تازہ ترین

Post Top Ad

اتوار، 5 جولائی، 2020

اترپردیش کے غازی آباد میں غیر قانونی بم فیکٹری میں دھماکا ، 8 افراد ہلاک 20 سے زائد زخمی

نئی دہلی ۔(یو این اے نیوز 5جولائی 2020) قومی  دارلحکومت دہلی سے سٹے غازی آباد میں غیر قانونی بم بنانے والی فیکٹری میں ایک بڑا دھماکہ ہوگیا ہے ، لائیو ہندوستان کی خبر کے مطابق ، شہر کے مودی نگر میں واقع ایک فیکٹری میں ہوئے دھماکے میں 8 افراد ہلاک اور 20 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔  تمام زخمیوں کو علاج کے لئے اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔

 موصولہ اطلاع کے مطابق یہ غیرقانونی فیکٹری تحصیل مودی نگر کے نواحی گاؤں برخواہ گاؤں میں واقع ہے۔  اتوار کے روز اچانک فیکٹری میں ہونے والے دھماکے سے آس پاس کے علاقوں میں خوف و ہراس کا ماحول بن  گیا۔
 مقامی لوگوں نے بتایا کہ دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی۔  جلد ہی لوگوں نے انتظامیہ کو واقعے کی اطلاع دی۔  پولیس کی ٹیم موقع پر پہنچ چکی ہے اور تفتیش کر رہی ہے۔

 اسی دوران ، نو بھارت ٹائمس  کی خبر میں یہ دعوی کیا گیا ہے کہ اتر پردیش کے ضلع غازی آباد میں پنسل بم بنانے والی فیکٹری میں آگ لگ گئی ہے۔  آگ کی وجہ سے اب تک 7 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔  مرنے والوں میں چھ خواتین اور ایک بچہ شامل ہے۔  کئی دیگر افراد زخمی بھی ہوئے ہیں ، جنہیں اسپتال بھیج دیا گیا ہے۔  آگ پر قابو پانے کے لئے فائر بریگیڈ اور پولیس کی ٹیمیں جائے وقوع پر موجود ہیں۔

 اطلاع کے مطابق اس غیر قانونی فیکٹری میں سالگرہ کے کیک پر پنسل بم اور موم بتیاں بنائی گئی ہیں۔  فیکٹری میں خواتین اور بچوں کو ملازمت بھی حاصل ہے ، یہی وجہ ہے کہ مرنے والوں میں سات خواتین اور ایک بچہ بھی  شامل ہے۔  اطلاع ملتے ہی پولیس اور فائر بریگیڈ کی گاڑی موقع پر پہنچ گئی۔  آگ بجھانے کا کام جاری ہے۔  زخمیوں کو اسپتال بھیجنے کا کام کیا جارہا ہے۔

 آگ لگنے کی وجہ سے لوگ باہر نہیں نکل سکے چیف فائر سیفٹی آفیسر سنیل کمار سنگھ نے بتایا کہ شام 4 بجے کے قریب یہاں کے چھپر  میں آگ لگ گئی۔  جس کے بعد یہ آگ پوری فیکٹری میں پھیل گئی۔  اندر کام کرنے والے لوگ باہر نہیں نکل سکے۔

جھلس جانے کے باعث موقع پر ہی ان لوگوں کی موت واقع ہوگئی،  فیکٹری مالک کا نام نتن بتایا جارہا ہے۔  بتایا جارہا ہے کہ کچھ اور لوگ اندر پھنس سکتے ہیں۔  پولیس اور فائر بریگیڈ کی ٹیم ان لوگوں کو  نکالنے کا کام کیا زخمیوں کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی ہے۔  آس پاس کے لوگوں نے بتایا کہ یہ فیکٹری گاوں میں ہی چل رہی تھی۔ قرب و جوار کے لوگ اس فیکٹری میں آکر کام کرتے تھے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad