تازہ ترین

Post Top Ad

Sunday, May 17, 2020

تبلیغی جماعت ہندوستان کے حق میں

بقلم: یوسف حزقیل 
تقریبا ایک صدی قبل ایک خوشنما پودا لگایا گیا، آنکھوں دیکھتے اس کی کونپل  نکلی شگوفے پھوٹے برگ و بار نے نکلنا شروع کیا، ذرا ہی عرصے میں یہ تناور درخت بن گیا اور ایک عالَم  اس کے سائے تلے آگیا، شب کے نالوں سحر کی آہوں نے اس کی آبیاری کی، اخوت و مساوات کی ہوا نے اس کو جلا بخشی، انسانیت و مودت نے اس کے برگ و بار کو سبزہ عنایت کیا، دل سوز نہاں رکھنے والے الیاس کاندھلویؒ نامی ایک بزرگ عالم دین نے ۱۹۲۶ء میں تبلیغی جماعت کے نام سے اس تحریک کی بنیاد رکھی، ان کی محنت و عرق ریزی نے اس کو پروان چڑھایا، ان کے مقصد و نظریے اور طور طریقے نے اسے چار چاند لگائے، اور اس جماعت کی مقبولیت بڑھتی گئی، ۱۹۴۱ء میں منعقدہ اجتماع میں ۲۵ ہزار لوگوں نے شرکت کرکے اس کی روز افزوں مقبولیت پر مہر ثبت کی تھی، روز اولیں سے اس جماعت کا مقصد لوگوں کو ان کے رب کی طرف بلانا اخوت و مودت اور انسانیت کا درس دینا رہاہے، یہ جماعت لوگوں کے اندر پیدا شدہ برائیوں سے لڑنے انہیں ختم کرکے دوسروں کو نفع رسانی کا سبق دیتی ہے،

 اس جماعت کی صد سالہ تاریخ میں متعدد ایسے واقعات نے جنم لیا ہے، کہ جنہیں سن کر اس جماعت کے تئیں محبت و عقیدت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، اس جماعت نے بارہا ایسے کار ہائے نمایاں انجام دیے ہیں جن سے اہل حکومت ارباب سیاست قاصر رہے ہیں، جن لوگوں کو زنداں کی دیواریں نہ ڈرا سکیں بیڑیاں ہتھکڑیاں جنہیں راہ راست پر نہ لا سکیں اس جماعت کی محنت و تگ و دو نے انہیں برائیوں سے توبہ کرنے پر ابھارا، اور وہ ہر طرح کی برائیوں سے تائب ہوکر سماج میں ایک اچھا انسان بن کر سامنے آئے، اگرچہ گاہے گاہے تبلیغی جماعت پر مخالفین تنقیدیں بھی کرتے رہے ہیں، اور اس پر قدغن لگانے کی حتی الامکان کوشش کرتے رہے ہیں، مگر اس سے اس جماعت کا کچھ نہیں بگڑا اور روز بہ روز اس کا دائرۂ اثر وسیع تر ہوتا گیا، رفتہ رفتہ اس کے چاہنے والوں عقیدت مندوں میں اضافہ ہوتا گیا، یہ محض اس جماعت کی صحیح فکر و مثبت سوچ کا اثر تھا، دو دہائی کے اندر یہ جماعت پورے ہندوستان میں پھیل چکی تھی، ۱۹۴۶ء میں پہلی جماعت بیرون ملک روانہ ہوئی جس نے حجاز و انگلینڈ کا دورہ کرکے اشاعت دین کے ساتھ ساتھ اپنے ملک ہندوستان کی چھاپ چھوڑی تھی، ۱۹۷۰ء- ۱۹۸۰ء کی دہائی میں اس جماعت نے پورے یورپ کو اپنے اثر میں لے لیا تھا، اسی دوران یہ جماعت ایشیائی اور افریقی ممالک میں برابر پھیلتی رہی، اور آج کی تاریخ میں دنیا کے اکثر ممالک میں اس جماعت کے کارندے بحسن و خوبی اپنا کام انجام دے رہے ہیں، 

چوں کہ تبلیغی جماعت کا سر چشمہ ہندوستان سے پھوٹا ہے، اس لیے جہاں اس کے قدم پڑے وہاں ہندوستان کا نام زندہ ہوا ہے، عوام کا ایک بڑا طبقہ عالمی اخبار اور دیگر ممالک کے حال و احوال سے یکسر نابلد رہتا ہے، اس طبقے میں ہندوستان کی شناخت پہنچانے اور اپنے ملک کے حوالے سے مثبت و خوش گوار اثر پھیلانے میں تبلیغی جماعت نے کلیدی کردار ادا کیا ہے، حتی کہ جو ممالک غربت کا شکار ہیں، اور عالمی پیمانے پر اپنا کوئی خاص مقام نہیں رکھتے وہاں بھی ہندوستان کا نام بجتا ہے اور یہ تبلیغی جماعت کا مرہون منت ہے، ہر سال غیر ملکیوں کی ایک بڑی تعداد اس جماعت کی وجہ سے ہندوستان کا سفر کرکے ملک کی اکانمی کا حصہ بنتی ہے، 

نیز اگر ہندوستان کی دیگر متعصب جماعتوں کے باعث ملک کی شبیہ بگڑی ہے، یہاں کی سیکولرزم و جمہوریت پر حرف آیا ہے، مساوات و یکجہتی داغ دار ہوئی ہے، تو عالمی سطح پر اس سیاہ دھبے کو مٹانے کا سہرا ایک حد تک تبلیغی جماعت کے سر جاتا ہے، جس ملک میں یہ جماعت جاتی ہے، اپنی سرگرمی کے ساتھ ہندوستانی جمہوریت کی نوید بن کر کام کرتی ہے، اس مہاماری کے دور میں بھی جس چراغ کو سرکش ہوائیں گل کرنا چاہتی ہیں، تبلیغی جماعت نے فانوس بن کر اسے روشن رکھا ہواہے، حال ہی میں پلازما ڈونیٹ اس کی واضح مثال ہے، تعصب پرستوں نے جس طرح تبلیغی جماعت کو بدنام کرنے کا پروپیگنڈہ چلایا اور حکومت کی ناکامیوں کا مٹکا اس کے سر پھوڑنے کی کوشش کی اس سے ان کی ذہنی فرقہ واریت کا بہ خوبی اندازہ ہوتا ہے، تاہم تبلیغی جماعت اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹی، اور وہ مقصد لوگوں کی اصلاح اور دوسروں کو نفع پہنچانا ہے، میڈیا اہلکاروں (خصوصا متعصب میڈیا) کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس جماعت کی ایک لمبی تاریخ ہے، جو یہ واضح کرتی ہے کہ یہ ایک غیر سیاسی جماعت ہے، اس کا طرۂ امتیاز رہاہے کہ یہ اپنی ابتداء آفرینش سے لے کر دور حاضر تک سیاست سے کلی طور پر کنارہ کش رہی ہے، یاد رہے آج بھی ہندوستان تبلیغی جماعت کے حوالے سے پوری دنیا کے لیے اس مشعل کی طرح ہے، جس سے تاریک رات میں راستہ معلوم کیا جاتا ہے، اور یہ جہاں تبلیغی جماعت کی کامیابی کا راز ہے وہیں ہندوستان کی روشن نامی کی دلیل ہے، فقط

No comments:

Post a Comment

Post Top Ad