تازہ ترین

Post Top Ad

پیر، 29 جون، 2020

دینی مدارس کا مقام،اور ہماری ذمہ داریاں

احقر العباد محمدشمیم دارالعلوم حسینیہ بوریولی ممبئی
مسلمان وہ زندہ قوم ہے جو حالات کی سنگینی سے خوف زدہ نہیں ہوتی اور نہ ہی مشکل وقت میں حواس باختہ ہوتی ہے ،غور کیا جائے تو اس گردش گیتی کی لیل و نہار میں مسلمانوں پر بڑے ظلم و استبداد کی کوششیں کی گئیں،متعدد مرتبہ دل سوز خونی فسادات کے ذریعہ  نسل کشی کی گئی ، کبھی شریعت کی پامالی اور کسی وقت تاریخ کو مسخ کرکے دل آزاری کی گئی ، تو کبھی ان کی مذہبی شناخت کو مٹانے کی منصوبہ بند سازشیں رچی گئیں ، لیکن جب ہم تاریخ کے سنہرے اوراق کو الٹ پلٹ کر دیکھتے ہیں تو ہمیں بھارت میں مسلمانوں کی مذہبی انسیت پر رشک آتا ہے،جس طرح  یہ بود و باش کے لیے متفکر، اور خورد و نوش کے لیے جدوجہد کرتے ہیں، اس سے کہیں زیادہ دین کی بقا و تحفظ کے لئے سر گرداں رہتے ہیں، ان کی مذہبی محبت تو دیکھو!! جنہوں نے اقلیت میں رہتے ہوئے اسلام کی سربلندی کا اس طرح سے اظہار کیا کہ شہر شہر قریہ قریہ خوبصورت مسجد کے مینار اور مدارس و مکاتب کی درسگاہوں سے اس خطے کے حسن کو دوبالا کر دیا،وہ زمین علم کی روشنی سے منور ہو گئی جہاں مسلمان قدم رنجہ فرما گئے ، اس سر زمین کا کیا کہنا اس کی خوش قسمتی تو دیکھو!! 
کہ جہاں پر مسلمان آباد ہو گئے وہاں سے علم کی خوشبو پھیل گئی، وہاں کے چمن میں بہار آگئی،وہاں کی فضاء معطر ہوگئی، جس سے وہاں کے بسنے والے انسانوں میں اخوت و محبت، انسانیت و ہمدردی، تہذیب و شائستگی کی راہیں ہموار ہو گئیں، ، ان کے افکار و خیالات میں یہ بات کوٹ کوٹ کر بھری رہتی ہے کہ یہ جس مقام پر سکونت پذیر ہو گئے ، وہیں پر انہوں نے اپنی نسلوں کی فلاح و بہبود کیلئے صرف عصری تعلیم پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ اسلامی تعلیمات کے لئے مدارس و مکاتب کی فکر میں کوشاں ہو گئے،ان کے بلند عزائم کو دیکھو!! 

کہ رقوم کی حصول یابی کیلئے یہ دربدر کی ٹھوکریں کھانے کو گوارا کر لیں گے لیکن اس وقت تک اطمنان قلب نصیب نہیں ہوگا، جب تک ان کے آنکھوں کی ٹھنڈک مسجد و مدرسہ تعمیر ہوکر اس میں امام و مدرس دینی خدمات انجام نہ دینے لگیں،لیکن وقت کی ستم ظریفی تو دیکھئے  کہ لاک ڈاؤن نے سب کو معاشی طور پر خستہ حال کر دیا ہے کہ لوگ اسی کے بارگراں تلے دب کر رہ گئے، اسی آزمائشی دور سے مسلمان بھی گزر رہے ہیں،لیکن مسلمان زندہ قوم ہے جو ہزار پریشانیوں میں گھرے ہونے کے باوجود اسلامی شمع روشن کرنے انتھک کوشش کرتا ہے

غیور مسلمانوں اسلام کے جانثاروں!! 
آؤ دیکھو تو سہی یہ آپ کے خون پسینے کی کمائی سے چلنے والے مدارس زبانِ حال سے فریاد کر رہے ہیں کہ لاک ڈاؤن میں کہاں چلے گئے ہمارے مسیحا وہ ہمارے نگہبان جنہوں نے بدسے بدترین حالات میں ہماری نشوونما اور آبیاری کے لیے اپنے تن من دھن کی بازی لگا کر ہمیں پروان چڑھایا، ہماری محافظت میں ہمیشہ سینہ سپر رہے،یہاں تک کہ دشمنانِ مدارس کی تمام تر سازشوں کا قلع قمع کرکے ان کے سامنے شیشہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ڈٹ کر کھڑے ہو گئے،یہ آپ کے مدارس جو یقیناً اسلام کے قلعے ہیں آج مصیبت کے ایام میں آپ کو پکار رہے ہیں ، آپ بھی معاشی بحران سے پریشان ہیں لیکن یہ مدارس اسلامیہ آپ ہی کا قیمتی اثاثہ ہے، ایک صدی آپ نے جان توڑ کوشش کی ہے تب یہ اس مقام تک پہنچے ہیں، مزید آپ کے اس قیمتی سرمایہ کے ہزاروں دشمن بھی ہیں، جن کی خونخوار نگاہوں میں ہمیشہ آپ کا یہ قیمتی سرمایہ کھٹکتا رہتا ہے، انہیں یہ غم ستائے جا رہا ہے کہ کسی طرح مسلمانوں کے مدارس ختم ہو جائیں، کیونکہ یہیں سے اسلام کی حفاظت و اشاعت کے سپاہی تیار ہوتے ہیں، جو قرآن و حدیث کی حفاظت میں اپنی پوری توانائی کو صرف کرتے ہوئے  زندگی کھپا دیتے ہیں اگر یہ مدارس کے کارخانے علماءکرام کو پیدا کرنا بند کردیں تو یہودیوں نصرانیوں کی اسلام بیزاری رنگ لائے گی اور ان کے کھوٹے جاسوسی علماء جو قرآن و حدیث کا علم اس لیے حاصل کرتے ہیں کہ مسلمانوں کی شریعت کو داغ دار کرتے ہوئے اس میں اس طرح سے غلط باتوں کو خلط ملط کر دیں کہ مسلم عوام اسی کو حقیقت سمجھتے ہوئے اپنی اصلی شریعت کو بھول جائے

 حاسدینِ مدارس کواس بات کا بھی احساس ہے کہ یہی مدارس ہیں جہاں سے انہیں مسجدوں کے لیے ائمہ کرام دستیاب ہوتے ہیں جو منبر و محراب کی زینت بن کر عوام کے سامنے قرآنی احکامات اور سیرت النبی کو کھول کھول کر بیان کرتے ہیں، مزید یہیں سے مدارس کے لیے اساتذہ ملتے ہیں جو قال اللہ و قال الرسول کا درس دیتے ہیں ، انہیں یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ یہی اسلام کے قلعے ہیں جہاں سے علم دین کی روشنی لیکر بے شمار حضرات تبلیغی جماعت کی شکل میں گروہ در گروہ اپنے قیمتی اموال و اوقات کی قربانی دیکر دین سے دور خدا کی یاد سے غافل صرف نام کے مسلمانوں پر اس قدر محنت کرتے ہیں کہ وہ سنت و شریعت کے مطابق زندگی بسر کرنے والے بن جاتے ہیں،اے مسلمانوں دین وحدت کے پاسبانوں، موجودہ دور میں مدارس کی زبوں حالی کو دیکھو، لاک ڈاؤن سے یہ کیسے ویران دکھائی دے رہے ہیں ایسا لگتا ہے کہ جیسے موسمِ خزاں میں درخت سے پتے جھڑ گئے ہوں، ایسے تکلیف دہ ایام میں ہر کوئی اپنوں کی طرف حسرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے یہ مدارس اسلامیہ بھی زبان حال سے مخاطب ہو کر آپ کی نظر کرم کے متمنی ہیں، یہ اپنی نظریں جمائے ہوئے آپ کی تشریف آوری کے منتظر ہیں، امید ہے کہ آپ انہیں بے سہارا نہیں چھوڑیں گے بلکہ ان کی مالی پریشانیوں کا مداوا کرتے ہوئے پہلے سے بہتر پوزیشن پر لانے کی کوشش کریں گے

اخیر میں مدارس و مساجد کے ذمہ داران سے بہت ہی ادب و احترام کے ساتھ درخواست کروں گا کہ خدا واسطے کسی امام یا استاذ کو مالی بحران کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے رخصت نہ کریں، جہاں پر اللہ تعالیٰ نے ذمہ داران کو صاحب حیثیت رکھا ہے آمدنی کے ذرائع بھی ہیں وہاں پوری تنخواہ دینے کی کوشش کریں، جہاں آمدنی کے ذرائع کم ہیں وہاں رائے مشورہ سے جو ممکن ہو سکتا ہے اسی سے خدمت کرتے رہیں، اور جہاں پر بلکل پیسہ نہیں ہے وہاں اک احسان کریں کہ آپ کسی کو برخاست نہ کریں بلکہ مخیرین حضرات کو متوجہ کرتے رہیں، اتنی بات تو ائمہ و اساتذہ بھی سمجھتے ہیں کہ جب رقم ہے ہی نہیں، تو دیں گے کہاں سے، پورے بھارت کے لوگوں کو مالی مشکلات کا سامنا ہے ایسے نازک وقت میں آپ آئمہ و اساتذہ کے ہمدرد غمخوار کہلانے کے حق دار ہوں گے، جب آپ ان کے ساتھ خیر خواہی صلہ رحمی سے پیش آئیں گے، اگر مالی خسارے سے خوفزدہ ہوکر آپ انہیں مدارس و مساجد سے خارج کردیتے ہیں تو یہ بہت بڑی ناانصافی ہے،یاد رکھیں جہاں ایک طرف مخیرین حضرات کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنا مالی تعاون پیش کرکے مدارس کی رونق کو بحال کریں ، وہیں پر انتظامیہ کی ذمہ داری بھی ہے کہ کسی استاذ کو نکالنے سے گریز کریں،


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad