تازہ ترین

Post Top Ad

Thursday, May 21, 2020

کفارۂ صیام کی شرعی حیثیت

 ازقلم:  محمد ضیاء الحق ندوی 
باسمہ تعالی 
کفارہ عربی  زبان کا لفظ ہےجس کے لغوی معنی تلافی ،بدلہ ، عوض، گناہ کےبدلےکی چیز اورچھپانے کےہیں اور شریعت کی اصطلاح میں کفارہ لفظ "کفارۃ"سے ماخوذ ہےجس کامعنی ستر یعنی چھپاناہے.گویا تاوان کےطورپرقربانی یا کوئی اورچیزدینےکوکفارہ کہتے ہیں. کفارہ کی چار قسمیں ہیں. ۱.کفارہ یمین ۲.کفارہ قتل ۳.کفارہ ظہار ۴.کفارہ صیام. *توآئیے ہم یہاں کفارہ صیام سے متعلق گفتگوکرتے ہیں *  رمضان مبارک کاروزہ قصداتوڑنے کاکفارہ ایک غلام آزادکرنا یا دومہینے  لگاتار روزے رکھنا یا ساٹھ مسکینوں کوکھانا کھلانا ہے،انسان چونکہ گناہوں کا پتلا ہے روزہ جیسی عظیم عبادت کی حالت میں بھی ایسے گناہ کربیٹھتاہےجس کی وجہ سےکفارہ لازم ہوتاہے تواسی کی تلافی کےلئے بطورجزرو توبیخ اورتنبیہ کےاللہ تعالی نے ایسے لوگوں پر روزےکاکفارہ واجب فرمایا ہے،ایک روزہ کا کفارہ میں ایک غلام آزاد کرنے کہاگیا ارشاد ہے " فتحریررقبۃ "اور اگر یہ ممکن نہ ہویا اس کی استطاعت نہ ہو تو ساٹھ روزے پےدرپے رکھناواجب ہے"فمن لم یجدفصیام شھرین متتابعین "اور اگر کسی وجہ سے ساٹھ روزےبھی نہ رکھ سکےتو ساٹھ مسکینوں کوکھانا کھلانا واجب ہے

 "فمن لم یستطع فاطعام ستین مسکینا " حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ بیٹھےہوئےتھےکہ ایک آدمی (جس نےرمضان میں دن کےوقت اپنی بیوی سےصحبت کرلی) آیااور کہا:اےاللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم میں ہلاک ہوگیا،آپ نے فرمایا: کیاہوگیا تمہیں ؟اس نے کہا میں نےروزہ کی حالت میں اپنی بیوی کےساتھ جماع کرلیا،آپ نےفرمایا کیاتم ایک  غلام آزاد کرسکتے ہو؟اس نےکہا نہیں، آپ نے فرمایا:کیاتم مسلسل دوماہ روزےرکھ سکتے ہو ؟اس نے کہانہیں،آپ نے فرمایاساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلادو. (مسلم. کتاب الصیام. باب تغلیظ تحریم الجماع فی نھار رمضان علی الصائم وجوب الکفارۃ رقم الحدیث ۲۶۵۱) 

 قارئین کرام ! مذکورہ تمام باتوں سے کفارۂ صیام کی شرعی حیثیت کا اندازہ بخوبی لگایاجاسکتا ہےتاہم ایک بات یادرکھنا ضروری ہےکہ اگرکسی وجہ سے مسلسل ساٹھ روزےنہیں رکھ سکے، درمیان میں ناغہ ہوگیاتو ازسرےنو روزےرکھنے ہوں گے،پچھلے روزوں کا اعتبارنہ ہوگا. ہاں اگرکسی عورت کوحیض آجائے،اور درمیان میں اس وجہ سے ناغہ ہوجائے تواس کےلئے یہ ناغہ معاف ہےاورحیض کےبعدصرف اتنےروزے رکھنےہوں گےجتنےباقی رہ گئے ہیں. اسی طرح کھانا کھلانےمیں بھی یہ شرط ملحوظ رہےکہ ساٹھ محتاجوں کودو وقت پیٹ بھر کھانا کھلانا ضروری ہے ،اور اگر کھانا نہ کھلائے بلکہ ساٹھ مسکینوں کو کچااناج یا اتنے بقدر اناج اس کی قیمت دے دے تب بھی جائزہے .
 واللہ اعلم بالصواب

No comments:

Post a Comment

Post Top Ad