تازہ ترین

Post Top Ad

Sunday, May 17, 2020

وبائی ماحول میں مدارس اسلامیہ کا نظام تعلیم؟

از قلم: رفیع اللہ قاسمی 
کورونا وائرس نے دنیا بھر میں قہر مچا رکھا ہے۔ اس وبا سے اب تک تقریبا 3/ لاکھ سے زائد لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔اسی وجہ سے عالمی ادارہ صحت نے کڑی وارننگ دی ہے۔ڈبلیو ایچ او کے کارگزار ڈائریکٹر ڈاکٹر مائیکل جے ریان نے کہا ہے کہ" ایچ آئی وی انفیکشن کی طرح کورونا وائرس دنیا میں ہمیشہ رہنے والا وائرس ہو سکتا ہے۔ ہو سکتا ہے یہ وائرس کبھی ختم نہ ہو"- ہندوستانی سیاست داں بھی عوام کو اطمینان دلا رہے ہیں کہ اب کورونا کے ساتھ ہی جینا ہے۔ بہر حال ابھی تک کسی کو یہ علم نہیں ہے کہ یہ بیماری کب ختم ہوگی؟ لاک ڈاون کا عمل ابھی ختم کرنا ٹھیک نہیں ہوگا کیونکہ معاملات کی رفتار تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے اس لیے لاک ڈاون جیسے عمل کا کم پابندیوں کے ساتھ ہی سہی لمبے وقت تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ ایسے حالات میں دیگر اداروں کی طرح  تعلیمی اداروں کی بے چینی بھی یقینی ہے۔ بالخصوص مدارس اسلامیہ جو دین کی حفاظت کے مضبوط قلعے ہیں، جہاں وطن عزیز کے سب سے قیمتی سرمائے کی دیکھ ریکھ کے ساتھ مستقبل کا دانشور اور محب وطن تیار کیا جاتا ہے ان اہل مدارس کا بے چین ہونا دینی اور ملی فریضہ بھی ہے۔ اس مضمون میں اس بات کا جائزہ لیا گیا ہے کہ اہل مدارس اس پر وبا وقت میں نونہالوں کے تعلیمی سلسلہ کو جاری رکھنے کے لیے کیا طریقے اختیار کر سکتے ہیں۔ چند تجاویز اور متبادل پیش خدمت ہیں: 

ا۔ مدارس اسلامیہ کی مالیات کا شعبہ بھی وبا کی نظر بد سے متاثررہےگا۔ اس لیے اگلے تعلیمی سال میں کچھ اہل مدارس تعلیم کو ایک سال تک موقوف رکھنے کا فیصلہ بھی کر سکتے ہیں۔ لیکن اس فیصلے کو درست فیصلہ نہیں کہا جاسکتا۔ کیونکہ اس سے جہاں ملک و ملت کا تعلیمی نقصان ہے وہیں بہت سے طلبہ اس وقفے کی وجہ سے ہمیشہ ہمیش کے لیے اپنے تعلیمی سلسلہ کو منقطع کرنے کا فیصلہ بھی کر سکتے ہیں۔ شیطانی سرکل اور گاوں کے لاابالی بچے تعلیم کو منقطع کروانے میں اہم رول ادا کر سکتے ہیں۔ اس لیے اس طرح کا فیصلہ امت کے نونہالوں کے لیے بمنزلہ موت ہے۔

2۔ کچھ اہل مدارس یقینا قربانی دیں گے۔ مالیات کا نظم حتی المقدور کریں گے۔ دو چار مہینے تاخیر ہی سہی لیکن حکومت کی طرف سے اجازت ملنے کے بعد تعلیمی سلسلہ جاری کرنے کی پوری کوشش کریں گے۔ بایں صورت تعلیمی سال کے لیے صرف 5/ یا 6/ ماہ ہی ملیں گے۔ اس مختصر مدت میں نصاب کی تکمیل بھی ایک مشکل مسئلہ ثابت ہوگا۔ نصابی مسئلے کوخواہ روزانہ کے تعلیمی اوقات کو دراز کر کے یا نصاب کا اختصار کر کے اہم اور ضروری مواد ہی کو طلبہ تک پہونچانے کی کوشش کر کے حل کیا جا سکتا ہے۔ یہ دونوں طریقے ممکن العمل ہیں۔


3۔ ای لرننگ
اس وبائی ماحول سے نمٹنے کے لیے عام روایتی طریقہ تعلیم سے آن لائن طریقہ تعلیم کی طرف پلٹنا بھی تعلیمی دشواریوں کو کم کر سکتا ہے۔ ای لرننگ، یہ لفظ اس تصور کی وضاحت کرتا ہے کہ ڈیسک ٹاپ، لیپ ٹاپ، سی ڈی روم، ڈیجیٹل ٹیلی ویزن یا موبائل جیسے الیکٹرانک ڈیوائس کے ذریعہ سیکھنا۔ تا ہم اب موبائل کے ذریعہ سیکھنے کو ایم لرننگ بھی کہا جاتا ہے۔ روایتی تعلیم کو آن لائن طریقہ تعلیم سے بدلنے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ اساتذہ اور طالبعلموں کو ای لرننگ کی تربیت دی جائے۔ کم ازکم مدارس میں فوری طور پر ٹیکنیکل مسائل کو حل کرنے کرنے کے لیے کچھ آئی ٹی ٹیچروں کی تقرری بھی ضروری ہوگی۔ ہندوستان جیسے ملک میں جہاں تقریبا 68/ فیصد سے زائد آبادی دیہی علاقے میں آباد ہے وہاں سے طلبہ کا آن لائن طریقے سے جڑنا انتہائی مشکل تو ضرور ہے لیکن تعلیم کے لیے یہ ایک طریقہ ضرور ہے۔ آن لائن تعلیم پر لاگت کم آ سکتی ہے۔ مثال کے طور پر سفر کرنے کے لیے کوئی لاگت نہیں ہوگی۔ قیام و طعام کے لیے کوئی لاگت نہیں ہوگی۔ خاص طور طور سے اوپری جماعت کے طلبہ کے لیے جہاں صرف ایک سائیڈ سے تعلیم ہوتی ہے یعنی اساتذہ گفتگو کرتے اور طلبہ سنتے ہیں ان اوپری جماعتوں کے لیے mixlr یا اس جیسے دیگر ایپ بھی مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔ ہاں اس صورت میں والدین کو بھی اپنی ذمہ داری ادا کرنی ہوگی۔

4۔ ایم لرننگ(واٹس آپ کے ذریعہ تعلیم)
بقدر ضرورت موبائل کے ذریعہ بھی مدارس اسلامیہ تعلیمی سلسلہ جاری رکھ سکتے ہیں۔ اب تقریبا ہر گھر میں موبائل اور واٹس آپ کی سہولت دستیاب ہے۔ بجلی بھی تقریبا وطن عزیز کے ہر حصے میں موجود ہے۔ یہ طریقہ نیچے کی کلاسوں کے لیے بہتر ثابت ہو سکتا ہے۔ پہلے اساتذہ ہر جماعت یا ہر کتاب کے لیے الگ الگ واٹس آپ گروپ بنائیں۔ والدین کو اعتماد میں لیں۔ ایک نظام الاوقات بنائیں۔ اسی اعتبار سے تدریس شروع کریں۔ کچھ چیزیں آڈیو، کچھ چیزیں تحریر اور کچھ چیزیں ویڈیوز کی شکل میں طلبہ تک پہونچا کر ان کی تعلیمی سلسلہ کو جاری رکھا جا سکتا ہے۔


بہر حال یہ چند اشارے کیے جارہے ہیں۔ اس تحریر کا مقصد صرف یہ ہے کہ ارباب مدارس اور ذمہ داران کی توجہ اس طرف دلائی جائے کہ وبائی ماحول میں کیا نظام تعلیم اپنایا جاسکتا ہے؟ ابھی کوئی نظم قائم ہو جائے تو انشاء اللہ 10 یا 11 شوال المکرم سے تعلیمی سلسلہ کسی بھی شکل میں جاری کردینا ممکن ہو پائےگا۔ اللہ کی ذات سے امید ہے کہ یقینا اس کی مدد شامل حال ہوگی اگر ہم نے اس موضوع پر غوروفکر کرنا ابھی سے شروع کردیا۔

No comments:

Post a Comment

Post Top Ad