تازہ ترین

Post Top Ad

Thursday, May 21, 2020

جمہوری ملک نیپال اور نیپالی مسلمان جائزہ و تجویز

محمد طاسين ندوي
بسم اللہ الرحمن الرحیم
نیپال جغرافی اعتبار سے ایک چھوٹا سا ملک ہے اس کی سرحدیں شمال میں چین، جنوب، مشرق اور مغرب میں ہندوستان ہے نیپال کا جغرافیہ انتہائی متنوع ہےیہاں زرخیز میدانی زمین،جنگلاتی پہاڑ اور دنیا کے آٹھ بلند ترین پہاڑ بھی نیپال میں ہی ہے  ماؤنٹ ایورسٹ کی سب سے اونچی چوٹی بھی نیپال ہی میں واقع ہے نیپال کا پایۂ تخت کاٹھمنڈو ہے اور یہی ملک کا بڑا شہر بھی ہے نیپال میں مختلف نوع اور نسل و زبان کے لوگ رہتے ہیں ،جبکہ نیپالی زبان یہاں کی سرکاری زبان ہے،پہاڑی علاقہ میں سفید چمڑے والے نیپالی عموما رہتے بستے ہیں اور زرخیز و ترائی علاقہ "مسطح علاقہ"  میں آبادی نیپالی مسلم اکثریت کی ہے اور ان کا رہن سہن تہذیب و ثقافت عموما ہندوستانی کلچر سے ملتی جلتی ہے تاریخ بتاتی ہیکہ اسلام ہندوستانی تجار کے توسط سے نیپال پہنچا اسلئے نیپال میں  ہندوستانی تہذیب غالب رہی یہاں رہنے والے مسلمان عموما پسماندہ اور ان پڑھ اور اپنے ملکی وسرکاری  زبان "نیپالی زبان" سے بھی نابلد ہیں

 گذشتہ کچھ سالوں تک یہ خالص ایک ہندو ملک تھا لیکن وہ۲۰۰۸ء کے شنگھرس اور انقلاب کے بعد یہ ایک جمہوری ملک بن کر افق عالم پر اپنا نام زد کیا ہے ان ساری چیزوں کے باوجود بھی یہ ملک اپنے پہلے آئین و قانون میں کوئی خاصی تبدیلی نہیں لائی گئی ہے مسلمان کے حقوق کو پامال کیا گیا ہے نہ عیدین کی چھٹی اور نہ کوئی اور حقوق دیے گئے ہیں اگر نیپالی آئین کے رو سے مسلمان کی حیثیت ملک نیپال میں دیکھی اور سمجھی جائے تو بالکل کم سے کم ہے اگر صفر کہیں تو غلط نہ ہوگا یہ کمیاں ہمارے ہی وجہ سے ہیں کیونکہ ہمارے پاس نہ نیپالی زبان ہے نہ ہی ہمیں قائدین ایسےملے ہیں اور نا ہی کوئی اسکول، کالجز، یونیورسٹی، ناہی کوئی مناسب لائیبریری  جسکو مرجعیت حاصل ہو اور نہ اسلامی سینٹر اور ناہی ایک بہت ہی اہم شئی میڈیا اور نیوز چینل جسے جمہوریت کاچوتھا ستون شمار کیاجاتا ہے  اور کوئی بھی قوم ان سب چیزوں کو بروئے کار لاکرہی  اپنی شناخت اور اپنی پہچان بناتی ہے. اور ہم اتنے گئے گزرے ہیں کہ ہمارے اندر اس فقدان کی کمی تک  محسوس نہیں ہورہی ہیکہ ہم اس کی تلافی کریں اگر ہم ایسے خواب خرگوش میں مست رہے

 تو وہ دن دور نہیں کہ ہمارا حشر -اللہ نہ کرے- بوسنیا،  چیچینا، برما،.روہنگیہ کے مسلمانوں  جیسا ہوجائے ابھی وقت ہے اپنے حقوق کی لڑائی لڑنے کا حکومت سے اپنے مطالبات کا اور اچھے نسل نو کی آبیاری کا نیپالی جو سرکاری زبان اس پر عبور پانے کا اگر ہم نے اس زبان پر اپنی گرفت مضبوط نہ بنائی اور اپنے بچوں کو بھی اس سے دور رکھا تو ہمارے قائدیں ایسے ہی ہونگے کہ جس کو یہ بھی نہ پتہ کہ دین اسلام اور بنیاد اسلام کیا ہے میں تو کہتا ہوں اور برملا کہتا ہوں مدارس کے طالبعلموں کو کہ آپ جسطرح اپنے لئے عربی اردو زبان کو پڑھنا لکھنا جزء حیات سمجھتے ہیں تو اسی طرح ملکی نیپالی زبان اور انگریزی زبان پر عبورپائییے  گاؤں،  معاشرہ و سماج اور ملک میں اپنے علم و ادب تہذیب و بیان اور زبان کا لوہا منوایے ابھی عمر ہے کرنے کے یہی کام ہیں کیجئے ضرور کیجئے اور اپنی کامیاب اور سرخروئی کو اپنے نام کیجئے

 تاکہ جب کبھی سرکاری آفس، بینک اور کوئی ایسی جگہ جائیں تو آپ شرم سے پانی پانی نہ ہوں  نہ جھجھکیں نہ سوچیں کہ لب کھولوں تو کیسے، بولوں تو کیابولوں نہ زبان آتی ہے اور نہ تحریر تو اس ذلت و خواری اور لوگوں کے ذہن میں جنم لینے والے سوالات سے بچنے کہ لئے اپنے کو اس لائق بنانےکی فکر اوڑھ لیں تاکہ ہمارا مستقبل تابناک و درخشاں ہواور ہم اپنا منھ چھپانے سے محفوظ رہ سکیں تو آئیے ہم مسلمانان نیپال اب عہد جدید کریں اور نیپال کے آئین و قانون کو پڑھنے کی فکر، نیپالی زبان پر عبور حاصل کریں اور اپنے حقوق اور آزادی کا پرزور مطالبہ کریں کہ صاحب اقتدار سمجھ لے کہ اب نیپالی مسلمان نے ہوش کا ناخن  لے لیا ہے کیونکہ تعلیم ہی ایسی چیز ہے جس کے سامنے بڑے بڑے عیاروں او مکاروں نے گھٹنے ٹیکے ہیں

بقول علامہ اقبال علیہ الرحمہ
"تعلیم کی تیزاب میں ڈال اسکی خودی کو
ہوجاٰے ملائم تو جدھر چاہے اسے پھیر 
تاثیر میں اکثیر سے بڑھ کر ہے یہ تیزاب 
سونے کا ہمالہ ہو تو مٹی کا ایک ڈھیر  "

میں دعاگوہوں کہ اللہ تعالی ارباب  مدارس ومکاتب اور عام مسلمانوں کو یہ سوچ سمجھ دے کہ ملکی اور سرکاری زبان کو سیکھنے سیکھانے کی جہد پیہم ہوسکے تاکہ ہمارا مستقبل کا ستارہ اپنے آب و تاب کے ساتھ چمکتا اور دمکتا رہے .آمین                

No comments:

Post a Comment

Post Top Ad