تازہ ترین

Post Top Ad

منگل، 14 جولائی، 2020

ملک کو وزیر داخلہ دینے والامکتب اپنی بے بسی پر آنسو بہارہا ہے

 ۱۰۹۱ میں قائم مکتب آزادی کے بعد پرائمری اسکول میں ہو اضم، اہل خیر محلہ کے چندے پر مکتب کا نظام منحصر،عربی،اردو ہندی، انگلش، دنیات وغیرہ کی تعلیم ترجیحات میں شامل، مالداراپنے بچوں کا داخلہ کرا نا سے کر تے ہیں گریز 

جونپور حاجی ضیاء الدین. شہر مرکز سے ۷ کلومیٹر دور ظٖفر آباد قصبہ کو کسی زمانے میں دارالحکومت کا شرف حاصل تھا یہاں کی مساجد مقبر وں پر مورخین نے بہت کچھ لکھا ہے اس شہر کے درو دیوار سلاطین شاہی کے گواہ ہیں شہر کے چاروں طرف اولیاء اور صوفیائے اکرام کی مزار اس شہر کے علم و فن کے داستاں کو سنا رہے ہیں شہر میں مدارس کی تاریخ رہی ہے آزادی سے قبل محلہ ناصہی واقع مکتب اسلامیہ جو ۱۰۹۱ میں وقف بورڈ میں درج ہے اور درجہ ۵ تک منظوری بھی ہے مکتب نے ایک سے بڑھ کر ایک لعل وگوہر دئے ہیں

 جن میں انجینئر، ڈاکٹر، پراکٹر، کے علاوہ ملک کو  ہوم منسٹر بھی دیا ہے وقت کی ستم ظریفی ہے کہ ملک کو وزیر داخلہ دینے والا مکتب اسلامیہ اپنی بے بسی پر آنسو بہارہا ہے مکتب اسلامیہ ترقی کر نے کے بجائے چند بچوں کے سہارے اپنا وجود بچارہا ہے موجودہ وقت میں مکتب اسلامیہ میں ۰۱۱بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں جن میں ۷ اساتذہ اپنی خدمت انجام دے رہے ہیں۔مکتب کب وجود میں آیا کس نے تعمیر کروا یا اس کا کہیں سے کو ئی سراغ نہ مل سکا مکتب کمیٹی نے اس کے متعلق لاعلمی کا اظہار کر تے ہو ئے کہا کہ ہم سب کی جائے پیدائش یہیں کی ہے اور ہمارے اجداد بھی اسی مکتب کے طالب علم رہے اس لئے ہم یقین کے ساتھ کہتے ہیں کہ مکتب نے صدی پا ر کر لی ہے مکتب اسلامیہ کے متعلق اعجاز احمد جو کہ موجودہ وقت میں ڈی ایل ڈبلو سے ریٹائرڈ ہوچکے ہیں نے نمائندہ انقلاب کو بتا یا کہ چونکہ میں بھی اسی مکتب کا طالب علم رہا ہوں نوکری کے زمانے میں دور دراز پوسٹنگ ہو نے پر گھر پر رہنے کا موقع کم ملتا رہا لیکن ریٹائرڈ ہو نے کے بعد پوری ذمہ داری سے مکتب کی دیکھ بھال چند محسنین کے تعاون سے ہو رہی ہے 

مکتب میں موجودہ وقت میں غریب اور نادار مسلمانوں کے بچے پڑھنے آتے ہیں صاحب حیثیت اپنے بچوں کو کا نوینٹ اسکول میں بھیج رہے ہیں ان کا مکتب سے لگاؤ کا نہ ہو نا یقینا باعث فکر ہے جب کی مکتب کے کامیاب طلبہ کی فہرست طویل ہے جن میں مجھ سے قبل ہری گووند سنگھ کانگریس حکومت میں ہو م منسڑ رہ چکے ہیں ان کی ابتدائی تعلیم اسی مکتب سے ہو ئی ہے اس کے علاوہ حسین احمد، لوکل فنڈ آڈٹ ڈپارٹمنٹ، عبدا لوحید، پی ڈبلو ڈی انجینئر، احمد سعید ایچ اے ایل انجینئر، ڈاکٹر محمد شکیل، جمال احمد استاذ شبلی کالج ، وکیل احمدانصاری ایڈووکیٹ سابق مینیجر ساجدہ گرلس کا لج جونپور شہر ڈاکٹر کمال خان اپولو ہاسپٹل دہلی، عبد الحئی پی او باندہ، ارشد وحید استاذ محمد حسن کالج جونپور، ڈاکٹر سرفراز، ڈاکٹر خورشید انور، انصار احمد جامعہ ہمدرد میں ریڈر کے عہدے پر تعینات ہیں ان میں بعض تو اس دنیا سے رخصت ہو گئے اور بعض سبکدوش ہو گئے ہیں۔انھوں نے بتا یا کہ آزادی سے قبل تک مذکورہ اسکول مکتب کی شکل میں علاقہ میں علمی تشنگی بجھا رہا تھا کہ آزادی کے بعد ظفر آباد پرائمری اسکول میں اسکول ضم ہو گیا

اس دوران مکتب کے بہت سے کاغذات غاٗئب ہو گئے جن کو تلاش کر نے کی کا فی کو شش کی گئی لیکن ناکام رہے۔اس دوران آپسی چپقلش بازی نے مکتب کو کافی نقصان پہنچا یا اور کئی طرح کے اتار چڑھا ؤ بھی آئے کافی دنوں تک مکتب کی دیواریں مٹی کے غاروں کی تھیں ۰۷ کی دہائی کے بعد مولانا عبدالحلیم ؒ بانی مدرسہ عربیہ ریاض العلوم کے دست مبارک سے مو جود ہ 

عمارت کی بنیاد ڈالی گئی اور عوامی چندے سے ۶ کمروں کی تعمیر ہو ئی جس میں ایک دفتر ناظم شامل ہے ہماری کمیٹی نے تعلیمی معیارکو بلند رکھنے کی غرض سے ایل کے جی سے درجہ ۵ تک جس میں ارود، ہندی، انگلش، سائنس، سوشل سائنس، آرٹ اور دینیات وغیرہ کا نصاب شامل کرکے تعلمی مشن کو آگے بڑھا رہے ہیں ہم تمام کی کو شش ہے کہ کسی طرح مکتب جس نے لعل وگوہر دے کر دینی ملی جذبہ سے کام کر نے کا حوصلہ بخشا ہے وہی جذبہ ہماری نئی نسلوں میں باقی رہے اور بزرگوں کے ذریعہ لگا یا گیا یہ پو دا تاقیامت پروان چڑھتا رہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad