تازہ ترین

Post Top Ad

اتوار، 28 جون، 2020

جماعت اسلامی ہند جالنہ نے شروع کیا روٹی بنک

 دوران لاکڈاون جماعت اسلامی ہند جالنہ کی غیر معمولی خدمات 
 جالنہ (یواین اے نیوز 28جون2020)(نامہ نگار محمد حافظ شیخ احمد)اسلام بھوکوں کو کھا نا کھلانے پر بہت زور دیتا ہے۔اس کو مالداروں پر حق بتا یا ہے۔ بھوکوں کو کھانا کھلانے سےاللہ کی رضا اور آخرت کی فلا ح کے لیے ضروری ہے کہ بھوکوں کا خیال رکھا جائے۔’’اللہ کی محبت میں اپنا دل پسندمال رشتے داروں اور یتیموں مسکینوں اور مسافروں پر مدد کے لیے ہاتھ پھیلانے والوں پر غلاموں کی رہائی پر خرچ کرے‘‘ (البقرہ)۔ اسی طرح سورہ روم کی آیت ۳۸ میں ارشاد ہے ’’رشتہ دار کو اس کا حق دے اور مسکین ومسافر کو (اس کا حق) یہ طریقہ بہتر ہے ان لو گوں کے لیے جو اللہ کی خوشنودی چاہتے ہوں اور وہی فلاح پانے والے ہیں‘‘۔

 اسلام کے نزدیک سب سے اچھا عمل بھوکوں کو کھا نا کھلانا ہے۔ ایک شخص نے رسول ﷺ سے سوال کیا کہ سب سے افضل اسلام کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا تطعم الطعام و تقرء السلام علی من عرفت و من لم تعرف (بخاری، مسلم) کھانا کھلانا ہر شخص کو سلام کرنا خواہ تم اسے پہچانتے ہو یا نہ پہچانتے ہواسلام کی نظر میں بھوکے انسان کو کھانا کھلانا سب سے بہترین صدقہ ہے۔نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’بہترین صدقہ یہ ہے کہ تو کسی بھوکے کوپیٹ بھر کھانا کھلائے‘‘۔لیس المومن من یشبع و جارہ جائع الی جنبہ (بخاری، مسلم) وہ شخص ایمان نہیں رکھتا جو خود تو پیٹ بھر کرکھا لے اور اس کا ہمسایہ اس کے پہلو میں بھو کا رہ جائے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: تم مریض کی عیادت کرو،بھو کے کو کھانا کھلاؤ اور قیدی کی رہائی کا انتظام کرو۔(بخاری)۔

بھوکے کو کھانا کھلانے سے دل نرم ہوتا ہے۔ ایک شخص نے اللہ کے رسول ﷺ سے شکایت کی اے اللہ کےرسولﷺمیرا دل سخت ہے حضورﷺنے فرمایا: اگر تم چاہتے ہو کہ تمہارا دل نرم ہو جائے تو مسکین کو کھانا کھلاؤ اور یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرو(مسند احمد)۔مسکین کی ضرورت پوری کرنے والا مجاہد کی طرح ہے:۔ جو شخص مسکینوں کی مدد کرنے لیے دوڑ دھوپ کرتا ہے اس کا اسلام میں بڑا مقام ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: بیوہ اور مسکین کی مدد کے لیے دوڑ دھوپ کرنے والا ایسا ہے جیسے جہاد فی سبیل اللہ میں دوڑ دھوپ کرنے والا (حضرت ابوہر یرہ ؓ روای حدیث کہتے ہیں) مجھے یہ بھی خیال ہوتا ہے کہ حضور نے یہ بھی فرمایا تھا کہ وہ ایسا ہے جیسے وہ شخص جو نماز میں کھڑا رہے اور آرام نہ لے اور وہ پے درپے روزے رکھے اور کبھی روزہ نہ چھوڑے۔ (بخاری و مسلم) –ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کرنا اسلام میں نیکی اور پسندیدہ عمل ہے لیکن بھوکوں کو کھا نا کھلانا بہت ہی اونچا عمل ہے۔

 اس لیے کہ دوسری ضرورت کے باوجود انسان زندہ رہ سکتا ہے لیکن بھوک کے بعد تو موت ہی ہے۔ بھوکوں کو کھانا کھلانا جنت میں لے جانے والا عمل ہے۔ قرآن مجید میں اہل ایمان اور جنتیوں کی علامت بتائی گئی ہے کہ وہ اللہ کی محبت میں غریبوں کو کھانا کھلاتے ہیں۔ وَیُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَی حُبِّہِ مِسْکِیْناً وَیَتِیْماً وَأَسِیْراً إِنَّمَا نُطْعِمُکُمْ لِوَجْہِ اللَّہِ لَا نُرِیْدُ مِنکُمْ جَزَاء وَلَا شُکُوراً(الدھر:۸،۹) اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں (اور ان سے کہتے ہیں) ہم تمہیں صرف اللہ کی خاطر کھلا رہے ہیں ہم تم سے نہ کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ غلاموں کو غلامی سے آزاد کرانا، مسکین و یتیم کو کھانا کھلانا بہت بڑی نیکی ہے خاص کر جب کہ قحط کی وجہ سے فا قہ کشی کی نوبت آ گئی ہو لوگ بھوک سے موت کے قریب آ لگے ہوں ایسے فاقے کے دنوں میں کسی فاقہ کش کو کھانا کھلانا اور بڑی نیکی ہو جاتی ہے اور اس کی اہمیت اور کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ یہ نیکی کرنا بڑی دشوار گزار بات ہے کیونکہ مال سے انسان کو محبت ہوتی ہے بظاہر معلوم ہوتا کہ دولت خرچ ہو رہی ہے انسان دل کی اس گراں باری کو برداشت کرتے ہوئے بھوکوں کو کھانا کھلا تا ہے تو بڑے ہی حوصلہ مندی کا کام کرتا ہے۔ اس حوصلہ مندی کی راہ کو اختیار کر کے ہی انسان ایمان والوں میں شامل ہو سکتا ہے اور جنت تک پہنچ سکتا ہے۔ 

آج کل جب کہ پور ے ملک میں لاک ڈاون کر دیا گیا ہے اس موقع پر جو لوگ روزآنہ مزدوری کرکے زندگی بسر کرتے تھے ان کے زندگی ایک سخت مرحلے سے گزار رہی ہے۔ ان میں بھی دو طرح کے لوگ ہیں ایک وہ ہیں جو لوگوں کے سامنے اپنے ضرورت رکھ دیتے ہیں دوسرے وہ جو اپنے گھروں میں مقید ہیں کھانے پینے کی بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہیں۔ایسے میں ان تک کھانا پہنچانا بہت ضروری ہو جاتا ہے۔ قرآن میں ایسے ہی لو گوں کو مسکین کہا گیا ہے ایسے سخت حالات میں لوگوں کے کام آنے کو قرآن یوم ذی مسغبہ کہتا ہے بھوک کے زمانے میں ضرورت مندوں تک کھانا پہونچانا ایک مشکل کام اور مشکل مرحلہ ہے لیکن اس مشکل مرحلے کو پار کر کے ہی جنت کی امید لگائی جا سکتی ہے۔

اسلام میں بھوکوں اور مجبوروں کا خیال نہ رکھنا بہت بڑا جرم ہے اس کے سلسلہ میں بڑی وعیدیں ہیں۔الحمدللہ جماعت اسلامی ہند جالنہ نے لاک ڈاون لگتے ہی خدمت خلق کے کے کاموں میں تیزی پیدا کردی تھی دوران لاکڈاون 2700 خاندانوں کو راشن اور اناج تقسیم کیا گیا عیدالفطر کے موقع پر 400ضرورت مند خاندانوں کو شیر خرما کٹ اور 50000 ہزار روپیے نقد  دیے گۓ کوروناوائرس کی وجہ سے جو موتیں ہورہی ہے جماعت جالنہ سماجی خدمتگار کو ساتھ لیکر تکفین و تدفین کی ذمہ داری بحسن وخوبی انجام دے رہی ہے جالنہ میں جو مسافر مزدور پھنسے ہوۓ تھے انکو اپنے گھروں تک پہنچانے کا کام بھی جماعت نے انجام دیا اب چونکہ کوروناوائرس سے متاثرین کی تعداد میں مسلسل  اضافہ ہورہا ہے بڑی تعداد میں مریضوں کے ساتھ انکے رشتہ دار ہاسپٹل کا رخ کررہے ہیں

 اور انکے کھانے کے شدید مسائل ہیں انکی ضرورتوں کو سانے رکھت ہوۓ جماعت اسلامی ہند جالنہ نے گزشتہ 10 دنوں سے روٹی بنک کا آغاز کرکے جالنہ اسپتال اور روڈوں پر بیٹھے ہوۓ ضرورت مندوں اور فقرا کے لیے  شام کے کھانے کا بندوبست کیا ہے اور پابندی کے ساتھ 200 افراد تک کھانا پہنچایا جارہا ہے انشائاللہ یہ کام ضرورتیں پوری ہونے تک  جاری رہے گا اس موقع پر سید شاکر امیر مقامی جالنہ نے ان تمام خواتین کا شکریہ ادا کیا ہے جو پابندی کے ساتھ دفتر جماعت پر روٹیاں پہنچانے کا کام انجام دے رہی ہے ساتھ انہوں نے اپیل کی ہے کہ 200 افراد کی سبزی بنانے میں جو رقم خرچ ہورہی ہے اس میں آپ حضرات تعاون کریں روٹی بنک میں اپنا قیمتی وقت دینے والے افراد  شیخ ابراہیم, عبدالحمید, منور خان,اعجاز باغبان, عبدالطیف صدیقی. مشتاق سر عبدالقیوم, سید حارث.مرزا شاہد،شیخ اسمعیل،سید فرقان اور عبدالمجیب کا امیر مقامی نے شکریہ ادا کیا ہے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad