تازہ ترین

Post Top Ad

منگل، 30 جون، 2020

دہلی فسادات میں 11 مسلم اور 2 ہندو مذہبی مقامات کو نقصان پہنچا: دہلی پولیس

دہلی ۔(یو این اے نیوز 30 جون 2020) دلی  تشدد کے دوران کتنے مذہبی مقامات کو نقصان پہنچا ہے یہ انکشاف ایک آر ٹی آئی کے ذریعے ہوا ہے۔  آر ٹی آئی کے مطابق ، رواں سال فروری میں ، شمال مشرقی دہلی میں شرپسندوں کے ذریعہ ایک درجن سے زیادہ مذہبی مقامات پر دنگائیوں نے نقصان پہنچایا 

 دی کونٹ کی خبر کے مطابق دہلی پولیس نے حق اطلاعات ایکٹ کے تحت پوچھے گئے سوالوں کے جواب میں انکشاف کیا ہے کہ تشدد کے دوران 8 مساجد ، 2 مدرسے ، 1 درگاہ اور 2 مندروں کو نقصان پہنچایا ہے دہلی پولیس نے یہ معلومات آر ٹی آئی کارکن یوسف نقی کے پوچھے گئے دو مختلف سوالات کے جواب میں دیا ہے،

 نقی نے اپنی آر ٹی آئی میں مسلمانوں کے مذہبی مقامات کو نقصان پہنچائے گئے تعلق سوال کیا تھا  مساجد ، درگاہوں اور مدرسوں کے پر ہوئے حملوں کے بارے میں جانکاری مانگی تھی  ، جس پر پولیس نے جواب دیا ، "تمام ایس ایچ او / این ای ڈی کی رپورٹ کے مطابق ، 8 مساجد ، 2 مدرسے، اور 1 درگاہ کو  اس ضلع میں نقصان پہنچایا گیا 

 تاہم ، یہ اعداد و شمار دہلی وقف بورڈ کے ذریعہ دیئے گئے اعدادوشمار سے مختلف ہیں۔  وقف بورڈ کے مطابق ، فسادات کے دوران 19 مساجد کو نقصان پہنچا ہے۔ آر ٹی آئی میں ہندوؤں کی عبادت گاہوں کو پہنچنے والے نقصان کے سوال کے جواب میں ، پولیس نے کہا ، "دستیاب ریکارڈ کے مطابق ، اس ضلع میں دو مندروں کو نقصان پہنچا ہے۔"

 اسی دوران پولیس نے خاص طور پر یہ بتانے سے انکار کردیا کہ فرقہ وارانہ تشدد کے دوران کون سے مسلم اور ہندو مذہبی مقامات کو نقصان پہنچا ہے۔  پولیس نے "حساس" معلومات کا حوالہ دیتے ہوئے اس کا جواب دینے سے انکار کردیا۔
 کتنے لوگوں کو گرفتار کیا گیا؟

آر ٹی آئی کے سوالات کے جواب میں ، پولیس نے یہ انکشاف بھی کیا کہ مساجد ، مدرسوں اور درگاہوں پر حملے کے سلسلے میں 11 ایف آئی آر درج کی گئی ہیں ، جن میں 31 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ، ان میں سے 7 ضمانت پر باہر ہیں  اور 4 کے تعلق سے چارج شیٹ داخل کی گئی ہے۔ 

 ہندوؤں کی عبادت گاہوں کو ہونے والے نقصان کے سلسلے میں دو ایف آئی آر درج کی گئیں ،اور ایک چارج شیٹ دائر کی گئی ہے اور دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ، ان میں سے کوئی بھی ضمانت پر باہر نہیں ہے۔  واضح رہے یہ جوابات 9 جون کو دیئے گئے تھے۔
 تاہم پولیس نے ان لوگوں کے بارے میں تفصیلات بتانے سے انکار کردیا ، جن کے نام ایف آئی آر میں درج ہیں یا جنھیں گرفتار کیا گیا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad