تازہ ترین

Post Top Ad

بدھ، 17 جون، 2020

ملک کی سا لمیت پر کسی بھی طاقت کی طرف سے آنچ نہیں آنے دیا جائے ۔ایس ڈی پی آئی

نئی دہلی(یواین اے نیوز17جون2020)سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا ( ایس ڈی پی آئی ) کے قومی صدر ایم کے فیضی نے وادی گلوان میں پیر کے روز دخل اندازی کرنے والی چینی فوج سے پرتشدد جھڑپ میں 20بھارتی فوجی اہلکاروں کی ہلاکت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ انہوں نے سوگوار خاندانوں سے دلی رنج و غم کا اظہار بھی کیا۔ ایم کے فیضی نے اس بات کی طرف خصوصی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ1975میں آسام رائفلس کے چار فوجی ایک حملہ میں ہلاک ہوئے تھے ، اس کے بعد سرحد پر اکا دکا تصاموں کے علاوہ گزشتہ پینتالیس برسوں میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا تھا، ایسے میں بیس بہادر فوجیوں کی جانوں کا نقصان ملک کیلئے ایک بڑا صدمہ ہے ۔ پرتشدد جھڑپ کی اطلاع ہندوستانی آر می چیف جنرل ایم ایم ناراون کے بیان کے کئی دنوں بعد سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ لداخ کے گلوان وادی خطے سے دونوں افواج کی پسپائی کا عمل شروع کردیا ہے۔ یہ بہت حیران کن ہے کہ پسپائی کے عمل کے دوران ہندوستانی فوجیوں نے اپنی جان کیسے گنوائی؟۔ دونوں ممالک کے مابین تناؤ اپریل کے آخر میں شروع ہوا تھا ، مذاکرات کے کئی راؤنڈ بھی اس تناؤ کو ختم کرنے میں ناکام رہے ۔ چین کی در اندازی کا آغاز گزشتہ ڈیڑھ مہینے قبل سے ہی شروع ہوگیا تھا ، حکومت نے ملک کو کھبی بھی یہ نہیں بتایا کہ سر حد پر کیا ہورہا ہے۔

 ہندوستانی میڈیا نے اس طرف سے آنکھ بند کرلیا تھا ، جبکہ قابل اعتماد بین الاقوامی میڈیا ہندوستانی علاقے میں چینی مداخلت کی رپورٹ دے رہا تھا۔ چینی فوج اپنے توپ خانے اور فوجی طاقت کو مضبوط کرتے ہوئے تقریبا 60مربع کلو میٹر ہندوستانی سر زمین کے اند ر آگئی تھی۔وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے کچھ کمزور بیانات جیسے کہ 'ہندوستان اب ایک کمزور ملک نہیں ہے ـ'اور مرکزی وزیر برائے روڈ ٹرانسپورٹ اور ہائی وے نتن گڈکری کا بیان کہ 'ہمیں پاکستان اور چین کی سر زمین نہیں چاہئے ، ہم صرف امن ، اتحاد ، محبت اور ایک ساتھ ملکر کام کرنا چاہتے ہیں کے علاوہ اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے مودی حکومت کے پاس نہ کوئی پختہ موقف تھا اور نہ ہی سفارتی طور پر اس مسئلے کو حل کرنے کی کوششیں کی گئیں تھیں۔ چین کا مقابلہ کرنے اور لوگوں کو سچ بتانے سے حکومت خوفزدہ دکھائی دیتی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی جنہو ں نے اپنی دوسری میعاد کی پہلی سالگرہ کے موقع پر لیٹر ٹو دی نیشن میں سرجیکل اسٹرائک اور ہوائی حملے کی ڈینگیں ماری تھیں ، وہ صورتحال کو صحہیح طریقے سے سنبھالنے اور تنازعے کو ختم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکے ہیں۔ اس نااہلی کی وجہ سے ہمارے فوجیوں کی قیمتی جانیں گئی ہیں۔

 اس حکومت کی غلط خارجہ پالیسی کی وجہ سے نیپال سمیت ہمارے تقریبا تمام پڑوسی ممالک اب ہمارے ملک کی تئیں ٹھنڈے ہوگئے ہیں۔ نیپا ل نے ہندوستانی علاقے کے اندر کے تقریبا400مربع کلو میٹر اراضی کوشامل کرنے کیلئے اپنے آئین میں ترمیم کی ہے۔ ایس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی نے چین اور نیپال کی سرحدوں پر ہونے والی پیشرفت کے بارے میں گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مرکزی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی بھی طاقت ہندوستان کی سا لمیت پر ہاتھ اٹھانے نہ پائے ۔ انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ وز یر اعظم نریندر مودی اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ سر حد پر پیش آنے والے واقعات کے بارے میں ملک کو سچ بتائیں اور سوال کیا ہے کہ ہندوستانی آرمی چیف کے اطلاع کے مطابق جب پسپائی عمل جاری تھا تو بھارتی فوجی کیسے ہلاک ہوگئے۔ 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad