تازہ ترین

Post Top Ad

جمعہ، 15 مئی، 2020

جو خواتین یہ کام کرتی ہیں وہ شادی کے بعد خواجہ سرائوں کو جنم دیتی ہیں۔۔۔سائنس اور تحقیق کا ایسا دعویٰ جس نے دنیا بھر میں تہلکہ مچا دیا

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) تیسری جنس یعنی خواجہ سرائوں کی پیدائش کی ایک ایسی وجہ سامنے آگئی ہے کہ پوری دنیا میں تہلکہ مچ گیا ہے ایک بھارتی پروفیسرنے خواتین کے مغربی پہناوے کو ان کی اولاد کے پیدا ہونے پر اس کے اثرات کی وجہ قرار دے دیا ہے ۔ انڈیا ٹوڈے نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ بھارت کی ریاست کیرالہ کے شہر کیلاڈے کےایک کالج پروفیسر نے دعویٰ کیا ہے کہ مغربی طرز کا لباس جینز پہننے والی خواتین کے ہاں خواجہ سرا بچوں کی پیدائش کے امکانات زیادہ ہو تے ہیں۔ شری شنکر کالج کے پروفیسر رجنیتھ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جو عورتوں پہناو ے میں اپنے آپ کو مردوں سے الگ نہیں کرنا چاہتی ا سکے ہاں پیدا ہونے والی اولاد کے بارے میں آپ کی توقعات کیا ہونی چاہیئیں۔ 

”اگر ایک عورت مردوں جیسا لباس پہنتی ہے تو اس کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کی جنس کیا ہو گی؟ ایسی خواتین کے ہاں پیدا ہونے والے بچے خواجہ سراءاور ہیجڑے کہلاتے ہیں۔جب کوئی خاتون اپنی نسوانیت اور کوئی مرد اپنی مردانگی کی ہتک کرتا ہے تو ان کے ہاں پیدا ہونے والی بیٹی مردوں کی خصوصیات کی حامل ہو گی اور یہ بیٹی آگے جن بچوں کو جنم دے گی وہ خواجہ سراءہوں گے۔“ڈاکٹر رجنیتھ نے دعویٰ کیا ہے ان کے اس دعوے کے پیچھے سالہا سال کے تجربات اور سائنسی ریسرچ ہے ۔ اور یہ دعویٰ ناقابل تردید ہے ۔تو ان کے ہاں پیدا ہونے والی بیٹی مردوں کی خصوصیات کی حامل ہو گی اور یہ بیٹی آگے جن بچوں کو جنم دے گی وہ خواجہ سراءہوں گے۔“ڈاکٹر رجنیتھ نے دعویٰ کیا ہے ان کے اس دعوے کے پیچھے سالہا سال کے تجربات اور سائنسی ریسرچ ہے ۔ اور یہ دعویٰ ناقابل تردید ہے ۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad