تازہ ترین

Post Top Ad

جمعہ، 15 مئی، 2020

کسی چراغ کا اپنا مکاں نہیں ہوتا

حافظ دانش فلاحی سکریٹری شانتی سندیش سیٹر بلریاگنج
رمضان  ایک ایسا مقدس مہینہ ہے جو اللہ کی رحمت ، مغفرت اور  جہنم کی آگ سے نجات کا پروانہ لے کر آتا ہے۔مقدس رمضان کا ایک ایک لمحہ  ہمارے  لیے انتہائی اہم ہوتا ہے۔یہ مہینہ  قرآن سے تعلق کا بھی مہینہ ہے۔ کیونکہ اسی مہینے میں قرآن کا نزول شروع ہوا۔قرآن کے تعلق سے ہمارا  ایک بہت بڑا المیہ یہ ہے کہ آج ہم نے قرآن کو عوام کی کتاب بنانے کے بجائے خواص کی کتاب بنادیا۔اور عام مسلمان بھی یہی سمجھتا ہے کہ قرآن کو سمجھنا اس کے بس کی بات نہیں ہے۔اس لئے آج اس بات کی شدید ضرورت محسوس کی جاتی  ہے کہ قرآن کے عوامی حلقے قائم کیے جائیں۔عوام الناس کو قرآن سے جوڑنے کی پہل کی جائے ۔رمضان تعلق بالقرآن کیلئے سب سے زرخیز مہینہ ہے۔علمائے کرام  کی یہ ذمہ داری بنتی  ہے کہ وہ اس مہینے میں عوام کا تعلق اللہ سے جوڑنےاور قرآن سے مضبوط کرنے کے لیے کام کریں۔ ضروری نہیں  ہے کہ ہمارا اور آپ کا یہ کام بڑے پیمانے پر  ہو۔ اللہ نے جس علاقے میں ہمیں پیدا کیا سب سے پہلے وہ علاقہ   وہاں کے لوگوں کی توجہ کا مستحق بنے۔

ویسے تو رمضان کا پورا مہینہ خاص عبادتوں کا ہی مہینہ ہے لیکن رمضان کے آخری عشرے کے جو فضائل ہیں وہ خوش نصیب لوگوں کے حصے میں آتے ہیں ۔اس لئے آخری عشرے کی طاق راتوں میں شب قدر کو تلاش کرنا  ہم سب کے  لئے خوش قسمتی کی بات ہے۔اور  یہ اسی کے حصے میں آتا ہے جس کا نصیب اچھا ہو۔اعظم گڑھ  شہر سے اتر کا علاقہ جہاں بلریاگنج کے نام سے ایک مسلم اکثریتی قصبہ  اور جامعۃ الفلاح جیسی عظیم درسگاہ  قائم ہے۔اس علاقے کی ایک نمایاں خوبی یہ بھی ہے کہ یہاں عوام سے مضبوط  تعلق رکھنے والے ، زمینی سطح سے جڑ کر کام کرنے والے ایک ممتاز عالم دین حضرت مولانا محمّد طاہر مدنی صاحب کی جائے پیدائش بھی ہے۔

مولانا طاہر مدنی صاحب علمی دنیا کے ایک ایسے معروف نام ہیں  جو تعارف کے محتاج نہیں،ان کی سب سے نمایاں خوبی یہ ہے کہ انہوں نے  اپنے آپ کو عوام کی خدمت کے لیے وقف کر دیا ہے۔اس کے علاوہ عوام کا تعلق قرآن سے جوڑنا یہ ان کا مشن رہا ہے۔سادگی کا پیکر،ملنساری ، ہر شخص سے تپاک سے ملنا یہ مولانا کا امتیاز ہے۔بلریا گنج مسلم اکثریتی علاقہ ہونے کی وجہ سے رمضان کے دنوں میں ایک خاص چہل پہل رکھتا ہے ۔ رمضان کی راتوں میں  نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں کا الگ الگ محلوں ،پارکوں اور سڑکوں پر بائیک چلانا ،راستہ بند کر کے میچ کھیلنا اور دوسری بہت ساری لغو چیزوں میں مصروف رہنا رمضان کی راتوں میں بہت عام تھا۔کرنے کے بہت سارے کاموں میں سے ایک کام یہ بھی  تھا کہ ان نوجوانوں کے جذبات کو صحیح سمت دی جایے۔رمضان کی مقدس راتوں کو جاگ کر یا کھیل تماشوں میں لگا کر  ضائع کرنے کی بجائے ان کے رخ کو اللہ سے تعلق کی طرف موڑنا ایک بہت بڑا کام تھا ۔مولانا طاہر مدنی صاحب کا اس علاقے پر بہت بڑا احسان یہ رہا ہے کہ انہوں نے رمضان کے آخری عشرے کو خاص مقصد کے لئے استعمال کیا ۔بلریا گنج بازار والی مسجد میں نصف شب کے بعد  مولانا تشریف لاتے  اور تقریبا ڈیڑھ گھنٹے تک مولانا کا حلقہ درس قرآن لگتا۔عوام کی زبان میں قرآن کا درس ہوتا ، قران پاک کی تفہیم کی جاتی ، اس کے معنی اور مطالب میں غوروفکر کیا جاتا ،اس کے بعد سوال جواب کا سلسلہ جاری رہتا، مولانا انتہائی سادہ الفاظ میں  نوجوانوں کے سوالوں کے جواب دیتے۔یہ حلقہ درس قرآن ایک  کلاس کی طرح ہوتا ہر آدمی سیکھنے کا جذبہ لے کر آتا اور بھرپور طریقے سے مولانا کی ذات سے فائدہ اٹھاتا ۔

آخری عشرے میں حلقہ درس قرآن کے دیگر فواید کے علاوہ  ایک بہت بڑا فائدہ یہ ہوا کہ وہ تمام نوجوان جو پوری رات جاگ کر کھیل تماشوں میں اپنے اوقات ضائع کرتے تھے وہ حلقہ درس قرآن میں شامل ہونے لگے اور ان کی زندگیوں میں بھی اس کی وجہ سے ایک بڑا بدلاؤ نظر آنے لگا۔درس قرآن کے فورا بعد تہجد کی نماز ہوتی ، بلریاگنج  اوراطراف کے نصف درجن سے زائد گاؤں کے افراد تشریف لاتے تھے۔ہر آدمی  گناہوں کا بوجھ لیکر آتا اور رات کے آخری عشرے میں اللہ کے سامنے اپنے گناہوں کی معافی مانگتا، روتا ،گڑگڑاتا، توبہ کرتا اور ایک سکون اور اطمینان کی حالت لے کر اپنے گھر لوٹتا تھا۔ یہ سلسلہ تقریبا دس سالوں سے رمضان کے آخری عشرے میں جاری  تھا۔یہ مولانا ہی کی ذات تھی  جس سے تعلق کی بنیاد پر لوگ کھینچے چلے آتے تھے۔لیکن افسوس  سی اے اے اور این آر سی کے خلاف  ہونے والے مظاہروں میں  مولانا کا نام ماخوذ کر کے  ظالم حکومت نے انہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا۔اور اب تقریبا سو دن پورے ہونے کو ہیں لیکن مولانا کی رہائی کی کوئی سبیل پیدا ہوتے ہوئے نظر نہیں آرہی۔

مولانا محترم کے نہ ہونے کی وجہ سے  یہ پورا علاقہ اپنی رونق کھو چکا ہے۔کوئی ایسی شخصیت  نظر نہیں آرہی ہے جو اس علاقے کے مسلمانوں کی رہنمائی کر سکے۔ہر آدمی اپنی اپنی خول میں بند ہے۔ کرونا وائرس کی وجہ سے ہونے والے لاک ڈاؤن نے  جس طرح  مسجدوں کی رونقیں چھین لیں ،اجتماعی عبادت کی لذت سے محروم کردیا، وہیں مولانا کی کمی ہر لمحے محسوس ہوتی رہی۔ایک عجیب ہو کا عالم ہے ، مختلف سماجی مسائل میں  راجح بہ شخصیت نظر نہیں آتی۔رمضان کا آخری عشرہ بس آہی  گیا ہے  ان ایام میں مولانا کا ہمارے درمیان  نہ ہونے کا شدت سے احساس ہو رہا ہے۔مولانا کے لیے قید بھی سنت یوسفی کی  طرح ہے۔ جو کام مولانا باہر کی کھلی فضا میں انجام دیتے تھے  وہی جیل کے اندر بھی انجام دے رہے ہیں۔درسِ قرآن کے حلقے وہاں بھی قائم ہیں۔یہ تو ہماری بدنصیبی ہے کہ مولانا کی ذات سے اس مرتبہ ہمیں فائدہ ہونے کی بجائے جیل میں بند دوسرے قیدیوں کو فائدہ ہورہا ہے۔مولانا کی ذات تو ایک روشن چراغ کی طرح ہے ،جس سے جو چاہے جب چاہے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

بقول شاعر۔
جہاں رہے گا وہیں روشنی بکھیرے گا 
 کسی چراغ کا  اپنا  مکاں  نہیں  ہوتا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 دعا ہے  کہ رمضان کی ان مقدس ساعتوں میں  اللہ ہماری دعاؤں کو قبول کرے اور مولانا محترم و دیگر کی رہائی کی سبیل پیدا کرے، ہمارے اندر ظالم سے مقابلہ کرنے کی طاقت بھر دے۔اور فتن و آزمائش کی اس گھڑی میں عالم اسلام اور مسلمانان ہند کو ثابت قدم رہنے کی توفیق اور طاقت دے۔آمین

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad