے بڑھ کر اور کیا شان ہوگی. 
 اعتکاف کی لغوی وشرعی تعریف : 
اعتکاف کامادہ عکف ہے از باب نصر عکفاوعکوفا اعتکاف کےلغوی معنی " الاقامۃ علی الشئ ولزومہ وحبس النفس علیہ " کسی چیزکولازم پکڑنا ، اپنےنفس کواس پرجمانا، ٹھہرنا غرض یہ ہےکہ اعتکاف کےلغوی معنی مطلقا ٹھہرنےاوررکنے کے ہیں،کمافی القرآن " ما ھذہ التماثیل التی أنتم لھا عاکفون "سورہ الانبیاء. ٥٢وقولہ تعالی " یعکفون علی أصنام لھم " سورہ اعراف ١٣٨ آیت مذکورہ میں اس جگہ لغوی معنی مراد ہے،اور شریعت کی اصطلاح میں اعتکاف " ھوالاقامۃ فی المسجد واللبث فیہ مع الصوم والنیۃ "کوکہتے ہیں،یعنی مسجدمیں روزہ اورنیت کےساتھ ٹھہرنے کو اعتکاف کہتے ہیں" تبیین الحقائق ٣٤٧/١ ، چونکہ اس عبادت میں انسان صحیح معنوں میں ہرطرف سے منقطع ہوکر اللہ تعالی کے گھر میں تواضع وانکساری اور یکسوئی کےساتھ خلوت گزیں ہوجاتا ہے اسی لئے اس کو اعتکاف کہتے ہیں. 
 اقسام اعتکاف :
اعتکاف کی تین قسمیں ہیں ١.واجب ٢.سنت ٣.نفل.
١. اعتکاف واجب :وہ ہے جو نذر یا کسی مسنون اعتکاف کو توڑدینے سے قضالازم ہوگئی ہو ،اس میں جتنے دن کو متعین کیاجاتا ہےاس کو پورا کرنا ضروری ہے البتہ روزہ شرط ہے. 
٢.اعتکاف سنت :وہ ہے جو صرف رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں بیس روزے پورےہونے کے بعد غروب آفتاب سے عید کا چاند دیکھنے تک کیا جاتا ہے ،یہ اعتکاف سنت مؤکدہ علی الکفایہ ہے ، یعنی اگر کسی بستی اور محلہ کی مسجد میں کوئی ایک شخص بھی اعتکاف کرلے تو سب کی طرف سے سنت ادا ہو جائے گی اوراگر ایک بھی شخص اعتکاف نہ کرے تو سب گنہگار ہوں گے. 
٣.اعتکاف نفل :وہ اعتکاف ہے جو کسی بھی مسجد میں بلاتعیین وقت کیا جاسکتا ہے.
 اعتکاف کی تاریخ: 
 اعتکاف کی تاریخ کا جب ہم جائزہ لیتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ اس کی تاریخ روزہ کی تاریخ کی طرح بہت قدیم ہے چنانچہ اللہ تعالی نے اپنی مقدس کتاب میں یوں بیان فرمایا ہے،ترجمہ "اورجب مقررکیا ہم نے خانہ کعبہ کو اجتماع کی جگہ لوگوں کے واسطے اورجگہ امن کی اور بناؤ ابراہیم کےکھڑے ہونے کی جگہ کو نمازکی جگہ اورحکم کیاہم نے ابراہیم اوراسمعیل کوپاک کررکھو میرےگھر کو واسطے طواف کرنے والوں کے اوراعتکاف کرنےوالوں کےاور رکوع اورسجدہ کرنے والوں کے " سورہ بقرہ 125(تفسیر عثمانی) 
 اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم اور اسمعیل علیھماالسلام کے ساتھ ساتھ اعتکاف کا ذکر فرمایا ہے جس سے اس کی نہایت فضیلت کا اندازہ ہوتا ہے اوریہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اعتکاف کا عمل اس امت کےساتھ خاص نہیں بلکہ سابقہ امتوں میں بھی یہ عظیم عمل کسی نہ کسی صورت میں کیاجاتا رہا ہے. 
 اعتکاف کی فضیلت واہمیت : 
اعتکاف کانہ صرف ذکر قرآن کریم میں موجود ہے بلکہ اعتکاف اور معتکفین کی احادیث میں بہت فضیلت وتاکید وارد ہے چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ"بےشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کےآخری عشرہ کا اعتکاف فرمایا کرتے تھے یہاں تک کہ آپ مالک حقیقی سے جاملے پھر آپ کےبعد آپ کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنھن اعتکاف فرماتی رہیں " (صحیح البخاری.کتاب الاعتکاف. باب الاعتکاف فی العشرالاواخر..رقم الحدیث 2026)اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معتکف کے بارے میں فرمایا"اعتکاف کرنےوالا گناہوں سے محفوظ رہتا ہے اور اس کی تمام نیکیاں اسی طرح لکھی جاتی رہتی ہیں جیسے وہ ان کو خود کرتارہا ہو ،(ابن ماجہ کتاب الصیام. باب فی ثواب الاعتکاف.1781) یعنی معتکف بہت سے نیک اعمال مثلا جنازہ میں شرکت ،مریض کی تیمارداری وغیرہ اعتکاف کی وجہ سے رکارہتا ہے تو ان اعمال کااجروثواب معتکف کوکئے بغیر بھی ملتارہتا ہے.
 اعتـــــکاف کا مقصد : 
اعتکاف سے مقصود لیلۃ القدر کو پانا ہے چنانچہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ"
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے اور فرماتے کہ لیلۃ القدر کو رمضان کی آخری راتوں میں تلاش کرو "(صحیح البخاری کتاب فضل لیلۃالقدر.باب تحری لیلۃالقدرفی الوتر 2020)
 مفســـــدات اعتکاف : 
جن باتوں سے اعتکاف فاسد ہوجاتا ہے وہ درج ذیل ہیں بلاعذرمسجد سے ایک ساعت کے لئے بھی نکلنا ،وطئ کرنا خواہ یہ دن میں ہویارات میں عمدا ہویاسہوا ،جان بوجھ کرکھاپی لینا ،اسی طرح بیوی کوبوسہ لےیا شہوت سےچھوئےاور انزال ہوجائےتواعتکاف فاسد ہوجائےگا اوراگر انزال نہ ہوتواعتکاف فاسدنہ ہوگا لیکن ایساکرنا مکروہ تحریمی ہے. 
 مکروہات اعتکاف : 
مندرجہ ذیل باتیں حالت اعتکاف میں مکروہ ہیں ،لایعنی باتیں کرنا، فضول گوئی ،مسجد میں سگریٹ ،بیڑی اور حقہ پینا،چپ سادھےرہنا (یعنی طویل سکوت بہتر نہیں) ،ضرورت سےزیادہ سامان لانا اورمسجدکو تجارت گاہ بنانا وغیرہ. 
 مباحات اعتکاف : 
اعتکاف کےدوران نہانا،تیل لگانا، کپڑےبدلنا ، خوشبو لگانا، کنگھاکرنا،دینی ومباح گفت و شنیدکرنا ، مسجد میں کھاناپینااورسونا ، مسجدمیں مخصوص جگہ بنالینا ،بقدرضرورت مسجدمیں سامان رکھنا اور اسی طرح ضروریات زندگی کےلئے مبیع کو مسجدمیں حاضرکئے بغیر خریدوفروخت کرناوغیرہ. 
 کن صورتوں میں اعتکاف توڑنا جائز ہے ؟ 
اعتکاف کے دوران کوئی ایسی بیماری پیداہوجائےجس کاعلاج مسجدمیں رہتے ہوئے ناممکن ہو ،ڈوبتےیاجلتے ہوئے آدمی کوبچانےاور آگ بجھانے کےلئے بھی اعتکاف توڑ کرمسجد سے باہرنکلنا جائزہے ،اگرکوئی جنازہ آجائے اورنماز پڑھانےوالا کوئی نہ ہوتو اعتکاف توڑناجائزہے اسی طرح والدین ،بیوی اور بچے میں سے کوئی سخت بیمار ہوجائے تو اعتکاف توڑکرمسجدسےباہر نکلنا جائز ہے. 
 اعتکاف کی سب سے افضل جگہ: اعتکاف یوں تو کسی بھی مسجدمیں ہوسکتاہے،جس میں نماز پنجگانہ اداکی جاتی ہو، لیکن اعتکاف کی سب سے افضل اوربہتر جگہ مسجد حرام ہے اس کےبعدمسجد نبوی اس کے بعدمسجد اقصی ہے جس کوبیت المقدس کہتے ہیں،پھروہ مسجدجس میں جمعہ ہوتاہو.بدائع الصنائع. ٢٨١/٢ 
 خواتین کااعتکاف : عورتوں کےلئےبھی اعتکاف کرنامستحب ہے، البتہ عورتیں اپنے شوہرسے اجازت لےکرہی اپنے گھر کے خاص حصہ میں جس کو اس نےمنتخب کیاہو اعتکاف کریں گی. 
  واللہ اعلم بالصواب

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad