تازہ ترین

Post Top Ad

جمعہ، 15 مئی، 2020

مسلمانوں پر نفرت انگیز حملوں میں اضافہ/ساٹھ سے زائد مسلم مخالف حملے ریکارڈ کیے جاچکے ہیں:

سمیع اللہ خان
1_ ۹ مئی ۲۰۲۰ کو گجرات کے احمدآباد میں پولیس والوں نے مسلم اکثریتی محلوں میں گویا دھاوا بول دیا افطار کے وقت گھر میں گھس گھس کر بچوں اور خواتین کو مارا، یہاں تک کہ قرآن کریم کو بھی اٹھا کر پھینک دیا2_۱۳ مئی کو الہ آباد میں دو مسلم پھل فروشوں صغیر اور نوشاد کو بھرت سنگھ نے بہت پیٹا حملہ آور نے صغیر اور نوشاد سے پہلے ان کے آئی ڈی پروف مانگے، شناختی کارڈ چیک کرلینے کے بعد بھرت سنگھ نے دونوں کو گالیاں دی اور لاٹھی سے پٹائی کی 

 3_چنئی میں بیکری والے نے اعلان شائع کیا ہیکہ ان کی بیکری میں مسلمان کام نہیں کرتے ہیں_  4_گجرالہ اترپردیش میں شکیل احمد اور ڈاکٹر ذاکر کورنٹائن ہوئے لوگوں میں پھل اور راشن تقسیم کرنے کی خدمت انجام دیتے ہیں لیکن جب وہ انیکانت کالج کورنٹائن سینٹر پہنچے تو ایس آئی آفیسر انوج نے انہیں گالیاں دیں اور ان پر الزامات لگائے_5_ہنڈیا الٰہ آباد میں گاؤں والوں نے یہ پوسٹر چسپاں کیے جن پر لکھا ہوا تھا کہ: " کٹھ ملّوں کا داخلہ ممنوع ہے "اس بابت پولیس مقدمہ بھی درج ہوا ہے اور تین گرفتاریاں بھی ہوئی ہیں_

6_پرکاش نرسنگ ہوم متھرا میں ایک مسلم مریض کو مسترد کردیا گیا ہاسپیٹل اسٹاف نے صراحت سے کہا کہ ہم صرف ہندوﺅں کا علاج کرتےہیں، ہم مسلم مریضوں کو نہیں دیکھ سکتے _7_اندور مدھیہ پردیش کے ایک گاؤں میں اعلامیہ شائع ہوا کہ مسلمان تاجروں ٹھیلے گاڑی پر سبزی پھل بیچنے والوں کا داخلہ ممنوع ہے 8_سروج ہاسپیٹل راجندر نگر، پٹنہ بہار میں ہاسپیٹل انتظامیہ نے وضاحت کی کہ ہم مسلمانوں کا علاج نہیں کرتےہیں _9_جودھپور راجستھان میں یاسین نامی سبزی فروش کو راہل پریہار نے ہراساں کیا، اور اس کا گھیراؤ کیا یہ الزام لگاتے ہوئے کہ وہ کرونا وائرس پھیلا رہا ہے_

 یہ گزشتہ چند دنوں کی واردات ہیں، جو Verified ہیں, لیکن کرونا لاکڈاون کے دوران مسلمانوں کے خلاف بھاجپا حکومت نے ریاستی سطح پر، آر ایس ایس اور اس کی ہمنوا شدت پسند ہندو تنظیموں نے عوام میں گھل مل کر یہ زہر اکسایا، پھر الکٹرانک میڈیا نے اس خطرے کو مہلک بم بنا کر پیش کیا، جس کے بعد لاکڈاون میں مسلمانوں پر جان لیوا حملوں، ان کے گھروں میں گھس کر ظالمانہ پولیس کارروائیوں اور ان کے خلاف بائیکاٹ کی صداؤں میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوگیا، ساٹھ سے زائد واردات ریکارڈ میں آچکی ہیں، اور جو ریکارڈ میں نہیں آسکیں وہ یقینًا مزید ہیں _

 ایک طرف ایسی خطرناک صورتحال بن چکی ہے، کہ ایک وباء عام کے لاکڈاون تک میں مسلمانوں پر اسلامو فوبیا سے متاثرہ ساٹھ سے زائد واردات ریکارڈ کی گئی ہیں، سوچیے کہ ایسے میں نوجوانوں کی نفسیات پر کیا گزرتی ہوگی؟ ایک طرف بےعزت کرنے والے یہ حملے تو دوسری طرف ریاست کی سرپرستی میں پولیس اور ایجنسیوں کی کارروائیاں ہیں، جس کے شکار ڈاکٹر کفیل، ظفر الاسلام خان، عمر خالد اور صفورہ زرگر جیسے لوگ سمیت بےشمار مسلم نوجوان جیلوں میں ٹھونسے جاچکے. لیکن ٹرینڈ یہ چل پڑا ہیکہ ان سب کو چھپا لیا جائے یا بہت معمولی اور ہلکا بناکر پیش کیا جائےیہ کوئي حل نہیں ہیکہ ارباب حل و عقد فرمائیں کہ ان مظالم کو مت دیکھو کیونکہ یہ مایوسی پیدا کرتی ہیں، یہ بڑا ہی بے حس اور راہ فرار والا حیلہ ہے کہ آپ جب اپنی ملت کے تحفظ کی ذمہ داری ادا نہیں کرپا رہےہیں تو بجائے اپنی اس کمزوری کو تسلیم کرکے اسے سدھارنے کے، آپ یہ راہ فرار اختیار کرتےہیں کہ مسلمانوں کو ایسی خبروں سے بچنا چاہیے کیونکہ اس سے مایوسی اور ڈپریشن اور انتہاپسندی پیدا ہوتی ہے، یہ کیسی شترمرغی اور کیسی بے تکی باتیں ہیں؟ آپکی کمیونٹی میں ماں بہنوں پر گھر میں گھس کر حملہ کیا جارہا ہے لنچنگ، بائیکاٹ اور ہسپتال سے واپس کیا جارہاہے اور آپ اتنے پتھر دل ہونے کا ثبوت دیا چاہتے ہیں کہ انہیں ڈسکشن پینل سے ہی خارج کردیا جائے؟ 

اور یہ بڑی عجیب منطق بیان کی جاتی ہیکہ لوگ آپکو مظلوم سمجھ رہےہیں، ارے بھئی جب مظلوم ہیں تو کیا ظالم کہلائیں؟ 
اب ظلم و ستم کی جو ستر سالہ تاریخ تھی وہ اپنے انتہائی موڑ پر ہے، اگر قوم کے نوجوانوں کی ہمدردی ہے تو پہلے انہیں مظلومیت کی نفسیات سے نکال ظالموں کے سامنے طاقتور انداز میں لائیے، جب تک مجموعی طورپر مسلمانوں کو اپنے حقوق، عزت اور اپنے ظالموں کے خلاف کامیاب اقدام نہیں ملے گا، اس ملک کا مسلمان ایک غلط سمت کا شکار رہےگا، غیر فطری بہانے فطری نفسیات کو مطمئن نہیں کرسکتے اگر آپ اب بھی نہیں جاگتے اور دامن ہی بچانا چاہتےہیں نوجوان نسل کو ہی کوستے ہیں، جبکہ طعنے اور کوسنے والی زبان اپنے اندر خود ایک ردعمل پر ابھارنے والا جذبہ رکھتی ہے، ایسا ہی رہا تو یقینًا اندرون خانہ ہماری قوم میں مزید خراب نفسیات پروان چڑھیں گی

ہمارے ملک کے آئین میں بھی ظلم کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کے مواقع موجود ہیں انہی کا استعمال کرتے ہوئے شروعات کیجیے اور آگے بڑھ کر الله کا انصاف قائم کیجیے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad