تازہ ترین

Post Top Ad

جمعرات، 14 مئی، 2020

روہنگیا پناہ گزین کیمپوں میں شدید آگ،لگ بھگ 400 کچی آبادی اور دکانیں جل کر راکھ ہوگئیں

دھاکہ (یواین اے نیوز14مئی 2020)بنگلہ دیش کے کاکس بازار ضلع میں واقع روہنگیا پناہ گزین کیمپ میں منگل (12 مئی) کو خوفناک آگ بھڑک اٹھی ، جس کی وجہ سے 400 کے قریب کچی آبادی اور دکانیں جل کر راکھ ہوگئیں۔ اقوام متحدہ کی مہاجر ایجنسی یو این ایچ سی آر نے فیس بک پر ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ فوری طور پر کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہےانہوں نے بتایا کہ منگل کی صبح کوکس بازار کے ضلع کٹوپلونگ کے لمباشیہ کیمپ میں آگ لگی۔ میانمار کی سرحد سےمتصل اس ضلع میں 10 لاکھ سے زیادہ روہنگیا پناہ گزین رہتے ہیں۔

وہ سرحد عبور کرکے بنگلہ دیش جا چکے ہیں۔علاقے کے چیف سرکاری افسر نکارالزماں چودھری نے بتایا کہ فائر اہلکار جائے وقوع پر پہنچے اور ایک گھنٹہ میں آگ پر قابو پالیا گیا تھا۔فوری طور پر آگ لگنے کی وجوہات کا پتہ نہیں چل سکا تاہم مقامی میڈیا نے بتایا کہ دکان میں رکھے ہوئے سلنڈر میں دھماکے کے سبب یہ آگ لگی ہوسکتی ہے۔ زیادہ تر مہاجرین میانمار سے فرار ہوکر وہاں پہنچے ہیں۔2017 میں میانمار کی فوج نے روہنگیا باغی گروپ کے حملے کے بعد مسلمانوں پر بھیانک تشددکیا گیاتھا۔ میانمار کی فوج پر بڑے پیمانے پر عصمت دری ، قتل عام اور مکانات کو نذر آتش کرنے کا الزام ہے۔

دنیا کے سب سے بڑے مہاجر کیمپوں میں سے ایک ، بنگلہ دیش ، کاکس بازار میں رہنے والے روہنگیا مسلمان 'کورونا ورس' کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں کیونکہ ایک چھوٹے سے علاقے میں تعمیر کی جانے والی چھوٹی جھونپڑیوں میں بہت سے لوگ ایک ساتھ رہتے ہیں ، یعنی اگر یہاں انفیکشن پھیل جائے تو اسے روکنا بہت مشکل ہوگا۔یہاں ہر مربع کلو میٹر میں تقریبا 4000 افراد رہتے ہیں اور آبادی کی یہ کثافت بنگلہ دیش کی اوسط کثافت سے 40 گنا زیادہ ہے۔ ہر جھونپڑی 10 مربع میٹر میں بنائی گئی ہے اور کچھ جھونپڑی میں 12 افراد ایک ساتھ رہتے ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad