تازہ ترین

Post Top Ad

جمعہ، 26 جون، 2020

جونپورسات ملزمان پر انعام کی رقم پانچ ہزار سے بڑھاکر پچیس ہزار کی گئی


حالات معمول پر ،اب بھی درجنوں مکانوں میں لٹکتے ہوئے تالے پولیس کے خوف کی داستان بیان کررہے ہیں

جونپور ۔(حاجی ضیاء الدین۔یو این اے نیوز 26 جون،2020)سرائے خواجہ تھانہ حلقہ کے مو ضع بھدیٹھی میں بکری چرانے کے معمولی تنازعہ کے بعد ہو ئی ما ر پیٹ آگ زنی کے معاملے میں ایس پی کے ذریعہ ۷ ملزمان کے خلاف 25ہزار رو پئے کے انعام کا اعلان کیا گیا ہے حالانکہ واقعہ کے روز پولیس کے ذریعہ یک طرفہ کا روائی کرتے ہوئے سماج وادی لیڈر جا وید صدیقی ان کے بھائیوں سمیت اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے ۷۵ افراد پر سنگین دفعات میں مقدمہ قائم کیا تھا واقعہ کے دو روز کے بعد وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے ذریعہ گینگ ایسٹر ایکٹ میں کا روا ئی کر نے کی ہدایت پر واقعہ کے روز گرفتار ہو ئے 35 ملزمان سمیت 37/ افراد پر گینگ ایسٹر معاملے میں مقدمہ قائم کر نے کے بعد بقیہ ملزمان کی گرفتاری کے لئے پولیس کی جانب سے5 ہزار رو پئے کا انعام کا اعلان کیا گیا تھا

 اعلان کے بعد چند ملزمان پولیس کی گرفت میں آئے تو وہیں چند ملزمان عدالت میں خود سپردگی کر گئے تھے اب تک مذکورہ معاملے 28/افراد جیل جاچکے ہیں۔واضح رہے کہ مذکورہ تھانہ حلقہ کے مذکورہ گاؤں میں دو ہفتہ قبل بکری چرانے کے معمولی تنازعہ میں بچوں کے درمیان ہوئی ما ر پیٹ کے معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ دیتے ہوئے گاؤں پولیس چھاؤنی میں تبدیل ہو گیا تھا گاؤں میں جو بھی ملا اسے پولیس نے حراست میں لے لیا واقعہ کے دوسرے روز دس جون کو دلتوں کی تحریر پر پولیس نے سماج وادی لیڈر جاوید صدیقی اور دیگر نامعلوم ملزمان سمیت ۷۵ ملزمان پر سنگین دفعات میں مقدمہ قائم کر نے کے بعد وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے مداخلت کر ملزمان کے خلاف گینگ ایسٹر کی دفعات میں کا روا ئی کر نے اور ایس ایچ او کے خلاف محکمہ جاتی کا روا ئی کا حکم دینے پر 37 ملزمان کے خلاگ گینگ ایسٹر کی دفعات میں کا روا ئی کے بعد ایس ایچ او کو لائن حاضر کر دیا گیا تھا واقعہ کے بعد حسب روایت سیاسی پارٹیوں کے لیڈران متاثرین کے آنسو پوچھنے گاؤں پہنچے گاؤں سے نقل مکانی کر چکے افراد کی واپسی کے لئے پولیس کے اعلی افسران نے گاؤں پہنچ کر دونوں فرقہ کے درمیان میٹنگ کی اور لوگوں سے گھر لو ٹنے کی اپیل بھی کی

۔گزشتہ روز نمائندہ انقلاب نے گاؤں کا دورہ کیا تو گاؤں میں ماحول پرامن نظر آیا عام زندگی کے پٹری پر لو ٹنے کا احساس ہو ا گاؤں میں واقع بینک اور بازار کی اکثر دکانیں کھی پا ئی گئیں گاؤں میں معمولی طور پر نقل و حرکت تو دکھائی پڑ رہی تھی لیکن درجنوں گھروں میں لٹک رہے تالے پولیس کے خوف کی داستان ضرور بیان کر رہے تھے گاؤں والوں نے نام نہ شائع کر نے کی شرط پر بتا یا کہ واقعہ کے روز سو سے زائد پولیس کی نفری نے گاؤں میں ڈیرہ ڈال دیا تھا جو بھی جہاں ملا اس کو وہیں سے حراست میں لے لیا گیا بعض مقامات اور مکانات کے متعلق گاؤں والوں نے الزام لگایا کہ پولیس کے ذریعہ توڑے گئے دروہ 

اور بکھرے ہو ئے سامان پولیس کے ظلم و ستم کو عیاں کر رہے ہیں نمائندہ انقلاب کو سماج وادی لیڈر جاوید صدیقی ک
 بیٹھک میں کچھ لوگ بیٹھے ہو ئے ملے جاوید صدیقی کے والد نے بتا یا کہ واقعہ کے روز دس بجے پولیس کے اعلی افسران گھر پہنچتے ہیں اور جاوید کو بلا کر کچھ دیر با ت کر نے کے بعد اپنے ساتھ تھانہ لے جا کر مقدمہ قائم کر جیل بھیج دیا جا تا ہے پو لیس کے خوف کی داستان سے روح کانپ جاتی ہے ۵ ہزار کے انعام کے بعد ایس پی اشوک کمار نے مفرور ۷ ملزمان پر 25 ہزار وپئے کے انعام کا اعلان کیا ہے۔گاؤں میں صورتحال معمول پر تو آگئی ہے لیکن پھر بھی پولیس کے خوف سے اکثر افراد گاؤں نہیں لوٹ رہے ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad