تازہ ترین

Post Top Ad

پیر، 18 مئی، 2020

وقت ایک عظیم نعمت ہے!

 مولانا انوار الحق  قاسمی ،نیپالی 
" وقت "سلطان اکبر کی طرف سے عطا کردہ ایک بیش بہا عظیم قیمتی سرمایہ ہے، اس کےگراں قدر اثاثہ ،اور  نعمت عظمی ہونے میں ،کسی بھی کہ ومہ کو، کسی بھی نوع کاادنی بھی  تردد  نہیں ہے ،وقت  اپنے ادنی سے ادنٰی تر قدردان انسان کو،وقعت و عظمت اورترقی وکامرانی میں اوج ثریا پر پہنچا دیتاہے ،اور اپنے ناقدردان انسان کومجبور بے بس بنادیتا ہے ؛مگر افسوس کہ آج ہرخاص وعام شخص اہمیت وقت کے معترف اور مقرہونے کے باوجود بھی "وقت "کو اس طرح ضائع اور بربادکررہےہیں ،کہ اس پر بےحد رونا آتا ہے،نوے فیصد انسان ،یوں ہی اپنے اوقات غالیہ کو لغویات اور فضولیات امور میں بسر کر رہے ہیں  ہیں -ضیاع وقت کے لیے، یوں تو بےشمار اشیاء کاوجود ہوگیاہے؛مگر دور حاضر میں  ضیاع وقت کے لیے جو سب مضر اور نقصان دہ ہے، وہ موبائل کابےجااورغلط استعمال ہے۔

"موبائل ""کاوجود،جودیکھنے میں تو، حجم  کے اعتبار سے ،بہت ہی چھوٹااور وزن میں بھی بہت ہی ہلکا معلوم ہوتا ہے، جسے بآسانی ہاتھوں میں لیکر  اور جیبوں میں ڈال کر جدہر بھی چاہے خراماں خراماں قدموں، یاتیزرفتاری کے ساتھ جایا جاسکتاہے، اور دل چاہے توراستہ چلتے ہی یاکسی مقام پر جلوس کرکے،دنیاوآخرت سے غافل اور بےپرواہ ہو کر،انسان  اس طرح موبائل بینی  میں منہمک ہوجاتے  ہیں ،کہ لگتا ہے اس کےدنیامیں   بھیجے جانے کامقصد من جانب اللہ یہی  متعین ہواہو ،افسوس ہے ،اولاد آدم پر کہ وہ اپنے مقصد تخلیق سے بالکلیہ غافل ہوگئی ہیں اور غیر مقصود ،عبث افعال کے ارتکاب کو اپناعظیم مقصد سمجھ بیٹھی ہیں- اے ابن آدم تمہاری تخلیق کاہرگز ہرگز وہ مقصد نہیں ہے ،جسے تو بغیر سوچے سمجھے ،سمجھ بیٹھا ہے ،بلکہ تیری تخلیق کامقصد عنداللہ، وہ خالق کائنات کی مکمل بندگی ہے، اور مکمل بندگی" امتثال اوامر اوراحتراز نواہی "سے ہی ممکن ہے ،یعنی رب العالمین نے، جن افعال کے کرنے کاحکم دیاہے ،ان کو بجالانے ،اور جن افعال کے ارتکاب سے منع کیا ہے، ان سے رک جانے کانام، مقصد تخلیق  ہے -

  میرے دینی ومذہبی بھائیوں،  وقت کا ہر ہرآن اورہرہر لمحہ بڑاہی قیمتی سرمایہ ہے ،اسے پھونک پھونک کر،اللہ کی رضامندی والے افعال میں صرف کریں ،اور ہرگزان امور کے ارتکاب کے  قریب نہ ہوں،جن میں  اللہ کی ناراضگی پنہاں ہو، اور یہ بات ذہن میں اچھی طرح مستحضر کرلیں ،کہ باری تعالی اپنے بندوں کوہرگز،ایسے افعال کے کرنے کاحکم نہیں دیتا ہے ،جوان کے بس سے باہر ہو ؛بل کہ ان ہی افعال کے بجاآوری کا حکم دیتاہے ،جوان کےبس اورقدرت و اختیار  میں ہو تاہے -دنیاوآخرت میں وہی انسان عالی مقام پاتاہے ،جو وقت کی قدر کرتا ہے اوروقت کولغو کام میں صرف ہونے سے بچاتاہے،شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں :کہ میں نے اپنے والد محترم حضرت مولانا مفتی شفیع عثمانی صاحب رحمہ اللہ کو وقت کابہت ہی پابندپایاہے ؛ چناں چہ ان کو دیکھاہے، کہ وہ اپنے ہر ہر لمحہ کو بہت ہی تول کرکے صرف کرتے تھے، جب وہ سفر کرنے کاارادہ کرتے، توپہلے ہی غور و فکر کرلیاکرتے تھے ،کہ اس سفر کے لیے،کتناوقت درکار ہے، اور کس کس مقام پر کتناخالی وقت مل سکتا ہے

اور اس موقع سے میرے لیے کونساکام موزوں اور زیادہ مناسب ہوگا،اسی کےبقدرکوئی کام تجویز کرلیتے تھے ،اورمطالعہ کے اتنے شوقین تھے  کہ چلتی رکشاپر بھی بڑے ہی شوق کے ساتھ مطالعہ میں مصروف رہتے تھے ؛حتی کہ بیت الخلا کے اندر جب قضائے حاجت کے لیے جاتے ،تووہاں بھی خالی نہیں بیٹھتے تھے(چونکہ  اسکے اندر نہ  ہی توذکر کرسکتے ہیں اور نہ ہی قرآن مجید کی تلاوت) ، اس  لیے اس کےاندر جوموجودگندا لوٹاہوتا، اسی کوہی صاف کردیاکرتےتھے ،اور فرماتے تھے :کہ میرے بعد  آنے والے کو شخص کو تو کم سے کم ، اس سے کراہت نہیں ہوگی -وقت اور زمانے کی اہمیت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ باری تعالٰی مختلف مقامات پر زمانے کی قسمیں کھائی ہیں چنانچہ ایک جگہ فرماتے ہیں :والفجر ○ولیال عشر  ○،اس صبح کی قسم(جس سے ظلمت شب چھٹ گئی )اور دس مبارک راتوں کی قسم ،باری تعالی نے رات اور دن کی بھی قسم کھائی ہے ارشاد فرمایا :واللیل اذایغشی○ والنهاراذاتجلي○رات کی قسم جب وہ چھاجائے(اور ہرچیز کواپنی تاریکی میں چھپالے)اوردن کی قسم جب وہ چمک اٹھے ¤ایک جگہ اللہ تبارک و تعالٰی چاشت کے وقت اور رات کی قسم کھاتے ہوئے ارشاد فرمایا :والضحي ○والليل اذاسجي ○قسم ہے چاشت کے وقت کی(جب آفتاب بلند ہو کر اپنانورپھیلاتاہے )اور قسم ہے رات کی جب وہ چھاجائے،اور سورة العصر میں زمانہ کی قسم کھاتے ہوئے ارشاد فرمایا :والعصر ○ان الانسان لفي خسر ○زمانے کی قسم(جس کی گردش انسانی حالات پرگواہ ہے )بیشک انسان خسارے میں ہے(کہ وہ عمر عزیز گنوارہاہے ) -

اللہ تبارک و تعالٰی نے قرآن مجید میں قسم اٹھا کریہ بات سمجھائی ہے ، کہ نجات کامدار اورکامیاب ہونے کی بنیاد چار چیزیں ہیں، (۱ )آمنوا، انسان کاعقیدہ ٹھیک ہوناچاہیے(۲ )عملواالصلحات، اعمال سنت کےمطابق ہونی چاہیے (۳ )تواصوا بالحق، صحیح عقیدہ اورمسنون عمل کی دعوت دینی چاہیے (۴ )تواصوابالصبر، اگراس دعوت پر مشکل آجائے، توخندہ پیشانی سے،برداشت کرنی چاہیے ،اپنی مخلوق کو"وقت"کی اہمیت  سمجھا نے کےلیے، باری تعالٰی نے قسم اٹھائی ہے،والعصر، زمانے کی زمانہ وقت کوکہتے ہیں ،انسان کو اللہ تبارکو تعالٰی جو نعمتیں عطا فرمائی ہیں،ان میں ایک بہت بڑی نعمت وقت ہے،اور وقت کی قسم اٹھا کر اللہ تبارک و تعالٰی نے "وقت "کی قیمت سمجھایا ہے ،کہ وقت کی قدر کرنی چاہیے؛چوں کہ یہ وقت، جواللہ تبارک و تعالٰی نے عطا کیاہے وہ دوبارہ نہیں آنا ،ہماری ایک زندگی، جودنیاکی ہے،وہ بلوغ سے لیکر وفات تک، اور ایک زندگی ہماری آخرت کی ہے،وہ موت سے لیکر حشر تک ،اور ایک زندگی ہے، حشر سے لےکر جنت وجہنم تک ،اب آپ ذرا غور فرمائیں کہ موت کے بعد کی زندگی کتنی لمبی اورطویل ہے ،اور دنیا کی زندگی کتنی مختصر ہے،اور اللہ تبارک و تعالٰی کی شان رحیمی اورکریمی دیکھیں ،کہ اس نے ایک ابدی، دائمی اورلازوال  زندگی کوجوخوش حال بناناہے، اس کےلیے، بہت سی تھوڑی زندگی رکھی ہے ،کسی کی ایک گھنٹہ ہے ،کسی کی ایک دن ہے ،کسی کی ایک ہفتہ ہے،کسی کی ایک ماہ ہے ،کسی کی ایک سال ہے،اور اسی  پر فیصلہ ہے، انسان کے کامیاب اور ناکام ہو نے کا،خوش قسمت ہے وہ انسان ،جواپنی اس مختصر سی زندگی کوخدائی مرضیات کے مطابق گذاردے ،جس کےثمرہ میں ،اپناٹھکاناجنت میں بنائےاور بدبخت وبدنصیب ہے، وہ انسان، جواپنی اس قلیل سی زندگی کو اپنی خواہشات کے مطابق گذارکر اپناٹھکاناجہنم میں بنائے -

  یہ جسم جوہمارے پاس موجود  ہے :یعنی بدن اور اس کے اندرپائی جانے والی جتنی بھی صلاحیتیں، اور جتنی بھی اعضاء ہیں مثلا: بولنے کی قدرت وطاقت، جو،ہمیں باری تعالٰی نے عطا کی ہے ،زبان سے ،یادیکھنے کی طاقت ہے، آنکھوں سے،یاہاتھوں سے کام کرنےکی طاقت ہے،یاپاؤں سے چلنے کی طاقت ہے،یہ سب فقط ہم پر باری تعالٰی کا ایک عظیم احسان ہے ،اس احسان کا تقاضا یہ ہے کہ ہم خالق لم یزل کی عبادت واطاعت کےلیے ہمہ وقت کوشاں رہیں، تاکہ فرشتوں کو بھی ہماری اس عبادت پر دندان شکن ہوناپڑے،کہ ہم جس مخلوق کوخون ریز اور فسادی تصور کررہے تھے، وہ بالکل غلط کررہے تھے، اللہ کاعلم ہر چیز کووسیع ہے،اللہ جو کرتا ہے وہ اچھا کرتا ہے ۔خداوند عالم تمام امت مسلمہ کو "وقت "کی قدردانی کی توفیق عطا فرمائے، آمین ۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad