تازہ ترین

Post Top Ad

ہفتہ، 27 جون، 2020

جونپور کی عظیم شخصیت مولانا زین العابدین کی خدمات سے نسل نو کا نابلد ہونا باعث تشویش

  جون پور۔حاجی ضیاء الدین،(یو این اے نیوز 27جون 2020) شرقی دور سے ہی ضلع علم وفن، ادیب اور محدثین کا گہوارہ رہا ہے یہاں کی مٹی نے قاضی، عالم، محدث اور مفکر کے وہ لعل و گوہر دئے ہیں جن پر عالمی برادری بھی نا ز کر تی ہے جن کے کا رنامے اور قربانیاں تاریخ کے اوراق میں آج بھی زندہ ہیں انھیں میں سے ایک نام سید مو لانا زین العابدین جونپوری کا ہے جن کی قربانیاں تعلیم کے میدان میں مقام حاصل تو کر پائی ہیں لیکن عوامی سطح پر نسل نو کا مفکر تعلیم سے نابلد ہونا یقینا باعث تشویش ہے۔ 

علی گڑھ مسلم یو نیورسٹی کے شعبہ دینیات کے پروفیسر ریحان اختر قاسمی نے بتا یا کہ مولانا سید زین العابدین 14 جون1832کو مچھلی شہر کے محلہ قضیانہ میں زمیں دار گھرانے میں مولوی سید محمد حسین کے گھر پیدا ہو ئے تھے ان کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہو ئی تھی اس کے بعد بنارس واقع سنسکرت کالج میں داخلہ لیا اور وہاں سے عربی زبان میں گریجویشن کیا اورا س کے بعد کلکتہ یونیورسٹی چلے گئے اور وہیں سے لا ء کی ڈگری حاصل کر نے کے بعد غازی پو ر میں سب جج کے عہدے پر تعینات ہو ئے اور وہیں سے ریٹائرڈ ہو ئے بتاتے ہیں کہ بانی علی گڑھ سرسید احمد خان کے رشتہ دار ہونے کی وجہ سے سر سید احمد خان کے مشن سے کافی متاثر بھی تھے کہ اسی دوران غازی پو ر میں ان کی سر سید خاں سے ملاقات ہوگئی اس وقت سر سید خان نے سائنٹیفک سو سائٹی قائم کی تھی اور مولوی زین العابدین اس سوسائٹی سے جڑ گئے اور سر سید احمد خان کے مشن اور تحریک کا گرم جو شی سے ساتھ دیا اسی دوران سر سید علی گڑھ چلے گئے
فائل فوٹو مولانا زین العابدین جونپوری، مچھلی شہر میں کھنڈہر میں تبدیل حویلی اور عمارت، ،

تو سر سید احمد نے مو لوی زین العابدین سے علی گڑھ چلے آنے کی درخواست کی اورا ن کی درخواست قبول کر وہ علی گڑھ چلے گئے ان کے متعلق کہا جا تا ہے کہ سر سید کے مشن سے متاثر ہو کر 1880 میں انھوں نے اپنی بہن اسماء جو بیوہ ہو گئی تھیں ان کا حصہ دینے کے بعد مو روثی زمین کو فروخت کرایک حصہ یونیورسٹی کو چندے میں دے دیا اور یونیورسٹی کیمپس میں ایک بنگلہ خرید ا تھا جس کا نام تار والا بنگلہ ہے بنگلہ کے متعلق کہا جا تا ہے کہ اس کی دیواریں تار سے گھری ہو ئی تھیں بعد میں اس بنگلہ کو یونیورسٹی کے حوالے کر دیا جس میں موجودہ ووقت میں یو نیورسٹی انتظامیہ کی بہت سی آفس اور افسران کی رہائش بھی ہے۔اس کے علاوہ علی گڑھ کی جامع مسجد،اور منٹو کی قبرستان جس میں یو نیورسٹی کے تمام عملہ کی تدفین عمل میں آتی ہے انھوں نے زمین خرید کر عطیہ کیا تھا اس کے علاوہ اپنے خاندان والوں کے لئے قبرستان کا ایک قطعہ مخصوص کر دیا تھا 

سر سید احمد اکثر یونیورسٹی کے تئیں مولانا زین العابدین کی خدمات کا زکر کیا کر تے تھے سر سید احمد کی مولانا زین العابدین کے تئیں محبت کا اندزاہ اس بات سے ہو تا تھا کہ اکثر وسیعت کیا کر تے تھے کہ میری قبر کے بغل میں ہی زین العابدین دفن ہو ں گے سر سید کے انتقال پر مولانا زین العابدین نے مزار سر سید کی تعمیر کروا ئی تو یو نیورسٹی انتظامیہ نے مولانا زین العابدین کے انتقال کے بعد انھیں سر سید کے بغل میں دفن کر وایا اس کے علاوہ یو نیورسٹی میں مولوی زین العابدین روڈ وغیرہ کی تعمیر ہو ئی ہے۔ افسوس کی اتنے بڑے مفکر کے نام اور کا رناموں سے علمی حلقہ روشنا ش تو ہو رہا ہے لیکن عوامی طور پر بہت بڑا طبقہ ان کی قر بانیوں سے نابلد ہے اگر ہم اپنے اجداد کی قر بانیوں کو فراموش کر گئے تو یقینا ایک دن ہماری نسلیں ہمیں بھی بھول جا ئیں گے اور ہم تاریخ کے اوراق میں کہیں گم ہو جا ئیں گے۔ نمائندہ انقلاب نے موقع کا جائزہ لیا تو کھنڈہر میں تبدیل ہو رہی حویلی اور عمارتیں گواہی دے رہی ہیں ا ن کی تعمیر صدیوں قبل ہو ئی ہو گی جن میں مو جود ہ وقت میں سیکڑوں گھرانے آباد ہیں لیکن مولوی زین العابدین کو ن تھے اوران کے اہل خانہ کہاں ہیں یہ بتانے سے اکثر لو گ قاصر رہے ان شخصیات کو یا د رکھنے کے لئے اہل خانہ سمیت مادر وطن کے لوگوں کو آگے آنا ہو گا۔ نمائندہ انقلاب نے اس ضمن میں ان کی پوتی ڈاکٹر طیبہ عابدین سے فون پر رابطہ کیا 

تو انھوں نے بتا یا کہ مولوی زین العابدین کے ۴ بیٹے او ر ۵ بیٹیاں پیدا ہو ئیں ان کے اہل خانہ موجودہ وقت میں پاکستان، امریکہ، کناڈا کے علاوہ ہندستان کے مختلف شہروں میں آباد ہیں۔ بہت جلد مولوی زین العابدین کی سوانح حیات پر کتاب شائع کر وائی جا ئے گی انھوں گفتگو کے دوران کہا کہ سر سید احمد خان نے کے ساتھ کے ساتھ کے بہت سارے واقعات کے شواہد ہمارے پا س موجود ہیں اس کے علاوہ بہت سارے خطوط بھی ہیں جو سر سید احمد خان سے ربط و ضبط کی مضبوط گواہی بھی دیتے ہیں اور ہمارے پاس کچھ ایسے پرانے دستاویز بھی ہیں جو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں عطیہ کی ہو ئی اراضی کے شاہد بھی ہیں ان تمام دستاویزات کو کتاب کی شکل میں لائیں گے تاکہ اہل شیرا ز ہند علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں اپنے آبا و اجداد کی نمائندگی کو دے سکے اور اپنے روشن مستقبل کے لئے ان کے نقوش کو مشعل راہ سمجھیں۔  
      

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad