تازہ ترین

Post Top Ad

پیر، 18 مئی، 2020

شب قدرکی مبارک رات اور توبہ استغفار

از۔محمدقمرانجم قادری فیضی۔
رمضان المبارک کی راتوں میں سے ایک رات شب قدر کہلاتی ہے جو بہت ہی برکت اور خیر کی رات ہے کلام پاک میں اس کو ہزار مہینوں سے افضل بتایاگیاہے ہزارمہینے کے(83)تیراسی برس (4)چارماہ ہوتے ہیں،خوش نصیب ہے وہ شخص جس کو اس رات کی عبادت نصیب ہوجائے، کہ جو شخص اس ایک رات کو عبادت میں گزاردے گویا اس نے تیراسی برس چار ماہ سے زیادہ زمانہ عبادت میں گزار دیا، اور اس زیادتی کا بھی حال معلوم نہیں، کہ ہزار مہینے سے کتنے ماہ زیادہ افضل ہے، 
اللہ تعالیٰ کا حقیقتاً بہت بڑا انعام ہے کہ قدر دانوان کئے یہ ایک عظیم الشان نعمت مرحمت فرمائی، حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیاہے کہ حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاس فرمایاکہ شب قدر حق تعالیٰ کی طرف سے میری امت کو ملی ہےجب کہ پہلی امتوں کو نہیں ملی، اس انعام کا سبب کیا ہوسکتاہے، بعض حدیثوں میں وارد ہواہے کہ حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے پہلی امتوں کے عمروں کو دیکھا کہ بہت لمبی عمریں ہوتی تھیں، اور آپ کی امت کی عمریں بہت تھوڑی ہیں اگر وہ نیک اعمال میں انکی برابری بھی کرنا چاہیں تو ناممکن ہے، اس سے اللہ تعالیٰ کے پیارے محبوب حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو رنج ہوا اور اسکی تلافی کے لئے یہ مبارک رات مرحمت ہوئی،

 کہ اگر کسی خوش قسمت کو دس راتیں بھی نصیب ہوجائیں اور انکو عبادت میں گزاردے، تو گویا آٹھ سو تینتیس 833 برس4 چارہ ماہ سے بھی زیادہ زمانہ کامل عبادت میں گزار دی، بعض روایات میں یہ بھی یے کہ نبئی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے بنی اسرائیل کےایک شخص کا ذکر فرمایاکہ ایک ہزار مہینے تک اللہ تعالیٰ کےراستے میں جہاد کرتارہا، صحابہء کرام کو اس پر رشک آیاتو اللہ تعالیٰ نے اسکی تلافی کے لئے اس مبارک رات کا نزول فرمایا، ایک اور روایت میں ہے کہ حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے بنی اسرائیل کے چار حضرات کا ذکر فرمایاجن میں حضرت سیدنا ایوب علیہ السلام، حضرت سیدنا زکریاعلیہ السلام ،حضرت حزقیل علیہ السّلام، اور حضرت سیدنا یوشع علیہ السلام شامل ہیں 80اسّی اسّی برس اللہ تعالیٰ کی عبادت وریاضت میں مشغول رہے اور پلک جھپکنے کے برابر بھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کی، اس پر صحابہ ء ِ کرام کو حیرت ہوئی توحضرت سیدنا جبرائیل علیہ السلام حضورعلیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت عالیہ میں حاضر ہوئے اور سورۃ القدر سنائی، لہذا امت محمدیہ کے لئے یہ اللہ تعالیٰ جل شانہ کی طرف سے بہت ہی بڑا انعام ہے یہ رات بھی اللہ تعالیٰ کا ہی عطیہ ہے اور اس میں عمل بھی اسی توفیق سے میسر آتاہے ورنہ، 

تہیدستان قسمت راچہ سوداز رہبر کامل، 
کہ خضر از آب حیواں تشنہ می آردسکندرا، 

کس قدر قابل رشک ہیں وہ مشائخ عظام علماء کرام اور سلف صالحین جو فرماتے ہیں کہ بلوغ کے بعد سےمجھ سے شب قدر کی عبادت کبھی بھی فوت نہیں ہوئی، اور اسی مبارک ومسعود رات میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کو نازل فرمایا یعنی قرآن پاک لوح محفوظ سےآسمان دنیا پر اسی رات میں اتاراہےیہی ایک بات اس مبارک رات کی فضیلت اہمیت افادیت کے لئے کافی ہے کہ قرآن پاک جیسی عظیم الشان کتاب اسی رات میں اتری چہ جائیکہ اسمیں اور بھی برکات وفضائلات شامل ہوگئے ہوں، قرآن پاک واحادیث مبارکہ میں فضیلت لیلۃُ القدربہ کثرت وارد ہوئی ہیں ان میں سے چند ذکر کی جاتی ہیں 
نبئی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ جو شخص لیلۃ القدر میں ایمان کےساتھ ثواب کی نیت سے عبادت کےلئے کھڑا ہو اسکے پچھلے تمام گناہ معاف کردئے جاتے ہیں، کھڑا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ نماز پڑھے اور اسی حکم میں یہ بھی ہے کہ کسی اور ثواب کی امید رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ ریاء وغیرہ کی بدنیتی سے نہ کھڑا ہو بلکہ خلوص وللہیت کے ساتھ محض اللہ تعالیٰ کی رضا اور ثواب کے حصول کی نیت سےکھڑا ہو، بوجھ سمجھ کر بددلی کے ساتھ نہیں، اور یہ کھلی ہوئی بات ہے کہ جس قدر ثواب کا یقین اور اعتقاد زیادہ ہوگا اتنا ہی عبادت میں مشقت کابرداشت کرنا سہل ہوگا، یہی وجہ ہے جو شخص قرب الہی میں جس قدر ترقی کرتاجاتاہے عبادت میں انہماک اور زیادہ ہوتا رہتا ہے، 

حضور نبئی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا ارشادہے کہ شب قدر حضرت جبریل علیہ السّلام ملائکہ کی ایک جماعت کےساتھ آتے ہیں اور اس شخص کےلئے جو کھڑے یا بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول ہو یا ذکر کر رہا ہو، تو ملائکہ اسکے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں اور جب عیدالفطر کا دن ہوتا ہے تو حق تعالیٰ اپنے فرشتوں کے سامنے بندوں کی عبادت پر فخر فرماتاہے اور فرشتو ں سے دریافت فرماتا ہے کہ ائے فرشتوں اس مزدور کا جو اپنی خدمت پوری اداکردےتو کیا بدلہ ہے؟ وہ عرض کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب اسکا بدلہ یہی ہے کہ اسکی اجرت پوری دی دےجائے تو ارشاد ربانی ہوتاہے کہ اے فرشتوں، میرے غلاموں اور باندیوں نے میرے فریضے کو مکمل کیا اورپھر دعا کرتے ہوئے عیدگاہ کہ طرف نکلے، میری عزت کی قسم، میں انکی دعاضرور قبول کروں گا اور ان لوگوں کو خطاب فرما کر ارشاد خداوندی ہوتاہے کہ جاؤ تمہارے سارے گناہ معاف کردیا اور تمہاری برائیوں کو نیکیوں میں بدل دیا، پس یہ لوگ عید گاہ سے ایسے حال میں لوٹتے ہیں کہ انکے سارے گناہ معاف ہوچکے ہوتے ہیں، رمضان المبارک اسلامی سال کا نوواں مبارک ومسعود مہینہ ہے، یہ ماہ معظم بہت ہی رحمتوں، برکتوں، رفعتوں سے بھرا ہواہے اس ماہ مقدس میں اللہ تعالیٰ نےاپنے پیارے محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی امت کےلئے بخشش ومغفرت کا وافر سامان فراہم کیا ہےاور اسی مہینے میں ایک ایسی رات کا انتخاب کیاہے جس کو لیلۃ القدر کے نام سے جانا جاتا ہے، 

اور اللہ تعالیٰ نے اس ماہ مبارک کو اپنا مہینہ قراردیتے ہوئے اس میں پائے جانے والے فیوض وبرکات انوار وتجلیات سے آگاہ فرمایاہے، اور انکےحاصل کرنےکےطریقوں کی طرف رہنمائی بھی فرمائی ہے۔چنانچہ پیارے آقاحضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کےفرموداتِ عالیہ کےپیش نظر رکھتے ہوئے اس ماہ کا چاند نظرآتے ہی دل میں خوف خدا اور محبت رسول رکھنے والے مسلمان رمضان المبارک کے انتظار میں بےقراروبےچین ہو جاتے ہیں، سعید روحیں طہارت وپاکیزگی کی معراج تک پہنچنے کے لئے خدائے ذوالجلال کی بےپایاں رحمتوں، برکتوں کی حصول یابی کےلئے اور معبودلم یزل کی بارگاہ نازمیں سجدہ ریزیوں سے لطف اندوزہونےکےلئےمضطرب وبےقرارہوجاتی ہیں،رمضان المبارک جیسے جیسے گزرتاہے یہ مہینہ لیلۃُ القدر کا نقیب بن کر جلوہ فگن ہوتاہے، اس لئے حضورسرکاردوعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس مہینے کی بہت سی فضیلتوں عظمتوں، رحمتوں، برکتوں کا ذکر فرمایا ہے، رمضان المبارک کا مہینہ ایک بابرکت رحمت،مغفرت اورجہنم سے خلاصی کا مہینہ ہے جس کی بےشمارفضلتیں احادیث مبارکہ میں واردہوئی ہیں، 

حضرت مالک بن دینار رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے انکے تائب ہو جانے کے بعد سبب پوچھا گیا تو انھوں نے بیان کیا کہ پہلے میں شراب پیتاتھا اور میری ایک چھوٹی سی لڑکی تھی، جو میرے سامنے سے شراب پھینک دیا کرتی تھی، جب وہ دس برس کی ہوئی تو مرضءِ مولی سےاس کا انتقال ہوگیا میرے دل کو اس کا بڑا رنج ہوا، جب شب برات آئی تو میں نے دیکھا گویاکہ قیامت قائم ہے اور ایک بڑا بھاری اژدھا منھ کھولے ہوئے میرے سامنے ہے، میں اس سے بھاگا، پھر ایک بزرگ کو دیکھا جن سے بہت خوشبوآ رہی تھی، میں نے ان سے کہا، خداآپ کو اپنی پناہ میں رکھے، مجھے بچائیے، وہ رودیئے اور کہنےلگے کہ میں ضعیف ہورہاہوں لیکن ذرا جلدی کرو، شاید خدائے تعالیٰ کسی ایسے کو مقرر کردے، جو تمہیں بچالے، میں بھاگتے بھاگتے دوزخ کےکنارے پہنچ گیا، پھرمجھ سےکہاگیا کہ پیچھے لوٹ جا، پھر میں پیچھے لوٹ پڑا اور اژدھا میرے پیچھے پیچھے چلا آر ہاتھا، یہاں تک کہ پھر میں اس ضعیف کے پاس سےگذرا، میں نے کہا بچالے، وہ بولا کہ میں تو ضعیف ولاغرہوں، لیکن اس پہاڑکی طرف دوڑو، کیونکہ اس میں مسلمانوں کی امانتیں ہیں، اگر اس میں تمہاری کوئی امانت ہوگی تو ابھی تمہاری مدد کرےگی، پھر مجھے چاندی کا پہاڑ نظرآیا جب میں اس کے قریب گیا، تو کسی فرشتے نےپکار کرکہا، دروازے کھول دو، شاید اس میں تمہاری کوئی امانت ہو، جو تمہیں دشمن سے بچالے۔دروازے کھول دیئے گئے، کیا دیکھتاہوں کہ اندر میری لڑکی موجودہے اس نے مجھے داہنے ہاتھ سے پکڑا، اور بایاں ہاتھ اژدھے کے طرف بڑھایا، جس پر وہ الٹابھاگ کھڑا ہوا، پھر میری لڑکی مجھ سےکہنےلگی، اے میرے باپ جان کیا ابھی ایمان والوں کےلئے وقت نہیں آیاہے کہ انکےدل خدا کے لئے پست ہوکر رہ جائیں۔میں نے اس سے پوچھا کہ کیاتم قرآن کو پہچانتی ہو، اس نےکہا، ہاں۔پھر میں نےاس سے پوچھا کہ اچھااژدھے کا حال بتا، اس نےجواب دیاکہ یہ تمہاری بداعمالی ہے، اور وہ ضعیف تمہارے نیک عمل تھے، آپ فرماتے ہیں، کہ میری آنکھ کھل گئی اور میں سہماہواتھا، فوراً اسی وقت میں نےصدق دل سے توبہ کی، اورخدائے تعالی سے عہدکیا کہ اب آئندہ ایسا نہیں کروں گا۔جبکہ آج فی زمانہ مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد ایسی ہے جو اپنی دنیا بہتر بنانے میں ایسی مصروف ہے کہ اسے اپنی آخرت کی کوئی فکر نہیں ۔دنیا اور آخرت کے بارے میں اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔اور دنیا کی زندگی صرف کھیل کود ہے اور بیشک آخرت والا گھر ڈرنے والوں کے لئے بہتر ہے تو کیا تم سمجھتے نہیں ؟ 

اور ارشاد فرمایا: تو کیا یہ لوگ زمین پرنہیں چلے تاکہ دیکھ لیتے کہ ان سے پہلوں کا کیا انجام ہوااور بیشک آخرت کا گھر پرہیزگاروں کے لیئے بہتر ہےجو جلدی والی دنیا چاہتا ہے تو ہم جسے چاہتے ہیں اس کیلئے دنیا میں جو چاہتے ہیں جلد دیدیتے ہیں پھر ہم نے اس کیلئے جہنم بنارکھی ہے جس میں وہ مذموم،مردود ہوکر داخل ہوگا۔ اور جو آخرت چاہتا ہے اوراس کیلئے ایسی کوشش کرتا ہے جیسی کرنی چاہیے اور وہ ایمان والا بھی ہو تو یہی وہ لوگ ہیں جن کی کوشش کی قدر کی جائے گی۔ 
اِستغفار کرنے کے دینی فوائدحاصل کرے، تو میں نے کہااے لوگو! اپنے رب سے معافی مانگو، بیشک وہ بڑا معاف فرمانے والا ہے۔ وہ تم پر موسلا دھار بارش بھیجے گا۔ اور مالوں اور بیٹوں سے تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے لیے باغات بنادے گا اور تمہارے لیے نہریں بنائےگا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللّٰہ کی بارگاہ میں اِستغفار کرنے اور اپنے گناہوں سے توبہ کرنے سے بے شمار دینی اور دنْیوی فوائد حاصل ہوتے ہیں ۔اِستغفار کرنے کے بارے میں ایک اور مقام پر اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔ اور جو کوئی برا کام کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللّٰہ سے مغفرت طلب کرے تو اللّٰہ کو بخشنے والا مہربان پائے گا۔ اور ارشاد فرمایا۔ اور اللّٰہ انہیں عذاب دینے والا نہیں جبکہ وہ بخشش مانگ رہے ہیں ۔اور ارشاد فرمایااور یہ کہ اپنے رب سے معافی مانگو پھر اس کی طرف توبہ کروتو وہ تمہیں ایک مقررہ مدت تک بہت اچھا فائدہ دے گا۔

حضرت ہود علیْہ الصّلوۃ والسلام نے اپنی قوم سے فرمایا: ۔اے میری قوم! تم اپنے رب سے معافی مانگو پھر اس کی بارگاہ میں توبہ کرو تووہ تم پرموسلادھار بارش بھیجے گا اور تمہاری قوت کے ساتھ مزید قوت زیادہ کرے گا۔ اورحضرت عبداللّٰہ بن عباس رضیَ اللّہ تعالیٰ عَنہما سے روایت ہے، رسولُ پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے استغفار کو اپنے لئے ضروری قرار دیا تو اللّٰہ تعالیٰ اسے ہر غم اور تکلیف سے نجات دے گا اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے گا جہاں سے اسے وہم وگمان بھی نہ ہو گا۔یاد رہے کہ اولاد کے حصول، بارش کی طلب، تنگدستی سے نجات اور پیداوار کی کثرت کے لئے استغفار کرنا بہت مجرب قرآنی عمل ہے۔حقیقتاً اس مبارک رات کی محرومی میں کیا تامل ہے، جو اس قدر بڑی نعمت کو ہاتھ سے کھودے، ریلوے ملازم اور دیگر حضرات روپئے کی چند کوڑیؤں کی خاطر رات رات بھر جاگتے ہیں اگر80 اسّی سال کی عبادت کی خاطر کوئی ایک رات تک میں جاگ لے تو کیا دقت ہے اصل یہ کہ دل میں تڑپ ہی نہیں اگر ذرا سا چسکا پڑجائے تو پھر ایک رات کیا؟ سیکڑوں راتیں جاگی جاسکتی ہیں،

،الفت میں برابرہے وفاجو کہ جفاہو، 
ہر چیز کی لذت ہے اگردل میں مزاہو،

ان احادیث کی روسے یہ بات عیاں اور بیاں ہوجاتی ہے کہ رمضان المبارک کےآخیرمیں طاق راتوں میں سے27 اور29 کی راتوں کو خصوصیت اہمیت حاصل ہے چنانچہ کم ازکم ان راتوں میں ہمیں شب بیداری کا انتظام وانصرام کرنا چاہیئے ان راتوں میں ہمیں اللہ تعالیٰ کے حضور دست دعاء درازکرکے اپنے سابقہ گناہوں سے معافی مانگنا چاہیئے اور گریہ وزاری کے اہنے گناہوں سے توبہ و استغفار کرنا چاہیئے نیز آئندہ ان گناہوں کا اعادہ نہ کرنے کا عزم مصمم بھی کرنا چاہیئے ،اللہ تعالیٰ ہمیں زیادہ سےزیادہ عبادت وریاضت کی توفیق مرحمت فرمائے اٰمین یارب العالمین بجاہ سیدالمرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad