تازہ ترین

Post Top Ad

ہفتہ، 27 جون، 2020

فیضانِ شُجاعت ایک مطالعہ

از :حفظ الرحمن ندو"فیضانِ شُجاعت " نامی یہ کتاب  تقریبا ڈیڑھ سو (١٥٠) صفحات پر مشتمل ایک  بہترین سوانحی گُلدستہ ہے جو نمونہ اسلاف، استاد الاساتذہ حافظ شُجاعت علی صاحب (نوراللہ مرقدہ وبرداللہ مجضعہ) کی داستانِ حیات بابرکات ہے، جس کو مشہور ومقبول شاعر وقلمار، میدان خطابت کے شہسوار، بہترین ناظم و نقیب جناب مولانا نوراللہ نور قاسمی صاحب نے عرق ریزی اور سوانح نگاری کے اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے پوری ایمانداری کے ساتھ تیار کیا ہے۔


اس سوانحی گُلدستہ کا یادگار اسلاف حافظ شُجاعت علی صاحب جیسی عظیم و جامع الکمالات  شخصیت اور پاکیزہ روح کی سوانح عمری پر تیار کیاجانا ہی بڑی مقبولیت کی دلیل تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چہ جائیکہ مولانا نوراللہ نور قاسمی صاحب (دام اللہ علينا ظل حياته وعام علمه وفضله وفيوضه) جیسے کہنہ مشق قلم کار، بے مثال ادیب اور استاد شاعرکے قلم سے نکل کر منظرِ عام پر آنا اس گُلدستے کی مقبولیت کی اک اور دلیل ہے ۔۔۔۔۔ جس کے سبب اسے عوام کی محفلوں اور خواص کے حلقوں میں وقعت کی نگاہوں سے دیکھا اور شوق وقدردانی کے ہاتھوں سے لیا گیا۔


کیونکہ مصنف کتاب (مولانا نوراللہ نور قاسمی صاحب ) کی شخصیت علمی و ادبی حلقوں میں کسی تعارف کی محتاج نہیں ۔۔۔۔۔موضوع جیسا بھی ہو آپ اپنے قلم کی جولانی، خیال کی رعنائی، اور طرز  ادا کی دلآویزی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے ۔۔۔۔۔۔بلکہ آپ اپنے اسلوب کو رقت سامانی، حزن آفرینی اور عبرت زائی کے عناصر سے لبریز کرتے ہوئے۔۔۔۔۔۔ایک چشم کشا، حقیقت شناس اور آفاق بیں عالم کیطرح  اپنے گردوپیش سے پوری طرح باخبر رہتے ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صاف گوئی، بے باکی اور حق شناسی کے ساتھ آنکھوں کی کہانی، قلم کی زبانی بیان کردیتے ہیں۔۔۔۔جن کا نمونہ ہمیں  آپ کے اشعار اور تحریروں میں کثرت سے دیکھنے کو ملتا ہے اور بلاشبہ ان تمام۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خصوصیات کا عرق قارئین کو اس کتاب سے چھلکتا دکھائی دے گا۔


اس کتاب کا از اول تا آخر مطالعہ کرنے کے بعد ایک ادنی سے طالب علم کی حیثیت سے میں یہ بات کہتا ہوں کہ مصنف مدظلہ العالی نے اس کتاب کو مجرد وقائع نگار اور ضابطے کے ایک سوانح نگار کی حیثیت سے صرف حافظ جی رحمة الله  کی زندگی سے متعلق واقعات ومعلومات کی بے جان وخشک سی فہرست مرتب کردینے پر اکتفا نہیں کیا اور نہ ہی اپنے قلم کو بے جا تعریفات اور گڑھے ہوئے واقعات کی سمت بہکنے دیا ہے۔


  جیسا کہ مفکر اسلام حضرت مولانا سیدابوالحسن علی حسنی ندوی رح ایک کتاب کے مقدمہ میں تصنیف و تالیف سے متعلق لکھتے ہیں ۔۔۔۔کہ "اکثر ایساہوتا ہے کہ مصنف پر کسی خاص رجحان یا ذوق کے غالب ہونے کے سبب وہ اپنے ممدوح یا جس شخصیت کی سوانح لکھ رہا ہوتا ہے اسکواپنے ذوق و رجحان کا تابع کردیتا ہے جس کے سبب وہ تصنیف و تحریر صرف مصنف کے اس ذوق ورجحان کی نمائیدگی کرتی ہے جو اس وقت اس پر حاوی تھا اس لئے اس تصنیف و تحریر سے کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوتا ہے


  لیکن مصنف نے اس کتاب میں حافظ جی رح کی زندگی کی سچائیوں،اچھائیوں، انسانیت نوازیوں، اعلی اخلاقیوں اور دین اسلام کے فروغ، واعلاء کلمة اللہ کیلئے کی گئی انکی کاوشوں، محنتوں اور ان کی صحرانوردیوں کو بڑی دیانت داری اور سلیقے کے ساتھ بیان کیا ہے۔ 

اور مزید یہ کہ حسب حال آیات قرآنیہ واحادیث نبویہ اور برمحل اردو وفارسی اشعار وقطعات استعمال کرنے کے ساتھ، شروع میں ایک طویل علمی وادبی، فکری وفنی مقدمہ تحریر فرماکر اس کتاب کو مخزن فکر وفن وگنجینہ علم وادب کا اک معلوماتی ذخیرہ بنادیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس لئے یہ کتاب جہاں ایک طرف حافظ جی رح کی ذات وصفات پر محیط معنوی سیرابی وآسودگی کا اثاثہ حیات و روحانی غذا کا ذریعہ ہے تو وہیں دوسری طرف علمی وادبی، فکری وفنی رنگینیوں کا بحر بیکراں بھی ہے ۔


مجھے حافظ جی رح جیسی عظیم شخصیت، علم دوست، پیکرِ علم و عمل، اخلاقِ حسنہ کی خوگراور انسانیت کا دردو تڑپ رکھنے والی انمول وبے مثال ہستی کے دیدار کا شرف تو حاصل نہ ہوسکا لیکن۔۔۔۔آپ کے متعلق والد محترم اور دیگر دوست واحباب سے  کچھ نہ کچھ وقتاً فوقتاً سُن کر اور اس کتاب کو ابتداء سے انتہاء تک پڑھ کر آپ کا علمی و فکری، عملی وروحانی جودیدار ہوا ۔۔۔۔۔ اور اس سے جو حقیقت  سامنے آئی وہ یہ کہ ۔۔۔۔حافظ جی رح جہاں ایک طرف تقوی وپرہیزگاری، تواضع وانکساری، فیاضی وشکرگزاری، خوش خلقی  ومہمان نوازی جیسی بہترین انسانی خوبیوں کے حامل تھے تو وہیں دوسری طرف ریاکاری وخودنمائی جیسے اجر وثواب کے قاتل و مہلک مرض سے ناگواری اور خودبینی و خودشتائی جیسے سخت ضرر رساں اور روحانی بیماریوں سے بیزاری کو اپنی خوش بختی تصور کرتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اورسنت وشریعت کے سہل روحانی اندازواطوار اور لباسِ سادگی کو زیب تن کرکے زبان حال سے کچھ یوں گویا تھے ۔۔

ہزاروں غم کے پردے میں، دل بیتاب رکھتے ہیں 

سجا کر دھڑکنوں میں ، ہم سُنہرے خواب رکھتے ہیں

یہ ظاہر کی چَمک والے، ہماری قدر کیا جانیں

ہم اپنی سادگی میں ،گوہر نایاب رکھتے ہیں


  حافظ جی رح جس جگہ بھی تشریف لے گئے وہاں پر تعلیم کے ساتھ ساتھ دعوت وتبلیغ کا فریضہ بھی انجام دیتے رہے ۔اسی لئے جہاں ایک جہت سے آپ کی دعوتی وتبلیغی محنت و کوشش کے ذریعے بہت سے دین وشریعت سے بیزار افراد جو دین اسلام کے نہ صرف عامل بنے۔۔۔۔۔ بلکہ عمل کے ساتھ  خود داعی حق بھی بن گئی ایسے اللہ والوں کہ ایک تعداد آج بھی نظروں کے سامنے ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ وہیں دوسری جہت سے علاقے میں بہت سی جگہوں پر درس و تدریس کا فریضہ انجام دینے کے علاوہ ۔۔۔۔۔۔۔  تعلیم وتربیت کو عام کرکے  ظلمت وجہالت کی تاریکی کو ختم اور قرآن وحدیث کی روشنی سے علاقے کو منور کرنے کیلئے اپنے دست مبارک سے 1975میں  مدرسہ دارالفلاح (سنچری بازار، آنند نگر)  اور چند سالوں کے بعد  مدرسہ جامع العلوم (گوپلا پور شاہ) کی بنیاد ڈالی اور زندگی کی آخری سانس تک اسی مدرسہ میں رہ کر علاقے کو علم کی روشنی سے منور اور تبلیغ کی خوشبو سے معطر کرتے رہے اور اسی قابلِ رشک حال میں اللہ کو پیارے ہو گئے۔


حافظ جی رح  کی انہیں خوبیوں اور خدمات کی وجہ سے  اللہ تعالی نے آپ کو مخلوق کی نگاہوں میں محبوب بنادیا تھا، جس کے سبب آپ کو اپنوں کے علاوہ غیر مُسلموں میں بھی جو قدر ومنزلت ملی وہ کم ہی لوگوں کو نصیب ہوتی ہے، اور یہ سچ ہے کہ عزت، ذلت ، نفع ونقصان ہر چیز کا مالک اللہ ہے وہ جس بندے سے راضی ہوتا ہے اسے مخلوق کی نگاہوں میں محبوب بنادیتا ہے اور اس کا مشاہدہ ہم اور آپ بار بار کرتے ہیں کہ اللہ والوں کے دیدارکی خواہش اور ان سے ملاقات کی تڑپ میں لوگ کس طرح بےچین وبےبیتاب ہوتے ہیں ۔


قصہ مختصر یہ کہ حافظ جی رح بے شمار اوصاف و محاسن کےحامل تھے جن کا احاطہ اس چھوٹی سی تحریر میں نا ممکن ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بس اتنا کہنا کافی سمجھتا ہوں کہ آپ اس علاقے کے لئے ایک عظیم نعمت تھے جس نعمت سے اللہ پاک کسی ملک اور صوبہ وشہر کو صدیوں میں نوازتا ہے جس کو نباض وقت ، ڈاکٹر علامہ اقبال مرحوم نے اشعار کی زبانی کچھ اس طرح بیان کیا ہے ۔


ہزاروں سال نرگس اپنی بےنوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا 


  عزیز قارئین

آج جب کہ ہم سب اپنے ان بڑوں، بزرگوں اور اسلاف کے عادات واطوار اور طرز زندگی سے بالکل دور۔۔۔۔۔ ہوتے جارہے ہیں  جن کی زندگیاں قرآن و حدیث اور سیرت طیبہ کا عکس جمیل تھیں ۔۔۔اور ہم مغربی طرز زندگی کی پر فریب جلوہ آرائیوں، رنگینیوں اور اس کی ظاہری چمک دمک سے دھوکہ کھاکر اپنی کامیابی اسی میں تصور کررہے ہیں، اور قرآن وحدیث کی پیروی اوراس کے مطابق زندگی گزارنے کو دشواری اور ناکامی کا راستہ سمجھ رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔اور مزید برآں مادیت، خود غرضی، مطلب براری اور چڑھتے سورج کی پوجا ہمارا شیوہ بنتا جا رہا ہے ۔

ایسے وقت میں اسلاف کی زندگیوں کا مطالعہ کرنا اور اسے لوگوں میں عام کرنا وقت کی ایک اہم ضرورت ہے۔ 


اس لئے حافظ جی رح جیسی عظیم شخصیت کی سوانح عمری لکھنے کے اس مستحسن عمل پر ایک طالب علم کی حیثیت سے میں جناب مولانا نوراللہ نور قاسمی صاحب کے لئے دعا گو ہوں کہ رب کریم آپ کے سائے کوتادیر ہم پر سلامت رکھے، آپ کے قلم میں مزید نکھار پیدا کرے اور آپ کو علم وعمل کا پیکر وصلاح وتقوی کا خوگر بنا کر مزید دینی ودنیوی ترقیات سے نوازے۔ 

ساتھ ہی حافظ جی رح ہی کے نام سے موسوم ، اور آپ کے روحانی زیر سایہ قوم ومعاشرے کی خدمت میں مصروف "حافظ شُجاعت فیضِ عام چیریٹیبل ٹرسٹ" جس کے زیر اہتمام یہ کتاب شائع کی گئی اس کے تمام ذمہ داران وکارکنان ۔۔۔۔خصوصاً حافظ جی رح کے صاحب زادگان جناب مولانا شمس الہدی قاسمی صاحب اور آپ کے برادر اکبر جناب شمس الضحی خان صاحب اور اپنے ہم درس ورفیق محترم حافظ عبیدالرحمن صاحب کو بصمیم قلب مبارک باد دیتے ہوئے دعا گو ہوں کہ اللہ پاک ان تمام کو اجر عظیم عطا فرمائے ۔۔۔۔۔۔اور حافظ جی رح کو غریق رحمت فرماکر، آپ کے اس سوانحی گلدستہ (فیضانِ شُجاعت) کو تشنگان علوم وفنون کی سیرابی کا سرچشمہ اور متاخرین کیلئے مشعل راہ  بنائے ۔ اور آپ کے نام سے منسوب ٹرسٹ جو آپ کے لئے بہترین صدقہ جاریہ ہے ۔۔۔اسے نظر بد سے محفوظ رکھ کر قبولیت عام وبقائے دوام عطا فرمائے ۔آمین

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad