تازہ ترین

Post Top Ad

جمعہ، 31 جولائی، 2020

غیر منصفانہ فیصلہ پر تعمیر ہورہی رام مندر پر ملی تنظیموں کی طرف سے مزمت کیوں نہیں

ذوالقرنین احمد
5 اگست کو ایودھیا میں رام مندر بھومی پوجن کیلے ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی حکومت کے اعلی عہدیداران شرکت کرنے والے ہیں۔ جن خصوصی طور پر 200 افراد کو دعوت دی گئی ہے۔ بابری مسجد کو 6 دسمبر 1992 کو آر ایس ایس اور اسکی ذیلی تنظیموں کی منصوبہ بند سازش کے تحت سرکاری اہلکاروں  اعلیٰ پولس افسروں کی موجودگی میں فرقہ پرست عناصر نے شہید کیا۔ جس میں ملک کے مختلف مقامات سے کارسیوکوں کو مدعو کیا گیا تھا۔ ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ نے ملکیت کے مقدمے کو آستھا اور مذھبی اکثریت کی بنیاد پر پانچ رکنی بینچ بابری مسجد رام جنم بھومی مقدمے کی پیروی کر رہے چیف جسٹس رنجن گوگئی نے رام مندر کے حق میں فیصلہ صادر کیا۔ جو کہ ملک کی جمہوریت کے قتل کے مترادف ہے۔ اتنا ہی نہیں بابری مسجد کی جگہ رام مندر تعمیر کرنے کا فیصلہ سنانے والے رنجن گوگئی کو بغیر کسی انتخاب کے پارلیمنٹ کی سیٹ بھی دی گئی جس پر کئی سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔

ملک کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے دوران ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کیلے 5 اگست کو بھومی پوجن کی تیاریاں زوروں پر ہے۔جس میں جمہوری ملک کے وزیر اعظم بھی شرکت کر رہے ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایک ایسی اراضی جہاں پر مسلمانوں کی بابری مسجد قائم تھی جس بات کو سپریم کورٹ نے بھی قبول کیا تھا کہ بابری مسجد مندر توڑ کر نہیں بنائی گئی۔ پھر بھی اس جگہ کو مندر کیلے دے دیا گیا جو کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والے  ملک بھارت میں ہوا ہے۔ اس فیصلے سے یہ بات صاف ہوچکی ہے کہ ملک میں ایک مخصوص فرقہ پرست ذہنیت کا قبضہ ہوچکا ہے۔ اور اسی کے اشارے پر ملک کے آئین اور جمہوریت کے ساتھ کھلواڑ کیا جا رہا ہے۔ انصاف کے مندر عدالت عظمیٰ کی عصمت کو تار تار کردیا گیا ۔ ملک کی اتنی بڑی مسلم آبادی کے مذہی جذبات کو مجروح کیا گیا جسے ہر 6 دسمبر اور 9 نومبر کو تا قیامت تک مسلمان نا انصافی ، غم سیاہ  دن کے طور پر یاد رکھیں گے۔

ایک بات قابل غور ہے کہ ملک میں ہر وقت سیکولر اور لبرل افراد جو جمہوریت کے نام پر ایک فرقہ کو شدت پسند کہتے ہیں جبکہ مسلمانوں نے امن و امان کی خاطر غیر منصفانہ فیصلہ پر صبر کرکے ملک کی حفاظت کو مقدم رکھا پھر بھی یہ لبرل مسلمانوں کو کٹر شدت پسند کہتے ہیں۔ جبکہ جمہوریت سیکولرازم آئین کی دھجیاں اڑانے والے یہی فرقہ پرست سنگھی تنطیموں کے عناصر ہے۔ جن کے اشاروں پر ملک کو خطرہ پہچانے کے ڈر سے مسلمانوں کی بابری مسجد کی زمین کو رام مندر کیلے  جمہوری انداز میں پیش کردیا گیا ہے۔ یہ سمجھوتہ نہیں تھا بلکہ مسلمانوں کو مجبورا اس فیصلے پر صبر کرنا پڑا جبکہ انصاف کے پیمانے پر دیکھا جائے تو آج بھی بابری مسجد کی زمین پر رام مندر کی تعمیر ہونا غیر قانونی غیر جمہوری اور نا انصافی پر مبنی ہے۔ جسے مسلمانوں نے خوشی سے تسلیم نہیں کیا ہے۔ یہ رام مندر کے حق میں فیصلہ ایک غیر منصفانہ فیصلہ تھا جسے جبراً مسلط کیا گیا ہے۔ملک کی تنظیموں پر افسوس ہے کہ جنہوں نے ملک کی سب بڑی عدالت پر یہ سوچ کر بھروسہ کیا تھا کہ عدالت انصاف کرینگی لیکن انکی سادہ دلی، اور اندھے اعتماد ایمانی بے بصیرتی سے محرومی نے انہیں اسکا یہ سلا دیا کہ بابری مسجد کی زمین کو رام مندر کی تعمیر کیلے دے دیا گیا۔

جبکہ یہ بات واضح اور دو دو چار کی طرح  صاف ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ نا انصافی کی گئی اور اس پر جرم یہ کہ انھیں اپنے حق کیلے آواز اٹھانے پر بھی پابندی لگا دی گئی اور مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑتے ہوئے ان کے مذہبی جذبات کو مجروح کرتے ہوئے الٹ  ملی تنظیموں اور مسلمانوں سے ہی امن و امان قائم کرنے کی اپیل کی گئی۔ بھارت میں انصاف کے مندر میں  غیر منصفانہ فیصلہ پر جمہوری اقدار کو پامال کردیا۔ ملی تنظیموں اور ملی قائدین کو یہ بات آخر کیوں سمجھ نہیں آتی کہ جمہوریت کا ڈھنڈورا پیٹ کر سنگھی فرقہ پرست حکومت جمہوریت کو ہی ختم کرنے کی تیاری میں ہے۔ جو ملی تنظیمیں اور ملی قائدین کہی کچھ غلط ہوتا ہے کسی کمیونٹی کے ساتھ بھید بھاؤ ہوتا ہے یا کوئی شخص جرم کرتا ہے ایسے چھوٹے مسائل پر اپنی قیادت کو چمکانے کیلے لیٹر پیڈ اور بیانات جاری کرتی ہے میڈیا میں چھائی رہتی ہے وہ ایودھیا میں غیر منصفانہ فیصلہ پر تعمیر ہونے والے رام مندر کے افتتاح ہونے پر خاموش کیوں ہے۔ جبکہ کئی تنظیموں نے قائدین نے ایسے بیانات بھی جاری کیے تھے کہ مسجد ہمیشہ مسجد رہی گی عدالت کا فیصلہ غیر منصفانہ ہے۔ 

اور اسکے خلاف کیوریٹیو پٹیشن بھی دائر کی گئی تھی۔ اتنا ہی نہیں ایک غیر منصفانہ فیصلہ پر تعمیر ہونے والے رام مندر کے بھومی پوجن میں خصوصی طور پر وزیراعظم اور مرکزی حکومت کے وزراء شامل ہونے والے ہیں۔ کیا یہ ملک کی اتنی بڑی مسلمانوں کی آبادی کے دلوں پر چھری چلانے کے مترادف نہیں ہے۔ کیا وزیر اعظم نریندر مودی صرف سنگھیوں کے وزیر اعظم ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر وزیر اعظم کو کھل کر ہندو راشٹر کا اعلان کردینا چاہیے۔ غیروں کا رونا کیا روئے تکلف تو اس بات کی ہے کہ ملی تنظیموں اور ملی قائدین نے ایودھیا میں رام مندر کے بھومی پوجن کے خلاف مذمتی بیان پریس ریلیز کیوں جاری نہیں کی ہے جو کہتے ہیں کہ مسجد تھی ہے اور رہی گی لیکن ان سب میں غیر جمہوری غیر منصفانہ فیصلہ کے خلاف نام نہاد قائدین نے مزمت نہیں کی ہے۔   

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad