تازہ ترین

Post Top Ad

جمعرات، 18 جون، 2020

خوف کے آگے جہاں اور بھی ہے

از: شعیب حسینی ندوی
قوموں کی تاریخ بتاتی ہے کہ خوف و دہشت شکست و ریخت کی پہلی سیڑھی ہے اور ہمت و پامردی کامیابی و سرتابی کی شاہ کلید ہے۔ہندوستان کے دگرگوں حالات اور فاشسٹ طاقت کا بڑھتا اثر و رسوخ مسلمان اقلیت میں ڈر اور ہراس، پزمردگی اور احساس کہتری کو فروغ دے رہا ہے، ایک طرف مسلم کشی کے دلدوز واقعات ہیں اور دوسری طرف اسلام دشمنی کا گھٹیا پروپیگنڈا ہے۔ایسے میں مسلمانوں میں مختلف نظریات اور زاویے نگاہ پیدا ہوئے، ایک طبقہ ہے جو دشمن کی سازش اور بر سر اقتدار پارٹی کی معاندانہ پالیسیوں پر ہی بحث کرتا رہتا ہے اور اس کی سوئی وہیں اٹکی رہتی ہے، دوسرا طبقہ ہے جو مسلمانوں کی تاریخی غلطیوں کو ہی مورد الزام ٹھہراتا ہے، تیسرا گروہ وہ ہے جو ساری مشکلات اور تمام حالات کا ٹھیکرا مسلم قیادت پر پھوڑتا ہے، چوتھا گروہ ہے جو ان حالات کو جماعتِ علماء کے سر مڑھتا رہتا ہے۔

ایک مختصر جماعت ہے جو مبصرانہ اور تجزیہ نگارانہ نظر سے مسائل کو پڑھتی ہے اور غیر جانبدار ہو کر اسباب و عوامل پر بحث کرتی ہے۔ پھر اس میں بھی معدودے چند ہیں جو لائحۂ عمل پیش کرتے ہیں اور مستقبل کا حقیقت پسندانہ اور نتیجہ خیز پہلو سامنے رکھتے ہوئے میدان عمل اور طریقۂ کار کا واضح خاکہ پیش کرتے ہیں، اور پھر ان میں بھی شاید ہی گنتی کے دو چار ملیں جو عملا نمونہ پیش کریں اور اس فکری و نظریاتی رہنمائی کی عملی و تطبیقی قیادت کا فریضہ انجام دیں۔یہ تو ہوئی بات ملی جائزہ اور مسلمانوں کی حالات کے تئیں فکر مندی کی، لیکن جو بات سب سے سنگین رخ اختیار کر رہی ہے وہ خوف کے ساتھ جینے اور دفاعی پوزیشن میں رہ کر مسائل پر چرچا کرنے کی ہے،

 جب امت اس فکری زبوں حالی کا شکار ہوتی ہے تو وہ اٹھنے اور بڑھنے کی طاقت کھو دیتی ہے، کیونکہ حکمت عملی کے ساتھ اقدامی نقطۂ نظر سے آگے بڑھنا نا گزیر ہے۔ تاتارکیوں کی ممالک اسلامیہ میں حوصلہ شکن پیش قدمی، خلافت اسلامیہ کی بیخ کنی اور تہذیب و ثقافت کے مرکز بغداد کی تاراجی نیز اس جنگلی قوم سے مقابلہ کی پوری سلطنت اسلامیہ میں کسی میں تاب نہ رکھنے کی تشویشناک صورتحال نے پوری مسلم قوم کو نا امیدی کے عمیق گڑھوں میں اس حد تک دھکیل دیا تھا کہ کسی تاتاری سے نبرد آزمائی تو دور کی بات اس کے اشارۂ ابرو پر گردن پیش کردینے کا ذلت آمیز منظر نامہ سامنے تھا، لیکن اسی بیچ مصر و شام کے عظیم لیڈر سلطان المظفر سیف الدین قطز نے عین جالوت میں منگولوں کے اس نا قابل تسخیر لشکر کو فیصلہ کن شکست سے دوچار کیا

 یہ اسی لیے ممکن ہوا کہ ہمت و پامردی کا سبق منبر و محراب اور ایوان حکومت سے یکساں پڑھایا گیا، خوف کی جگہ ہمت، مایوسی کی جگہ امید اور نامردی کی جگہ پامردی قوم میں پیدا کی گئی، راہِ عزیمت اور شوقِ شہادت کا نا قابل شکست جذبہ قوم میں کوٹ کوٹ کر بھرا گیا، یہاں تک کہ پہاڑوں کو زیر کر دینے والا طوفان بلاخیز برپا ہوا اور تاریخ رقم کر گیا۔
آج ضرورت ہے مسلمانانِ ہند کو راہِ عزیمت کی اور بے خوفی کا ماحول بنانے کی، لیکن یہ کام بغیر حکمتِ عملی اور بردبار فکرمندی کے کارگر نہیں ہو سکتا، مزید یہ کہ اتحاد امت اور مضبوط قیادت بھی نا گزیر ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad