تازہ ترین

Post Top Ad

منگل، 23 جون، 2020

سماج وادی پارٹی اپنے وفاداروں کو بلند عہدوں پر فائز کیوں نہیں کرتی،،،؟

حافظ محمد ذاکر کی قلم سے ایک تجزیاتی رپورٹ 
مین پوری(یواین اے نیوز23جون2020)ضلع سماج وادی پارٹی مین پوری نے ضلع میں مختلف عہدوں میں تبدیلیاں کی ہیں ،کسی کو وہی عہدہ ملا جس پر وہ فائز تھا ،تو کسی کو ضلع صدر سماجوادی پارٹی دیپ سنگھ پال نے معزول کر دیا ۔حالانکہ یہ سیاسی پارٹیاں چھوٹے عہدوں کے لئے چہرہ یاقرابت داری نہیں دیکھ تیں، بلکہ وہ ان چھوٹے عہدوں پر فائز شخص کی زمینی محنت دیکھتی ہیں ۔ وہ دیکھتی ہیں چھوٹے عہدوں پر فائز شخص پارٹی کے لئے کتنی محنت کر رہا ہے ،عوام تک پارٹی کی پالیسیاں کس حد تک پہنچا رہا ہے ،وغیرہ وغیرہ ۔لیکن موجودہ دور میں جائزہ لیا جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ ہر اعلیٰ عہدے پر فائز شخص یہی خیال کرتا ہے کہ میرے ماتحت کام کر نے والا شخص ہم خیال ہونا چاہئے ۔ '' یس مین '' ہونا چاہئے ۔مگر یہ بات ہر ایک شخص میں نہیں ہو تی ،ہاں کچھ بڑے عہدوں پر فائز لوگ اسی ذہنیت کے حامل ہو تے ہیں ۔ضلع صدر دیپ سنگھ پال جو سماج وادی پارٹی کے اقتدار میں وزیر بھی رہ چکے ہیں ،اب سماج وادی پارٹی کے موجودہ ضلع صدر ہیں۔ انہو نے قصبہ بھوگاؤں کے علاوہ مختلف قصبوں میں صدوروں کی تبدیلیاں کی ہیں ،قصبہ بھوگاؤں کے صدر کی تبدیلی سے ایک ہنگامہ سا برپا قایم ہو گیا ہے ،خاموش جنگ میں لفظوں کی پتھر بازی ہو رہی ہے۔ نوجوانوں میں ہلچل سی پیدا ہو گئی ،امیدوں کے بر عکس فیصلے سے نوجوان ہکا بکا رہ گئے۔

سپنے تاراج ہو گئے ،امیدوں کی لڑیاں ٹوٹ کر بکھر گئیں ،وہ نوجوان جنہو نے پارٹی کے تئیں بڑے بڑے خواب سجائے تھے،کچھ نئی نئی امیدوں کے چراغ روشن کئے تھے ،جاگتے سوتے میں اکھلیش یادو کی تاج پوشی کے لئے مسلسل جدو جہد کر نے والے ،فلک شگاف پارٹی کے نعروں سے زمین کو دھلا دینے والے نوجوانوں کے حوصلہ کو کہیں نہ کہیں شکست ضرور ہو ئی ہے ۔حالانکہ موجودہ صدر عبد السلام بھی صاف شبیہ کے مالک ہیں ،٣٠ / سال سے پارٹی کی خد مت صدربنکر کرتے رہے ہیں ،پارٹی کے بڑے لیڈران بھی عبدالسلام سے واقفیت رکھتے ہیں ،عبد السلام پارٹی کے ہمیشہ وفادار سپاہی رہے ہیں ،مگر ضلع کی ٹیم نے ڈھائی سال قبل نہ جا نے کیوں ان کی وفاداری کا لحاظ نہ کرتے ہوئے ان کے عہدے سے بر طرف کر دیا تھا ،اور ان کے مقام پر جو شیلے نوجوان توصیف خان کو مقر ر کر دیا تھا،حالانکہ اس وقت پارٹی کے اس فیصلہ کی چو طرفہ مذمت کی گئی تھی ،کہ پارٹی کے ایک وفادار اور تجربہ کار سپاہی کو کیوں معزول کیا جارہا ہے ۔اس وقت بھی یہی بات کہی گئی تھی کہ عبدالسلام کی پارٹی میں بڑھتی مقبولیت سے کچھ موقعہ پرست نیتا خوفزدہ ہو گئے تھے۔

وہ نہیں چاہتے تھے کہ عبدالسلام سیڑھی بہ سیڑھی ریاستی سطح تک پہنچےں۔ اس لئے ان کو معزول کیا گیا تھا ،آج پھر سماج وادی پارٹی کے ضلع صدر نے توصیف خان کو عہد صدارت سے معزول کر کے گزشتہ تاریخ دہرادی، جبکہ توصیف خان نے پارٹی کے لئے ایک بڑی تعداد میں نوجوانوں کو پارٹی سے وابسطہ کیا ،نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد توصیف خان کے ساتھ ہر محاذ پر شانہ بشانہ ساتھ کھڑی نظر آتی ہے ،حالانکہ دونوں صدوروں(عبدالسلام،و توصیف خان ) میں پارٹی کے تئیں وفاداری تھی،اور آج بھی ہے ،مگر توصیف خان میں تجربہ کم تھا جو صرف محدود لوگوں تک سمٹ کر رہ گئے تھے،یہی توصیف خان کی سب سے بڑی بھول یا نادانی تھی ،حالانکہ توصیف خان نے صدارت کا عہدہ سلب کئے جانے کے بعد سے ابھی تک اپنا کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے ،ان کا یہی کہنا ہے کہ میں پارٹی کے ساتھ تھا اور ساتھ ہوں ، معتبر ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ مجلس اتحاد المسلمین کے کئی حامیان نے توصیف خان کو پارٹی میں آنے اور ایک بڑے عہدے پر فائز کرائے جا نے کی بات کہی ہے ۔مین پوری ضلع میں جس طرح سے عہدوں کو تقسیم کیا گیا ہے ،اس سے ایک بات واضح ہو تی ہے کہ پارٹی کے لوگ پسند تو ایسے ہی لوگوں کو کرتے ہیں جو پارٹی کے تئیں ہمیشہ وفادار رہیں ،مگر ایسے وفادارپارٹی کے سپاہیوں کو آگے بڑھ نے سے روک دئے جا نے کا ہنر بھی رکھتے ہیں ۔جبکہ عبدالسلام پارٹی میں ٣٠/ سال سے زائد وقت سے وابسطہ ہیں ،مگر ان کا مقام ان کا عہدہ آج تک وہی ہے کہ قصبہ کی سیاست تک محدود رہنا۔٣٠ /سال سے زائد وقت سے پارٹی کے ساتھ رہنے والا شخص آج بھی قصبہ کا صدر ہی ہے ۔

ہو سکتا ہے کہ سماجوادی پارٹی کی مسلم نیتاؤں کے لئے یہی پالیسی ہو ؟ اگر اس کو پالیسی کا لفظ نہ کہ کر حقیت تصور کیا جائے تو بھی غلط نہ ہو گا ، کیونکہ مین پوری کی ایک ایسی عظیم شخصیت جس نے ہمیشہ دماغ سے نہیں دل کی گہرائیوں سے پارٹی کو اپنے سماج میں سرخ رو کیا ہو ،ہر ایک محاذپر پارٹی کا ساتھ دیا ہو ، صرف اتنا ہی نہیں ملایم سنگھ یادو ،اور اکھلیش یادوکی موجود گی میں سیاسی منچوں پر نظامت کے فرائض انجام دئے ہوں ،ملایم سنگھ یادو سے بالمشافہ سیکڑوں بار ملاقات ہو ئی ہو،اکھلیش یادو کے جو شانہ بشانہ چلا ہو ،آج اس شخص کی اہمیت ایک نائب صدر کی ہے ،جب ایسا شخص سماجوادی پارٹی کا ضلع صدر نہ بن سکا،تو بھلا مسلم سماج سے کوئی شخص ایم ،پی ،ایم، ایل، اے، کیا بنے گا ؟ ضلع مین پوری میں کئی ایسے مسلم چہرے ہیں جو اپنے اپنے شہر کے صدر کے عہدے پر ہی سمٹ کر رہ گئے ،آگے ترقی کے امکانات بڑے نیتاؤں نے پیدا ہی نہیں ہو نے دئے ،یا تو وہ مسلم نیتا معزول کر دئے گئے یا خود ضعف یا علالت کے سبب اپنے عہدے سے سبکدوش ہو گئے ۔پارٹی کے پاس ابھی بھی وقت ہے کہ اپنے فیصلے پر غور فکر کرے ،وفاداروں کو ہٹائے نہیں بلکہ ان کے عہدوں میں مزید ایک درجہ کی ترقی کرے،ان کے مراتب کو بڑھائے اور انکی وفا داری کی قدر کرے ۔ 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad