تازہ ترین

Post Top Ad

Friday, May 22, 2020

مسجد اقصی کی بازیابی اور تحفظ کیلئے تمام مسلمانان عالم متحد ہوں، عطاء الرحمن ندوی

صہیونیوں کا مقابلہ کرنے کیلئے اتحاد کی اشد ضرورت، اتحاد، تعلق مع اللہ کیساتھ مسجد اقصیٰ کی بازیابی کیلئے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کریں 

 بارہ بنکی لکھنؤ(یواین اے نیوز22مئی2020)مسجد اقصیٰ قبلۂ اول ہے جو انبیاء کا مسکن رہا ہے اور اللہ نے اسکے ارد گرد برکت رکھی ہے اسکی بازیابی اور تحفظ کیلئے کوشش ہر مسلمان کا  مذہبی فریضہ ہے،تاکہ مسجد اقصیٰ ایک بار پھر  یہودیوں کے قبضہ سےازاد ہوسکے، مسلم حکام کو چاہئیے کہ اسرائیل کا  کم از کم اقتصادی بائیکاٹ کریں اور بین الاقوامی ادارے ملت فلسطین قوم  کے اہداف کی حمایت کریں مذکورہ خیالات کا اظہار قاری عطاء الرحمن ندوی نے یوم القدس کے موقع پر جاری اپنے ایک پیغام میں کیا 

انھوں نے مزید کہا کہ موجودہ نازک ترین حالات میں عالم اسلام اور عرب اقوام کی جانب سے خاموش صہیونی دشمن کو اپنےناپاک عزائم کو آگے بڑھانے کا موقع فراہم کر رہی ہے،صہیونیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے مسلمانوں کے درمیان اتحاد اور اتفاق کی ضرورت ہے. اتحاد وہ واحد ہتھیار ہے جس کے ذریعے مسجد اقصیٰ اور مسلمانوں کے مقدس تاریخی شہر بیت المقدس کا دفاع ممکن بنایا جا سکتا ہے،اسکے لئے مسلم ممالک کے سربراہ اپنا کردار ادا کریں  

قاری عطاء الرحمن ندوی نے کہا کہ مسجد اقصی کی آزادی کیلئے ہم جو بھی کرسکتے ہیں وہ کریں ہم ہندوستان میں اپنی تقریروں،تحریروں وغیرہ کے ذریعہ دنیا کو بتاسکتے ہیں کہ ہم دوسوملین مسلمان اس مسئلہ میں ایک ہیں، مسجد اقصی کے تعلق سے عوام الناس کو بیدارکرنے کے لئے اس مسئلہ کو مسجدوں، مدرسوں، یونیورسٹیوں اورکالجوں کے طلباء کو بتایاجائے۔
موجودہ وقت میں ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا بھر کے مسلمان بلا تفریق رنگ ونسل، مسلک و مکتب باہم متحد ہو جائیں اور اپنے مشترکہ دشمن اسرائیل کیخلاف آواز بلند کریں، اتحاد امت اور تعلق مع اللہ  ہی سے باطل طاقتوں کے منصوبوں کو ناکام بنایا جاسکتا ہے اور انکو شکست فاش دی جا سکتی ہے، 
قاری عطاء الرحمن ندوی نے مزید کہا کہ ضرورت ہے کہ  اسرائیل کیخلاف برسرپیکار حماس اور دیگر تحریکوں کے ہاتھ مضبوط کریں، اسرائیل اور اس کے پشت پناہوں کیخلاف اپنے اپنے حصے کا کردارادا کریں، قبلہ اول کی آزادی ، فلسطین کی آزادی ، اسرائیل کی نابودی کے یک نکاتی ایجنڈے پر ایک ہوجائیں،اور خصوصی دعاؤں کا اہتمام کریں۔

No comments:

Post a Comment

Post Top Ad