تازہ ترین

Post Top Ad

Thursday, May 21, 2020

قرآن دستور حیات اور فوز و فلاح کا ضامن ہے

محمد قاسم ٹانڈؔوی
ماہ رمضان کو ماہ نزول قرآن سے بھی موسوم کیا جاتا ہے، کیوں کہ اسی مبارک و مسعود مہنیہ میں قرآن کریم نازل ہوا ہے۔ اور حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت جبریل امین کے ساتھ سال بھر نازل ہونے والے حصے کا دور (تکرار) اسی ماہ رمضان المبارک میں خصوصیت کے ساتھ اہتمام فرمایا کرتے تھے۔الغرض ! رمضان اور قرآن کا اس ماہ مبارک سے حد درجہ تعلق اور نسبت ہے، اسی لئے دور نبوت و صحابہ سے لےکر آج تک امت اسی راہ پر گامزن ہے کہ آمد رمضان کے ساتھ ساتھ اس کا تعلق اور لگاؤ اس ماہ مبارک میں قرآن کریم کے ساتھ دیگر ایام کے مقابلے زیادہ ہو جاتا ہے اور جنہیں سال بھر میں ایک قرآن مجید کا ختم کرنا بھی مشکل معلوم ہوتا ہے، وہ اس ماہ مبارک کی برکت سے کئی کئی قرآن ختم کرنے اور پورا کرنے کی سعادت حاصل کر لیتے ہیں بلکہ بہت سے حضرات کےلئے یومیہ تلاوت کی مقدار متعین و مقرر کر لینے کے بعد دیگر مشغولیات کو انجام دینے کے ساتھ ساتھ اس ماہ کے انوار و برکات کی بدولت، کئی کئی قرآن مجید کا مکمل کرنا اور بھی زیادہ آسان ہو جاتا ہے۔

بہر کیف ! اس میں کوئی شک نہیں کہ رمضان کو قرآن سے کئی گونا نسبت و تعلق ہونے کی بنیاد پر ہم میں سے ہر ایک کو اس بات کی کوشش اور فکر کرنی چاہیے کہ ہم نے جہاں اس ماہ مبارک کے فرض روزوں کی پابندی اور اہتمام کیا ہے ٹھیک اسی طرح اس ماہ مبارک میں زیادہ سے زیادہ اوقات قرآن کریم کی تلاوت میں صرف کرنے چاہیے تھے، اور بہت سے افراد نے یقینا ایسا کیا بھی ہوگا۔ اب جبکہ ماہ رمضان المبارک ہمارے درمیان سے رخصت پذیر ہونے کو ہے، اور اس کا مختصر دورانیہ پورا ہو جانے کے بعد وہ ہم سے ایک سال کےلئے جدا ہو جائےگا، آئندہ سال پتہ نہیں ہم میں سے کتنوں کو نصیب ہو اور کتنے اس کی آمد و بہار کی حسرت دل میں لئے، اس کے آنے سے پہلے ہی اس دنیا سے رخت سفر طے کر ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں؛ کچھ پتہ نہیں؟ اس لئے بوقت جدائی اور رخصت رمضان؛ ملول دل اور حسرت و افسوس کا ہونا لازمی ہے؛ مگر ! افسوس صرف افسوس کی حد تک ہی ہو اور اس سے کوئی سبق حاصل نہ کیا جائے تو اس سے کوئی فائدہ نہیں بلکہ اظہار افسوس اور ندامت و شرمندگی کے ساتھ اس بات کا عزم و ارادہ بھی ہونا چاہیے کہ:"اب تک زندگی کے جو ایام غفلت و لاپرواہی کی وجہ سے گناہوں کے اشتراک کے ساتھ ہمارے گزرے ہیں، ان کے تئیں ہم سچے پکے دل سے توبہ کرتے ہیں اور جو باقی ہیں ان کےلئے ہم دل سے پختہ عہد کرتے ہیں ان کو اطاعت خداوندی اور رسول پاک کی فرمانبرداری و تابعداری کے ساتھ گزاریں گے اور خود کو ہرممکن گناہ و اسباب گناہ سے دور رکھیں گے۔(إن شاءاللہ)۔

قرآن کریم جو اللہ رب العزت کا آخری اور ابدی کلام ہے، جس میں تمام انسانیت کی فوز و فلاح اور رشد و ہدایت کا سامان موجود ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کے آفاقی احکامات اور عالمگیر تعلیمات پر صدق دل سے عمل پیرا ہوا جائے، زندگی کے ہر شعبے میں اس سے رہنمائی حاصل کی جائے، نہ یہ کہ چند مواقع یا صرف مخصوص اوقات اور ایام میں اس کی تلاوت کرنے یا قرآن خوانی کا بےجا دستور جو ہمارے یہاں رواج پا چکا ہے، اس کو پورا کر اس سے چھٹکارا حاصل کر لیا جائے۔ نہیں بلکہ مکمل طور پر اسے اپنی زندگیوں میں داخل کرنے اور اس کے لاریب احکام و فرامین کو دل سے قبول کرنے کا خود کو عادی بنایا جائے۔ جس طریقے پر ماہ رمضان المبارک میں اس کی تلاوت کا اہتمام کیا جاتا ہے، پورے سال اس کی تلاوت کا معمول بنایا جائے، محلے کی مساجد میں ہفتے عشرہ میں ایک دو  دن درس قرآن، تفسیر قرآن اور خلاصۂ قرآن کے عنوان پر خاص کرنے کے بعد مجالس کا انعقاد عمل میں لایا جائے، جس میں اختلافی مسائل اور فقہی جزیات سے اعراض کرتے ہوئے خالص اس بات کا اہتمام کیا جائے کہ قرآن کا پیغام، قرآن کی زبان میں امت تک پہنچ جائے، اسی طرح گھریلو کام کاز میں مصروف خواتین کی دینی، ایمانی اور عقائد کی اصلاح کرنے اور قرآن سے حد درجہ ان میں شغف پیدا کرنے کےلئے کوئی جامع لائحہ عمل مرتب کیا جائے، کیوں کہ دین کی زیادہ ضرورت انہیں اس لئے بھی ہے کہ:"اصلاً اور نسلاً بعد نسلٍ ان کی گود میں پرورش یافتہ طبقے میں منتقل ہونا ہے، اس لئے ان تک بھی دین اسلام کی حقیقی تعلیمات و احکامات کی رسائی ممکن و ضروری بنائی جائے۔

زیر ترتیب مضمون؛ جو کہ اصل واٹس اپ اسٹیٹس کا مجموعہ ہے، جس کا سلسلہ ہم نے عالمی وبا "کورونا وائرس" کی بنیاد پر ملک بھر میں نافذ ہونے والے "لاک ڈاؤن" کے مد نظر یومیہ دوست احباب کو شئر کرنے سے شروع کیا تھا، اسی سلسلے کی ایک کڑی اور حصہ ہے، جسے پورے ہفتے حاضر خدمت کرنے کے بعد افادۂ عام کی خاطر باضابطہ تحریر اور پرنٹ کی شکل دے دی جاتی ہے، چنانچہ آج بھی آیات قرآنی پر مشتمل مختصر جملے فقروں کا خلاصہ حاضر خدمت کیا جا رہا ہے، امید ہے مدیران محترم مضمون کی اشاعت فرما کر ممنون و مشکور ہوں گے۔

 ہفتے کا پہلا اسٹیٹس ﴿حُدُوْدُاللہِ) تھا، اس میں عوام بالخصوص روزہ داروں کو من مانے طریقے اور خواہشات سے بچنے کی طرف توجہ دلائی گئی تھی اور آیت کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ دیکھو ! اوپر آیت صوم میں "لعلکم تتقون" (شاید پرہیزگار ہو جاؤ) کی قید اس لئے لگائی گئی ہے کہ: یہود و نصاری پر بھی رمضان کے روزے فرض کئے گئے تھے، مگر انہوں نے خواہشات نفس کی پیروی میں آکر اپنی رائے سے حکم میں تغیر و تبدل کر لیا تھا؛ اس لئے حکم دیا گیا کہ: "اے مسلمانو! تم نافرمانی سے بچو"۔اب رکوع کے آخر میں "حُدُودُاللہِ" کی اضافی قید سے پھر یاد دہانی کرائی جا رہی ہےکہ: روزہ اور اعتکاف کے متعلق حلت و حرمت کے جو احکام اللہ نے مقرر کئے ہیں ان سے ہرگز باہر مت ہونا اور اپنی رائے داخل کر (مثل یہود و نصاری ترمیم و تبدیلی کر) نافرمان مت ہو جانا؟

دوسرا اسٹیٹس تھا ﴿لَاتَأْکُلُوْآ أَمْوَالَکُمْ﴾اس میں یہ بتانا اصل تھا کہ:سال میں ایک ماہ مسلسل روزوں کی ادائیگی سے مقصود 'تطہیر نفس' قرار دیا گیا ہے۔ ٹھیک اسی طرح اللہ رب العزت آیت میں اہل ایمان سے 'تطہیر مال' کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یعنی جیسے ہم کو بحالت صوم (صبح صادق سے لےکر غروب آفتاب تک) حلال و جائز مال کے کھانے پینے سے روکا گیا ہے، مال حرام؛ اس کی کوئی تحدید و تعیین نہیں اس سے مدت العمر کا روزہ بتایا ہے، اس لئے کہا "ایک دوسرے کا مال ناحق مت کھاؤ"۔اب مال ناحق کی بہت سی شکلیں ہو سکتیں ہیں، جیسے: چوری، خیانت، دغابازی، رشوت ستانی، جوئے اور سٹے بازی، سود بیاج لینا دینا الغرض اس میں ہر وہ شکل آ گئی جس میں زبردستی اور دلی تکلیف کا پہلو شامل ہو کہ وہ تمام شکلیں حرام و ناجائز ہیں؛ ان سے ہرحال میں بچنا بھی ہے اور بچانا بھی ہے۔

ہمارا تیسرا اسٹیٹس ﴿وَأَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ﴾ تھا، اس کے ذیل میں بتایا گیا کہ: ماقبل میں مال حرام کھانے کی ممانعت کے ساتھ دیگر جتنی بھی شکلیں اور صورتیں ہو سکتی ہیں ان سب سے بچنا ہرآن و ہرحال ضروری قرار دیا تھا۔ یہاں مال حرام کے ان اقسام کو بیان کیا گیا ہے جن کو عرف عام میں دلالی، مخبری اور رشوت کے پیشے سے تعبیر کیا جاتا ہے، ان کے بارے میں فرمایا گیا کہ:"حاکموں کو کسی کے مال کی خبر نہ دو (دلالی نہ کرو) اور اپنا مال ظالم حکمرانوں کو بطور رشوت نہ دو یا جھوٹی گواہی، جھوٹا دعویٰ اور جھوٹی قسم کھا کر کسی کا مال (ناحق) نہ کھاؤ"۔ اس میں مقصود اس پہلو اور شکلوں کو اجاگر کرنا تھاجن کو آدمی "جانتا ہے" کہ حرام ہیں، مگر ان سے بچتا نہیں۔

کسب مال ہی کی قبیل سے ہمارا چوتھا اسٹیٹس ﴿قَوْلَ الزُّوْرِ﴾ تھا، اس میں بھی مال حرام کی ممانعت و قباحت کے تعلق سے لوگوں کو بیدار کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ: کسب معاش گرچہ انسان کی بنیادی ضروریات میں سے ہے، بلکہ اگر یہ کہا جائےکہ: عبادت و ریاضت کی ادائیگی میں یکسوئی اور روحانیت ہی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کہ انسان کو روزگار کے بہتر و مناسب مواقع میسر ہوں اور اسے کسی طرح کی فکردامن گیر نہ ہو، تو یہ کہنا بجا ہوگا، اسی لئے اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا "فقر و تنگدستی بسا اوقات آدمی کو کفر تک پہنچا دیتے ہیں"۔الغرض! مال کا کمانا یا جمع کرنا بذات خود برا نہیں ہے بلکہ دوران کسب جن ناجائز و حرام امور کا استعمال و ارتکاب کیا جاتا ہے ان سے احتراز کیا جانا ضروری ہے، جس کو "قول الزور" کہا گیا ہے یعنی "جھوٹی بات کہنا، جھوٹی گواہی دینا یا کسی چیز کو بلادلیل شرعی حلال و حرام قرار دینا، یہ سب اس میں داخل و شامل ہیں"۔

ہمارا پانچواں اور آخری اسٹیٹس ﴿إِتَّقُوااللہَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ﴾ تھا، اس کی تشریح میں ہم نے اس بات کو نمایاں کر لوگوں کو بیدار کرنے کی چنداں کوشش کی ہے کہ؛ دیکھو!"کسی جائز کام کو نیکی سمجھ کر دین میں داخل کرنا بدعت و مذموم اور گناہ قرار دیا گیا ہے"۔ آگے بات کو تمثیل سے واضح کرتے ہوئے لکھا گیا کہ دور جاہلیت میں یہ رسم اور دستور تھا کہ گھر سے نکل کر احرام باندھتے؛ اب اگر دوبارہ کسی کو گھر میں جانے کی ضرورت پیش آ جاتی تو وہ دروازہ سے نہ جا کر چھت پر چڑھ کر یا پیچھے کی طرف سے نقب لگا کر داخل ہوتا اور یہ کام اس کے نزدیک بڑی نیکی کا سمجھا جاتا تھا۔ لہذا ایسے تمام "رسم و رواج اور بدعات و خرافات" انجام دینے والوں کے متعلق اللہ نے فرمایا کہ: "اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ اپنی مراد کو پہنچو"!قرآن کی یہ آیت ان مسلمانوں کےلئے 'صلاح اعمال' اور 'فلاح حیات' کی ضامن ہے جو مختلف النوع بدعات و خرافات میں مبتلا ہیں اور اپنے آباؤ اجداد کے طور طریقوں پر آج بھی عمل پیرا ہیں، ایسے تمام افراد کو چاہیئے کہ وہ ہرکام "خوف خدا" کے سایہ میں رہ کر انجام دینا سیکھیں اور جن امور کا تعلق محدثات دین سے ہے ان کو ترک کر دین حنیف و شریعت محمدی کی پاسداری کرنے والے بنیں۔(اللہ پاک ہم سب کو اعمال صالح کی توفیق سے نوازے، جس میں ہم سب کی کامیابی بھی ہے اور دین و شریعت کا تحفظ بھی، آمین)

No comments:

Post a Comment

Post Top Ad