تازہ ترین

Post Top Ad

جمعرات، 18 جون، 2020

ہندوستان میں سلسلۂ چشتیہ کا ارتقائی سفر

سلیمان سعودرشیدی حیدرآباد
بر ِصغیر وہ خطہ ہے جو مرکزِ اسلام سے دور ہو نے کے باوجود پہلی ہجری ہی میں آفتابِ ہدایت کے کرنوں سے منور ہوا۔ یہاں کے پیچیدہ تہہ در تہہ خود ساختہ مذہبی تصورات نے  یہاں کے باسیوں کومختلف نسلی واعتقادی طبقات میں تقسیم کر رکھا تھا،جب اسلامی خلافت  جزیرہ عرب کی سرحدیں عبور کرکے افریقہ ،یورپ اورایشیا کے برِّاعظموں تک پھیل رہی تھی،تووہیں ہندوستان میں بھی اس عالم گیر اسلا می تحرک کے اثرات پہنچ رہے تھے مسلمان تاجر اور مبلغین  7؍ویں صدی عیسوی میں اپنے بہترین اخلا ق  وکردارکے ذریعہ برصغیر کے مغربی ساحلوں پر قطعی اراضی حاصل کرکے یہا ں کے متمول تجارت پیشہ خصوصا راجاؤں کو اسلام کی طرف راغب کر لیا تھا۔

ہندوستان میں اسلام کو متعارف کرانے والوں کو تین طبقات میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔
 1۔ تجارت پیشہ طبقہ
2۔  وہ سلاطین وامراء جنہوں نے فوجی مہمات کے ذریعہ باقاعدہ حکو متیں قا ئم کی مگر ان د و طریقوں کی بنسبت مؤثراور فطری طریقہ
3 ۔  صوفیا کی دعوت وتبلغ کا  طریقہ ،جوان ان فاتحین کے ہمراہ آکر سروں کے ساتھ دلوں کی تسخیراور اخلاقی وایمانی فتح کا کا م انجام دیا’اورشرق سے غرب تک نورِاسلام کے چراغ روشن کیے۔
یہ سلسلہ بارویں صدی عیسوی میں ایک نیا موڑ اختیار کیا،جس کے اوائل میں تہذیب وتمدن کے لیے مشہور عالمِ اسلام کے بڑے بڑے شہرتاتاریوں کے ہا  تھ برباد ہو کر رہ گئے ،ہندوستان ایک ایساملک تھاجو اس سورش سے محفوظ تھا  یہی وجہ تھی  کہ سکون سے محروم شریف ترین خاندانوں نے ہندوستان کو مسکن بنایا،جو ہندوستان کے لیے خوش آ یئن بات تھی کہ ہند اسلامی فکراور روحانی قوت کا نیا مرکز بننے جارہاہے،اسی سیلِ رواں میں صوفیا  بر صغیر میں تشریف لائے ،انمیں  نمایاں اور شہرِآفاق نام ’’خواجہ معین الدین چشتی ‘‘ کا ہے تصوف کے مشہور سلاسل میں سے جس سلسلہ سے آپ منسلک تھے وہ’’چشتیہ‘‘ہے۔
سلسلہ چشتیہ:
جس کا انتساب کسی بزرگ ذات سے نہیں بلکہ یہ خراسان کے ایک مشہور شہر ’’چشت ‘‘ سے منسوب ہے ،جہاں صوفیا نے اصلاح وتزکیہ کا مرکزقائم کیا تھا،جس کو اس قدر شہرت ملی کہ یہ سلسلہ اس شہرکی نسبت سے’’ چشتیہ ‘‘ کہلانے لگا ،جن کے ذریعہ باقا عدہ یہ سلسلہ شروع ہو،وہ ابو اسحاق شامی ہیں ،جوخواجہ شمشاد علی دینوری سے کسبِ فیض کے بعد چشت پہنچ کر امدادِ حق اور ارشادِحق کاایسا مستحکم نظام قائم کیا کہ آج تک سلسلہ چشتیہ ضوفشانی کررہاہے۔
خلیق احمد نظامی تحریر فرماتے ہیں :
’’چشتیہ سلسلہ کی داغ بیل تو ابو شیخ اسحا ق شامی نے ڈالی تھی لیکن اس کو پروان  چڑھا نے اور پھیلانے کا کا م خواجہ معین الدین سنجری  نے انجام دیا‘‘۔ (1)
ہندوستان میں سلسلۂ چشتیہ کی آمد:
 فتح ہند سے بہت پہلے مشہور روحانی سلاسل کا وجود ہوچکا تھااور وقتا فوقتا ہندوستان اس سے فیض یاب ہو رہا تھا،لیکن ہند کی روحانی فتح کے لیے اللہ نے سلسلہ چشتیہ کا انتخاب فرمایا، چنانچہ چشتیوں کو ہند کی طرف رخ کرنے کا غیبی اشارہ ہوا،سب سے پہلے جس چشتیِ شیخ نے ہندوستان کا رخ کیا وہ ’’خواجہ ابو محمد چشتی تھے، جن کی دعائیں  اوربابرکت  ذات محمود غزنوی کے فتوحات کی پشت پناہی کررہی تھی۔
مولناعلی میاں ندوی ؒ تحریرفرماتے ہیں :
جس طرح محمود کی سیاسی فتح کی تکمیل اور اسلامی سلطنت کے استحکام واستقلال کی  سعادت سلطان شہاب الدین غوری کے لیے مقدر تھی خواجہ ابو محمد چشتی کے کام کی تکمیل اور اسلام کی عمو می اشاعت اور اسلامی مرکز رشد وہدایت کا قیام  اسی سلسلہ کے ایک شیخ، شیخ الشیوخ خواجہ معین الدین سنجری کے لیے مقدر ہوچکا تھا۔(2)
معین الدین چشتی ؒ:
ایران کے علاقہ سیتان کے قبضہ سنجر میں ۵۳۷؁ھ کو اس عالمِ رنگ وبومیں تشریف لائے ،علوم مروجہ کے حصول کے بعد روحانی فیض کے لیے متعدد صوفیاء سے ملے،
لیکن آپ کا سلسلہ ٔبیعت وخلافت خواجہ عثمان ہرونی سے ہے ،آپ اپنے مولدِ وطن کو چھوڑ مختلف مقامات کی سیر کرتے ہوئے ہندوستان پہنچے ،ابتداء لاہور میں علی ہجویری کے مزار پر چلہ کشی کی،پھر دہلی میں فروکش ہوئے،اس کے بعد اجمیر میں بود وباش اختیار کی، یہ وہ زمانہ ہے جب دہلی میں راجپوتوں کی دوسری شاخ چوہا نیوں کی حکمرانی تھی،چوہانیوں کے چھٹے حکمراں ’’پرتھوی راج چوہان نے ‘‘پایہ تخت دہلی سے اجمیر منتقل کیا تھا،اجمیر راجپوت طاقت اور ہندو مذہب اور روحانیت کابڑا مرکز تھا، اس مذہبی مرکز میں آپ کا قیام آپ کے عزائم کی ترجمانی کرتا ہے،یہاں پہلے دن ہی سے اپنی مؤثر تبلیغ اور حسن اخلاق سے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرلیا ،اہلِ اجمیر نے آ پ کی عظمتو ں اور کرامات سے متأثر ہوکرجوق درجوق مسلمان ہوگئے،دیکھتے ہی دیکھتے جو اجمیر بت پرستی کا مرکزتھا، اب ایمان واسلام کا گہوارہ بن گیا۔
سید ابوالحسن علی ندوی ؒ تحریر فرماتے ہیں :
خواجہ معین الدین چشتی ؒ کے مخلص اور پرزور ہاتھوں سے  یہاں چشتی سلسلہ کی مضبوط بنیاد پڑی،اس کے بعد خاص وعام سبھی نے اپنی عقیدت ومحبت کا اظہار کیا، (3)
 محمد غوری ا ورقطب الدین ایبک کے فتوحات کے بعد مسلم پایۂ تخت لاہور سے دہلی منتقل ہوگیا،تو آپ نے اپنے ایک مرید کو خلعتِ خلافت سے نوازکر دہلی میں اس سلسلہ کی اشاعت کے لیے متعین کردیا ،اور آپ اجمیر ہی میں اسلام کی شعائر کی اس انداز میں تبلیغ فرمائی کہ معاشرہ صحیح اور غلط کے پہچان کے قابل ہوگیا، نصف صدی کے ارشاد وتلقین کے بعد۹۰ ؍سال کی عمر میں اس وقت پردہ فرمائے  جب آپ کا سینچا ہوا پودا شجرِ تناور بن رہا تھا ،آپ کے در سے روحانی فیض پانے والے صوفیاء نے ہندوستان کے ایک گوشہ سے دوسرے گوشہ تک خانقاہوں اور روحانی مراکز کاجال پھیلایا ،انھیں پاک باز ونفیس اشخاص میں سے ایک  جنھیں دہلی میں متعین کیا تھا وہ خواجہ قطب الدین بختیار کاکی ہیں ۔
دہلی میں سلسلۂ چشتیہ:
 خواجہ معین الدین چشتی ؒ کے ذریعہ روحانیت کی جو شمع اجمیر میں روشن ہوئی تھی ،اس کی کرنیں آپ کی زندگی ہی میں قطب الدین بختیار کا کی ؒ  کے ذریعہ دہلی پہنچ چکی تھی، خواجہ معین الدین چشتی ؒ کے وصال کے بعد سلسلۂ چشتیہ کے نظام کو آگے بڑہانے کی ذمہ داری آپ کے کاندھوں پر آئی ،چناچہ مرکزی نظام  اجمیر سے دہلی منتقل ہوا ،جو آپ کے کاوشوں سے شمالی ہند  میں پھیلتا چلاگیا ،آپ نے اپنے سلسلہ کا ایک اصول بنارکھاتھا  ’’کہ فقر واستغناء سے کام کرنا ہے ‘‘ اس بے تعلقی وبے نیازی کے باوجود عوام وخواص شاہ وگدا  سب آپ کے عقیدت مند اور حلقہ بگوش تھے ، سلطان شمس الدین التمش جو اس وقت دہلی کا حکمراں تھا،علماء ومشائخ سے عقیدت کی بناء پر آپ سے بھی بے پناہ تعلق رکھتا تھا۔
خلیق احمد نظامی تحریر فرماتے ہیں :
قطب صاحب کا دہلی میں قیام کر لینا چشتیہ سلسلہ کے حق میں  بہت مفید ثابت ہوا،قطب صاحب نے  دارالسلطنت کے مہلک اثرات سے اپنے دامن  کوبچالیا ، لیکن ساتھ ہی ساتھ یہاں کے حالات سے پورا فائدہ اٹھایا ،اور تصوف کے خیالات ہر طبقے کے کانوں  تک پہنچائے(4)
آ پ کو خدمت کے لیے طویل زمانہ نہیں ملا ،شیخ معین الدین کے وفات کے بعد  چند سال زندہ رہے،  لیکن  آپ کی ذات سے ہندوستان میں نہ صرف  سلسلہ چشتیہ  کی بنیاد پڑ گئی  بلکہ  جن مقاصد عالیہ کے لیے  معین الدین چشتی ؒ نے اپنے قیام وکام کے لیے انتخاب کیا ، وہ صدیوں تک کے لیے محفوظ ہو گیا، آ پ کے خلفاء کی تعداد کم نہ تھی ،لیکن آپ کی جانشینی  اور خواجہ معین الدین چشتی ؒ کے مقاصد کی تکمیل وتوسیع کی سعادت فرید الدین ؒ کے حصہ آئی۔
خواجہ فرید الدینؒ گنج شکر :
 قطب الدین بختیار کاکیؒ کے بعد جب فرید الدینؒ گنج شکر نے دہلی میں اس کی ترویج  واشاعت کی تو اسوقت دہلی (دارالسلطنت) کے حالات ناگفتہ بہ تھے، شمس الدین کے وفات  سے بہت سارے  دانشوروں نے موقع پاکر سیاست میں دخل اندازی شروع کردی ،لیکن آ پ نے  سیاسی بکھیڑوں سے بچ کر دینِ حق کے خاطر خدمات انجام دی ،جب آپ نے محسوس کیا کہ دارالسلطنت کا ماحول  تبلیغ وترویج  پر اثر انداز ہونے لگا ہے،آپ دہلی کو خیر آباد کہکر جھانسی تشریف لے گئے ، اس طرح سلسلہ ٔچشتیہ دہلی سے جھانسی پہنچا، اور پھر وہاں سے’’ اجھودن‘‘ کو اپنا مرکز بنالیا، جہاں آپ نے اپنی تربیت ِخاص کے سانچہ میں ڈھال کر جو لوگ تیار کیے ان میں سلسلۂ چشتیہ کے آ فتاب ومہتا ب نظام الدین اولیاءؒ اور علی احمد صابری کلیری ؒ،بھی شامل ہیں ۔
مولناعلی میاں ؒ فرماتے ہیں :
 جس طرح خواجہ معین الدین چشتی ؒ ہندوستان میں سلسلۂ چشتیہ کے مؤسس وبانی ہے، فرید الدینؒ گنج شکر اس کے بعد اس سلسلہ کے آدمِ ثانی ہے ،آ پ ہی کے دو خلفاء سلطان المشائخ حضرت نظام الدین دہلویؒ اور شیخ علاؤالدین علی صابر کلیریؒ کے ذریعہ یہ سلسلہ ہندوستان میں پھیلا ،اور ان کے خلفاء واہل ِسلسلہ کے ذریعہ اب  بھی زندہ وقائم ہے۔(5)
 سلسلۂ چشتیہ نظامیہ:
  سلسلۂ چشتیہ جس کی بیج معین ؒ نے ہندوستان میں بوئی،قطب الدین کا کی اور فرید الدین گنج شکر ؒ نے اسے سینچا،تو نظام الدین اولیاء نے اس کے سائے کو ہندوستان بھر میں پھیلایا ۔
نظام الدین اولیاء 1328ھ کو بدایوں میں پیدا ہوئے ،وہیں ابتدائی تعلیم حاصل کی،پھر دہلی آکر شمش الدین خوارزمی اور مولانا کمال الدین سے اکتساب فیض کیا ،علومِ دینیہ سے فراغت کے بعد روحانی علوم کے تلاش میں فرید الدین گنج شکر سے جاملے ،چار سال کے قیام کے بعد خلافت سے نواز کر شیخ کے حکم سے دہلی روانہ ہوئے ،آپ کے ذریعہ آ پ ہی کی ز ندگی میں سلسلہ چشتیہ کے اثرات پورے ہندوستان میں پھیلے،اور  آپ نے اس قدر متأثر جال بچھایا کہ ارباب ِ اقتدار سے لیکررعیت تک کو اپنے عقیدت میں لے لیا،اللہ نے آپ کو بڑے جلیل القدر خلفاء عطاء کیے ،جن میں سے ہر ایک اپنی جگہ شیخِ کامل تھا،جو اس مشن کو لیکر بنگال،دکن ، گجرات ، مالوہ ،جونپور،جہاں چھوٹی چھوٹی سلطنتیں قائم تھی وہاں پہنچ کر اصلاحِ باطن کا کام انجام دیا۔
حضرت نظام الدین اولیاء نے اکابرین سے ملی امانت کوانتقال سے قبل شیخ نصیر الدین چراغ دہلوی کے سپرد کرکے سلسلۂ چشتیہ کے مرکزی نظام کے لیے اپنا جانشین مقرر کیا،چراغ دہلوی نے  نا مساعد حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے پیر کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کیا، ابتداء سے اب تک  یعنی التمش سے محمد تغلق تک 110؍ عرصہ میں ،سلسلہ ٔ چشتیہ کے فروغ میں  دہلی کو مرکزیت  حاصل تھی،چراغ دہلوی اس مرکز کے آخری چراغ تھے،جب مسلم حکمراں رفتہ رفتہ مائل بزوال تھے ،دہلی کی سیاسی مرکزیت بھی دم توڑ رہی تھی ،ایسی صورتِ حال میں سلسلۂ چشتیہ کا مر کزی نظام بھی مختلف مراکزمیں تقسیم ہوکر  بنگال،دکن ، گجرات ، مالوہ ،اور اودھ منتقل ہو گیا،نصیر الدین چراغ دہلوی کے خلیفہ شیخ سراج الدین المعروف اخی سراج نے بنگال میں اس سلسلہ کی بنیاد رکھی ،آپ کا مولدِ وطن بنگا ل ہی تھا ،چراغ دہلوی کی عقیدت میں دہلی میں قیام کیا تھا،چراغ دہلوی کے انتقال کے بعد لکھنو ء میں قیام فرماکر بنگال میں رشدو ہدایت کا کام کرنے لگے ،جہاں آپ کے عقیدت مندوں کا سیلاب تھا، یہاں تک کہ ارباب ِ اقتدار اور ارکانِ حکومت بھی آپ سے منسلک ہو گئے،آپ سے استفادہ کے لیے بہار واودھ اور جونپور سے بھی عوام آ نے لگے،آپ ہی کے خلیفہ اشرف جہانگیر سمنانی اودھ کے ایک چھو ٹے گاؤں ’’کھچوچھ‘‘ میں اشاعت کی۔
گجرات
  شیخ بختیار کاکیؒ کے زمانہ ہی میں آ پ کے خلفاء کے ذریعہ یہ سلسلہ گجرات پہنچ چکا تھا  لیکن اس کی نشاۃ ِ ثانیہ نظام الدین اولیا ء کے خلفاء سے ہوئی،شیح محمد حسن صاحب آپ نہر والہ کے مقام پر  رشدو ہدایت کا کام کیا ،اور وہیں سپرد خاک ہوئے،دوسرے شیخ حسام الدین جو ابتداء میں دہلی میں تھے لیکن جب تغلقی فرامین سے دہلی تنگ ہوئی،تب آپ بھی نہر والہ میں مستقل  سکونت اختیار کرلی،مذکورہ کے علاوہ باقاعدہ تنظیمی کام علامہ کمال الدین شیح یعقوب وغیرہ نے انجام دیا۔
  دکن
محمد شاہ تغلق نے صوفیاء کو جبرًادکن بھجوایا تھا،تغلقی فرامین سے جو صوفیاء دکن تشریف لائے،ان میں بڑی تعداد صوفیاء ہی کی تھی ،جن کے ذریعہ یہ سلسلہ دکن  میں پھیلا، جن میں اہم نام خواجہ برہان الدین کا ہے ،آپ نے دیو گیر میں ارشاد وتلقین کا کام انجام دیا،آپ سے پہلے شیخ منتخب الدین زر بخش چشتی جو بابا فریدالدین کے مرید تھے  اپنے شیخ کے حکم سے دولت آباد تشریف لائے تھے۔
 شیخ اکرم تحریر فرماتے ہیں :
منتخب الدین زر بخش چشتی بانسی کے رہنے والے تھے حضرت فرید الدینؒ نے ایک غیبی اشارے کے تحت انھیں دیوگیر (دولت آباد) کی طرف اس وقت بھیجا تھا ،جب یہاں ہنود کا غلبہ تھا ابتداء میں ان کی بڑی مخالفت ہوی ،لیکن وہ ہمت واستقلال کے ساتھ اپنے کام میں مشغول رہے،(6)
دکن میں منتخب الدین زر بخش چشتیؒ کے ذریعہ سلسلۂ چشتیہ کی اشاعت ہوئی ،لیکن  مزیدپروان برہان الدین کے ذریعہ ہوا، آپ کے بعد آپ کے خلیفہ شیخ زین الدین نے اس کی اشاعت  کی ،آپ کے دستِ حق پر بہمنی بادشاہ علاء الدین حسن شاہ نے بھی بیعت کی تھی ،۔
 دکن میں سلسلۂ چشتیہ کی ارتقاء میں ایک اور نام خواجہ محمد گیسو درازؒ کا آتاہے، آپ نے گلبرگہ کو رشدوہدایت کا مرکز بنایا تھا ،عقیدت مندوں میں بہمنی سلطان فیروز شاہ بھی شامل تھا ، عوام وخواص کاآپ کے ساتھ پرخلوص رشتہ تھا،آپ نے اپنی تعلیمات کو تصنیف وتالیف کے ذریعہ بھی پھیلا یا ، جس کے مطالعہ سے آج بھی امت فیض یاب ہورہی ہے ،
خلیق احمد نظامی تحریر فرماتے ہیں :
حضرت سید محمد گیسو دراز دکن پہنچے سلطان فیروز شاہ بہمنی نے علماء ومشائخ اور لشکر شاہی کے ساتھ ان کا خیر مقدم کیا ، حـــضرت گیسودراز ؒ نے گلبرگہ میں چشتیہ سلسلہ کی  ایک عظیم الشان خانقاہ قائم کی ، ان کے خلفاء نے اس سلسلہ کی اشاعت میں بڑی سرگرمی سے کا م کیا ،خود گیسو دراز ؒ نے اپنی تصانیف کے ذریعہ تصوف کے خیالات کو عوام وخواص تک پہنچادیا،(7)
مالوہ
  مدہیہ پردیش ایک کا علاقہ ہے جہاں حضرت نظام الدین اولیاء کے تین خلفاء  شیخ وجیہ الدین یوسف  چند ہری میں  اس سلسلہ کی اشاعت کی(1)شیخ کمالالدین  مالوہ میں پیر کے فرمان سے ارشاد و تلقین کی،سلاطین مالوہ بھی آپ سے منسلک تھے عوام سے بڑی عقیدت رکھتے تھے ،(3)مولا نا مغیث الدین نے مالوہ آکر ’’اجین ‘‘ میں اشاعت دین کا کان اجام دیا ۔
خلیق احمد نظامی تحریر فرماتے ہیں :
ان تین بزرگوں نے چودہویں صدی عیسویں میں چشتیہ سلسلہ کو مالوہ میں روشناس  کرایا،بعد کو چشتیہ سلسلہ کے کچھ اور بزرگ مثلا قاضی اسحاق ؒ جو جید عالم تھے ،اور سلطان علاؤالدین محمود (م۱۴۷۵ء)کے پیر تھے ،وہاں جاکر تبلیغ واشاعت کے کام میں مصروف ہوگئے۔(8)
اب ہم سلسلۂ چشتیہ کی دوسری شاخ پر بات کرینگے :
 سلسلۂ  چشتیہ صابریہ:
جوکہ سلسلۂ چشتیہ کی ایک شاخ ہے جس کے رأس ورئیس شیخ علاؤالدین علی احمد صابر کلیری ہے ، جسے شمالی ہند میں فروغ حاصل ہوا۔
 شیخ صابر کلیری کو ملتان میں پیدا ہوئے ، آپ کا شمار بابا فرید الدین ؒ کے اجل خلفاء میں ہو تا ہے ، فریدالدین ؒ سے منسلک ہونے کے بعد 12؍سال تک آپ کی خانقاہ میں مجاہدات میں مصروف رہے،آپ درویشی میں ثابت قدم اور مستجاب  الدعوات  تھے،آپ کے صرف ایک ہی خلیفہ خواجہ شمش الدین ترک پانی پتیؒ کا ذکر ملتا ہے ، انھیں کے ذریعہ سلسلۂ چشتیہ صابریہ کو فروغ حاصل ہوا ،۔
  شمش الدین ترک پانی پتیؒآپ علومِ ظاھری سے فراغت کے بعد تز کیہ کے باطن کے لیے مر شد کے تلاش میں مختلف صوفیاء سے استفادہ کے بعد ہندوستان پہنچے، جہاں آ پ کی ملاقات با بافرید الدین ؒ سے ہوی ،جہاں اصلاح وتربیت کے بعد خلافت سے نوازے گئے ، لیکن مرشد کی ایماء پر کلیر حاضر ہوئے ، کیونکہ چشتیہ صابریہ کی اشاعت آپ کی ذات سے مقدر تھی ، جب آپ کلیر تشریف لائے تو ایک طویل عرصہ تک حضرت کی خدمت میں رہ کر بلبن کی فوج میں بھی شامل ہوئے
اور یہاں بھی ارشاد وتلقین کی، پھر واپسی کے بعد حضرت صابر کلیری نے پانی پت کی طرف روانہ کیا ،اس طرح یہ سلسلہ پانی پت سے کلیر پہنچا۔
شمش الدین ؒ نے ۷۵؍سال تک پانی پت میں چشتیہ صابریہ کی تعلیمات کی شعائیں بکیھری،ٖآپ سے مستفید ہونے عوام آپ کے خدمت آنے لگے ،بالآخر ایک عالم کو منور کرکے یہ شمش الدین ۷۱۸؁ھ کو ہمیشہ کے لیے غروب ہوگیا،یوں تو آپ کی روحانی کرنو سے شمع حاصل کرنے کی تعداد بے حساب ہے لیکن آپ کی ذات سے خرقہ خلافت پاکر عالم کو منور رکھنے والے  شیخ جلال الدین پانی پتی ہیں۔
 خلیق احمد نظامی تحریر فرماتے ہیں :
مرشدِکامل کی تلاش میں ہندوستان آئے یہاں صابر صاحب ؒ کے دامن سے وابستہ ہوگئے، بعض تذکروں میں لکھا ہے کہ کچھ عرصہ تک سلطان بلبن کی فوج میں بھی رہے  ،مرشدنے قیام کی ہدایت فرمائی،۰۰۰شیخ شمش الدین کے بعدجمال  الدین پانی پتی ؒ مسندِ ارشاد پر بیٹھے ۔(9)
جلا ل الدین کے خلفاء کی تعداد بڑی طویل ہے لیکن عبدالحق رودو لی ؒ آپ کے جانشیں اور سلسلے کے وارث ہوئے۔عبدالحق رودو لی ؒجلا ل الدینؒسے ملاقات کے بعد اجازت وخلافت سے سرفراز ہوکر پانی پت سے رخصت ہوئے ، اور مختلف مقامات کی سیر کرتے ہوئے اپنے مولدِ وطن رودولی آ ئے یہاں سلسلۂ چشتیہ کی ایک خانقاہ قائم کی ، جو اس سلسلہ کاسب سے اہم اور پہلا مرکز تھا ،یہ وہ وقت ہے جب دہلی واطراف سلسلہ چشتیہ سے تہی دامن تھا ،آپ کے ذریعہ سلسلسہ ٔ چشتیہ  کو نئی ز ندگی ملی ، آپ نے رودولی میں رشدوہدایت کا اہم کام انجام دیا،آپ کے خلفاء میں آپ کے شہزادے احمد عارف آپ کے بعد محمدبن عارف اس سلسلہ کے میر کارواں ہوئے جن سے شیخ عبدالقدوس ؒ جیسی شخصیت وابستہ ہوئی ،جو اس سلسلہ کے مؤسسِ ثانی ہیں ۔
شیخ عبدالقدوس گنگوہیؒ :
 ہندوستان کے ان صوفیاء میں آپ کا شمار  ہوتا ہے  جن کے شخصی ورو حانی اثرات سے ایک عالم متاثر ہوا ،آپ رود ولی میں ۸۵۲؁ء میں پیدا ہوئے ،تعلیم کے ابتدائی مرحلہ عشق الہی سے سرشار تھے ،پھر محمد بن عارف سے منسلک ہوکر اجازت وخلافت کے بعد ردولی کی خانقاہ میں لگے رہے ،وہاں سے شاہ آباد منتقل ہوئے ،جہاں ارشاد وتلقین کے بعد گنگوہ آئے،جہاں تادم ِ حیات خدمت خلق واصلاح نفوس میں لگے رہے ،یہ وہ زمانہ تھا جب مغلوں کے حملوں کی بناء پر حالا ت ناگفتہ تھے ،آپ ان حالات سے کنارہ کش ہوکر جمنا کے کنارے ’’کتانہ‘‘ میں عارضی قیام کیا ،ابراہیم لودھی کے  لشکر کے ساتھ کچھ وقت گزار کردوبارہ گنگوہ تشریف لائے ،آپ نے لودھیوں سے مغلوں تک ۵؍فرمارواؤں کا دور  دیکھا ہے ،آپ  نے ان حکمرانوں کو خطوط کے ذریعہ اتباع  شریعت وعدل وانصاف کا پابند بنایا ،لودھیوں میں سکندر لودھی  آپ کا بڑامعتقد تھا ،یہی وجہ تھی کہ اس کے عہد میں شعائر اسلام کارواج  عام ہوا،آپ نے نظام اسلامی کے قیام شریعت کے فروغ ،نظام حکومت   کو خلافت راشدہ کے طرز پر ڈھالنے کی ہر ممکن کو شش کی ۔
آپ نے وفات سے کچھ سال پہلے گوشہ نشینی اختیار کرلی تھی ،آپ کے خلفاء میں آپ کے صاحبزدگان  کے علاوہ کئی اور ہیں ،لیکن جلال الدین تھانیسری نے اس نظام کو سنبھا لا ،اس طرح مرکز گنگوہ سے تھانیسر منتقل ہوئی،  جہاں جلال الدین تھانیسری نے اس کی اشاعت کی ،آپ کے بعد  اس سلسلہ کا ایک بڑا نام  ،شیخ محب اللہ الہ آبادی کا ہے ، شیخ محب اللہ الہ آبادیؒ علوم ظاہری سے تکمیل کے بعد شیخ ابو سعید گنگوہی ؒسے سلسلہ ٔ چشتیہ صابریہ میں بیعت فرمائی ، خلافت کے بعد اپنے شیخ کے حکم سے وطن واپس ہوئے ،20؍سال تک خلق خداکی رشدوہدایت میں مصروف رہے، شاہ وگدا آپ کی مجلس میں برابر شریک رہے ،شاہ جہاں آپ سے بیحد عقیدت رکھتا تھا ،نیز دارا شکوہ بھی خط وکتابت کے ذریعہ آپ سے منسلک تھا ،آپ کے بعد متعدد شخصیات سلسلۂ چشتیہ صابریہ میں سرگرم رہے ۔
ماضی قریب میں سلسلسہ ٔچشتیہ :
 اٹھارویں صدی جوانتہائی پر آشوب اور انحطاط پذیر تھی ،مغلیہ حکومت خانہ جنگی اور عیش پرستوں کا گہوارہ بن چکی تھی،عوام راہِ راست سے بھٹک کر توہمات کی گرفت میں آچکے تھے،اس ناگفتہ بہ صورت حال میں علماء وصوفیاء نے وہ خدمات انجام دی ،جسے پڑھ کر ہندوستان  میں سلسلۂ چشتیہ کا ابتدائی دور یاد آتا ہے ۔اس وقت امروہہ سلسلہ چشتیہ صابریہ کی مرکزی حیثیت سے دینی ،روحانی ، سیاسی ، خدمات انجام دیریا تھا ،جس کے سرگردئہ شخصیات میں شاہ ولی اللہ ؒ ہیں ،جن کی دینی وسیا سی اور سماجی  خدمات نے ہندوستان کو نئی زندگی عطا کی ، شاہ عبد الرحیم ولایتی جو اصلاافغانستان کے تھے، لیکن ہندوستان پہنچ کر ابتدامیں سلسلہ ٔ قادریہ سے منسلک رہے ،پھر سلسلۂ چشتیہ  صابریہ کے بزرگ عبدالباری ؒ امرو ہوی کے حلقہ ٔ ارشاد میں شامل ہوگئے ،آپ عوا م وخواص میں  اس قدر مقبول تھے کہ سہارنپور ،انبالہ اور مظفر نگر کے عوام کو پنی اعقیدت میں لے لیا تھا،آپ ہی کے ایک خلیفہ میاں جی نور محمد جھنجھاوی جن کے حلقۂ ارادت سے حاجی امداد اللہ مہاجر مکی ؒ منسلک تھے ۔
خلیق احمدنظامی تحریر فرماتے ہیں :
اٹھار ویں صدی میں جب کہ مسلمانان ِ ہند کا سیاسی نظام نہایت تیزی کے ساتھ زوال پزیر ہورہا تھا، اور ہر طرف اخلاقی ابتری اور زبوں حالی پھیلی ہوئی تھی ،چشتییہ سلسلہ کا دور جدید  واحیاء شروع ہوا۔ اصلاح وتر بیت کا ایسا نظا م قائم کیا کہ دور اول کا نقشہ سامنے پھرگیا۔
حاجی امدد اللہ مہاجر مکی ؒ قصبہ نانو تہ میں پیدا ہوے ،ابتدائی تعلیم کے بعد علومِ باطنی کی طرف متوجہ ہوے ،جس کے لیے آپ نے دہلی کا سفر کیا ،جو علماء ومشائخ کامرکز تھا ، مولا نا نصیر الدین کے حلقہ میں شامل ہوکر سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ سے منسلک ہوئے ،حضرت کی وفات کے بعد میاں جی نور محمد جھنجھاوی کے حلقہ ارادت میں شامل ہوئے ،جس کا آپ کو خواب کے ذریعہ اشارہ ملا تھا،کچھ  وقت کے بعد سفرحج پر روا نہ ہوئے،واپسی کے بعد انکساری کے سبب عوام کی بیعت سے انکار کرتے رہے مگر جب سلسلہ شروع ہوا تو مرجعِ خلائق بنے،آپ کی خانقاہ تھانہ بھون میں ہر وقت عوام وخواص کا ہجوم رہتاتھا،جن میں علماء کی تعداد غالب تھی ،آپ کے خلفاء ومریدین کی  تعداد بے حساب ہے ،جن کے ذریعہ ہندوستان کے علاوہ مصر، ترکی،اور شام میں سلسلہ چشتیہ صابریہ کی اشاعت کا کام عمل میں آیا ، انھیں بے نفس پاکباز شخصیتوں میں مولنا اشرف علی تھانوی ؒ،مولنا رشید احمدگنگوہیؒ ،مولنا قاسم نانوتویؒ اور مولناانوار اللہ فاروقیؒہیں ،جن میں سے ہر ایک اپنی جگہ اشاعتِ اسلام کامینارہ نور ہے،
خلیق احمدنظامی تحریر فرماتے ہیں :
میاں جی نور محمد جھنجھانوی متوفی ۱۲۵۹؁ء کے دامن تربیت سے ایک ایسا شخص اٹھا،جس نے صابریہ سلسلہ کو عروج کی انتہا ئی منزل پر پہنچادیا،حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کے فیوض ہندوستان تک ہی محدود نہ تھے ،دیگر ممالک میں بھی اس کے اثرات پہنچے،ابتدائی تعلیم وتربیت کے بعد حجازچلے گئے،اور وہاں سے واپس چلے آئے،تو ارشاد وتلقین کا ہنگامہ برپا کردیا ۔(11)
خلاصہ :
 پوری دنیا میں اولیاء وصوفیاء نے اسلام کی تبلیغ وترویج میں جو  نمایا کردار اداکیا وہ اہل فہم پر روشن ہے،بالخصوص ہندوستان میں ،جہاں سلاطین نے اپنی فتوحات کے پرچم لہرائے ، وہی صوفیاء نے اپنی روحانی توجہات سے لوگوں کے دلوں کو تسخیر کیا ،لیکن جب ان سلاطین کو عروج حاصل ہونے لگا تو جاہ ومنصب سیم و زرکی ہوس میں آپسی رسہ کشی  اور خانہ جنگیوں کا شکار ہوگئے، لیکن صوفیاء نے اس دور میں دین ومذہب کی تبلیغ کے لیے اپنے آپ کو مصروف رکھا،یہی وجہ ہیکہ ہندوستان میں اسلام کو جتنی قوت صوفیاء سے ملی اتنی سلاطین سے نہیں مل سکی،انہیں پاک باز ہستیوں کا ثمرہ ہے کہ آج دنیاء اسلام  میں ہندوستان اسلامی روحانیت کا مرکز تصور کیا جاتا ہے،سلاطین کا اقتدار تو انکی نا اہلی اور چپقلش کے سبب ختم ہوگیا،لیکن صوفیا کی سلطانی اور حکمرانی آج بھی قائم و دائم ہے۔
حواشی
1. نظامی،خلیق احمد :تاریخ مشائخ چشت ص155مشتاق بک کارنر، الکریم مارکٹ اردو بازار، لاہور
2. مولانا عی میاں ندوی ؒ   : تاریخِ دعوت وعزیمت 3؍24 مجلس نشریات اسلام ،ناظم آباد کراچی،
3. ابولحسن علی ندوی ؒ:تزکیہ واحسان یا تصوف وسلوک ،ص۹۹ مجلس تحقیقات ونشریات اسلام لکھنؤ 1979ء
4.  نظامی،خلیق احمد : تاریخ مشائخ چشت ص175  مشتاق بک کارنر الکریم مارکٹ اردو بازار لاہور
5. مولانا عی میاں ندوی ؒ  : تاریخِ دعوت وعزیمت 3؍37 مجلس نشریات اسلام ،ناظم آباد کراچی،
6۔ شیخ محمد اکرم :آبِ کوثر ص342   نقوش پریس لاہور 2006ء
7۔  نظامی،خلیق احمد  :تاریخ مشائخ چشت ص362  مشتاق بک کارنر، الکریم مارکٹ اردو بازار، لاہور
8۔ نظامی،خلیق احمد  :تاریخ مشائخ چشت ص232  مشتاق بک کارنر، الکریم مارکٹ اردو بازار، لاہور
9۔ نظامی،خلیق احمد  :تاریخ مشائخ چشت ص233  مشتاق بک کارنر، الکریم مارکٹ اردو بازار، لاہور
10۔ نظامی،خلیق احمد  :تاریخ مشائخ چشت ص246  مشتاق بک کارنر، الکریم مارکٹ اردو بازار، لاہور
11۔ نظامی،خلیق احمد  :تاریخ مشائخ چشت ص248 مشتاق بک کارنر، الکریم مارکٹ اردو بازار، لاہور

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad