تازہ ترین

Post Top Ad

ہفتہ، 4 جولائی، 2020

صوبہ میں نظم و نسق پر اٹھے سوال:معاملہ کی اعلی سطحی جانچ کا مطالبہ

 دیوبند4:جولائی(دانیال خان)  آل انڈیا علماء کونسل کے جنرل سکریٹری مولوی تصور حسین نے صوبہ میں قانونی نظم و نسق پر سوال اٹھاتے ہوئے کانپور کے واقعہ پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔پریس کو جاری اپنے بیان میں مولوی تصور حسین نے کہا کہ صوبہ میں قانون نام کی کوئی شہ باقی نہیں بچی ہے،مجرموں کے حوصلے 

اتنے بلند ہیں کہ وہ پولیس کو نشانہ بنا رہے ہیں،کانپور میں ہسٹری شیٹر وکاس دوبے اور اس کے ساتھیوں کے ذریعہ آٹھ پولیس اہلکاروں کو قتل کر دئے جانے کے واقعہ سے ظاہر ہو گیا ہے کہ اتر پردیش میں قانون کا نہیں بلکہ مافیاؤں کا راج ہے۔مولوی تصور حسین نے کہا کہ کانپور جیسے واقعہ سے پولیس کے حوصلے پست ہو رہے ہیں اور عوام خوف میں ہے انہوں نے حکومت سے معاملے کی اعلی سطحی جانچ کراکر قاتلوں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔فاضل دارالعلوم دیوبند مولوی سعید معین نے  کانپور میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے اہل خانہ کو انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجرموں کو سخت ترین سزا دی جانی چاہئے

۔انہوں نے صوبائی حکومت سے ہشٹری شیٹر بدمعاش وکاس دوبے کو اسکے انجام تک پہنچانے کے لئے کانپورپولیس کو خصوصی پاؤر(کھلی چھوٹ) دئے جانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کانپور کے واقعہ سے انہیں بہت تکلیف پہنچی ہے،وہ شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے اہل خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس واقعہ سے ثابت ہو گیا ہے کہ بدمعاش کسی کا نہیں ہوتا اس سے سماج کو ہمیشہ خطرہ بنا رہتا ہے اور اسی لئے ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ سیاست سے مجرموں کو باہر کرنے کے حق میں ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad