تازہ ترین

Post Top Ad

منگل، 23 جون، 2020

چین نیپال کے بعد اب اسلامی ممالک نے دیا بھارت کو بڑا جھٹکا۔

نئی دہلی(یواین اے نیوز23جون2020)ان دنوں بھارت اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ بدترین دور سے گزر رہا ہے۔ نیپال اور چین کے ساتھ سرحدی تنازعہ پر ایک طویل عرصے سے تناؤ رہا ہے۔ چین کے ساتھ متشدد جھڑپیں ہوئیں ہیں جس میں ایک کمانڈر سمیت 20 ہندوستانی فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔ اب اسلامی ممالک کی تنظیم آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن (او آئی سی) کی طرف سے بھی ہندوستان کے لئے بری خبر موصول ہوئی ہے۔

او آئی سی کے رابطہ گروپ کے وزیر خارجہ کی آج جموں و کشمیر کے حوالے سے ہنگامی اجلاس ہوا۔ اس اجلاس میں جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیاگیا۔ یہ رابطہ گروپ او آئی سی میں جموں و کشمیر کے امور کے لئے 1994 میں تشکیل دیا گیا تھا۔ آذربائیجان ، نیزر ، پاکستان ، سعودی عرب اور ترکی اس رابطہ گروپ کے ممبر ہیں۔

دراصل بھارت نے گذشتہ سال جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی۔ اس پر پاکستان نے او آئی سی پر دباؤ ڈالا کہ وہ بھارت کے خلاف کچھ سخت بیانات جاری کرے۔ تاہم ایسا نہیں ہوا اور او آئی سی نے اس معاملے پر خاموشی اختیار رکھی۔ او آئی سی پر سعودی عرب کا غلبہ ہے ایسا خیال کیا جاتا ہے۔سعودی عرب کی حمایت کے بغیر او آئی سی میں کچھ کرنا ناممکن ہے۔

ہندوستان اور سعودی عرب کے مابین بہت سارے کاروباری مفادات ہیں اور اسی وجہ سے ، سعودی عرب نے آرٹیکل 370 کے خاتمے پر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔ متحدہ عرب امارات نے بھی اس معاملے کو ہندوستان کا داخلی مسئلہ قرار دیتے ہوئے کچھ بھی کہنے سے انکار کردیا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے اس موقف کو پاکستان کے لئے ایک بڑا دھچکا سمجھا جاتا تھا۔

پاکستان کی سفارتی کامیابی
اب پاکستان جموں و کشمیر سے متعلق اجلاس کو اپنی سفارتی کامیابی کے طور پر او آئی سی میں پیش کرے گا۔ پچھلے سال ستمبر میں بھی ایسی ہی ایک میٹنگ ہوئی تھی۔ پاکستان نے کشمیر ، او آئی سی کی غیرجانبداری کے حوالے سے ترکی ، ملائشیا اور ایران کے ساتھ متحد ہونے کی کوشش کی تھی۔

ترک صدر اردون ، ایران کے صدر حسن روحانی ، ملائشیا کے اس وقت کے وزیر اعظم مہاتیر محمد اور پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے اس مسئلے پر کوالالمپور سمٹ میں اتحاد کا منصوبہ بنایا تھا ، لیکن سعودی عرب نے اسے او آئی سی کے لیے چیلنج کے طور پر لیا اور پاکستان کو اس مہم میں حصہ لینے سے روک دیا گیا تھا۔

بھارت کی مشکلات بڑھ جائیں گی
او آئی سی کا اجلاس ایک ایسے وقت میں منعقد کیا جارہا ہے جب ہندوستان اور چین کے مابین کشیدگی چل رہی ہے ، جو دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے۔ ہندوستان کے 20 فوجی سرحد پر ہی دم توڑ چکے ہیں۔ نیپال کے ساتھ بارڈر پر بھی تنازعہ ہے اور پاکستان کے ساتھ تناؤ معمول کے مطابق ہے۔ ایسی صورتحال میں او آئی سی کا یہ اجلاس بہت اہم سمجھا جارہا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad