تازہ ترین

Post Top Ad

ہفتہ، 27 جون، 2020

گاؤں ڈہرا میں ہوئی فائرنگ اور ایک لڑکی کے اغوا کی اطلاع سے علاقہ میں سنسنی

دیوبند: ،دانیال خان ۔(یو این اے نیوز 27جون 2020)حجومی تشدد کے ذریعہ ہوئی اسرار کی موت کے بعد سے گاؤں ڈہرا سرخیوں میں بنا ہوا ہے،دیر رات گاؤں ڈہرا میں ہوئی فائرنگ کے بعد ایک لڑکی کو اغوا کئے جانے کی اطلاع سے علاقہ میں کشیدگی کا ماحول بنا ہوا تھا لیکن فائرنگ کے دوران گاؤں ڈہرا سے غائب ہوئی لڑکی کو اہل خانہ نے مظفر نگر کے گاؤں توائی سے برآمدکئے جانے کے بعد انتظامیہ نے راحت کی سانس لی ہے،گاؤں والوں کے مطابق 

ذہنی طور پرپریشان لڑکی اپنی بہن کے گھر پہنچ گئی تھی۔ لڑکی کی برآمدگی کی اطلاع پر گاؤں پہنچی پولیس نے اہل خانہ سے تفصیلی معلومات حاصل کیں۔تفصیلات کے مطابق دیر رات گاؤں ڈہرا میں ہوئی فائرنگ کے دوران گاؤں کے ہی کشیپ سماج کی لڑکی مشتبہ حالات میں گھر سے غائب ہو گئی تھی فائرنگ کے دوران اچانک غائب ہوئی لڑکی کی خبر سے انتظامیہ میں افرا تفری کا ماحول بن گیا تھا۔گاؤں والوں کے ذریعہ طرح طرح کی قیاس بازیوں کے درمیان حالات کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے ایس پی دیہات اشوک کمار مینا نے گاؤں پہنچ کر لڑکی کے اہل خانہ سے بات کر ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی تھی،جمع کے روز اہل خانہ کو اطلاع ملی کہ لڑکی مظفر نگر کے گاؤں توائی میں پہنچ گئی ہے اور اپنی بہن کے ساتھ محفوظ ہے

۔خبر ملتے ہی لڑکی کے اہل خانہ اس کو لینے کے لئے توائی گئے پہنچ گئے وہیں پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی کے گاؤں واپس آنے پر اس سے پوچھ تاچھ کی جائے گی،شروعاتی جانچ میں سامنے آیا ہے کہ لڑکی ذہنی طور پر پریشان چل رہی تھی جس کے سبب وہ گھر چھوڑ کر اپنی بہن کے یہاں چلی گئی تھی۔سی او دیوبند رجنیش کماراپادھیائے نے بتایا کہ معاملے کی جانچ کی جا رہی ہے۔واضح ہو کہ دیر رات گاؤں ڈہرا میں شر پسند عناصر کے ذریعہ کی گئی فائرنگ کے بعد دونوں جانب سے فائرنگ کی گئی تھی اس دوران گاؤں سے ایک لڑکی کے اغوا ہونے کی اطلاع سے سہارنپور سے لیکر لکھنؤ تک افرا تفری کا ماحول بن گیا تھا۔

حالات کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے ایس پی دیہات اشوک کمار مینا نے رات میں ہی گاؤں میں پہنچ کر فائرنگ والی جگہ کا معائنہ کرمقامی افسران کو گاؤں میں مزید فورس تعینات کئے جانے کے احکامات جاری کئے تھے۔بتایا جاتا ہے کہ سوشل میڈیا پر کی جارہی اشتعال انگیز پوسٹ سے علاقہ کا ماحول کشیدہ بنا ہوا ہے گاؤں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی دنوں سے گاؤں کے آس پاس مشتبہ لوگ گھوم رہے ہیں جس کے سبب لوگوں میں دہشت بنی ہوئی ہے وہیں کوتوالی انچارج یگھ دت شرما نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز پوسٹ ڈالنے والے افراد کے خلاف مقدمہ قائم کیا جائے گا،ایسے لوگوں کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad