تازہ ترین

Post Top Ad

بدھ، 29 جولائی، 2020

یوم عرفہ 9/ذي الحجه کی فضیلت اور غلط فہمی کا ازالہ۔

عطاء الرحمن ندوی
یوم عرفہ وہ بابرکت دن ہے جس دن دین اسلام کی تکمیل اورنعتموں کا اتمام ہوااليوم أكملت لكم دينكم وأتممت عليكم نعمتي ورضيت لكم الإسلام دينا  المائدة : آج میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کوکامل کردیا اورتم پراپناانعام بھر پور کردیا اورتمہارے لیے اسلام کے دین ہونے پررضامند ہوگیا ۔یہ آيت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پرنازل ہوئ وہ جمعہ کا دن تھا اورنبی صلی اللہ علیہ عرفہ میں تھے ۔

9 ذوالحجه یعنی عرفہ کا ایک روزہ دو سال کے گناہوں کی معافی کا سبب احادیث میں یوم عرفہ کے روزے کی غیر معمولی فضیلت بیان کی گئی ہے.حضرت ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ۔۔۔آپ ﷺسے عرفہ کے دن کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا ،تو آپ ﷺنے فرمایا:صِيَامُ يَوْمِ عَرَفَةَ إِنِّي أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ، وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَهُ ". (مسلم)يوم عرفه کا  روزہ  گزرے ہوئے ایک سال اور آنے والے ایک سال (کے گناہوں )کا کفارہ بن جاتا ہے۔(صحیح مسلم،كتاب الصيام

عرفہ کے روزے کے تعلق سے ایک غلط فہمی کا ازالہ۔
کچھ لوگ عرفہ کی تعین کے بارے  غلط فہمی پھیلا رہے ہیں کہ جس دن حجاج عرفہ میں ہوں اسی دن ہر جگہ روز رکھا جائے حالانکہ یہ صحیح نہیں ہے۔ بلکہ جس ملک میں جب ۹/ذی الحجہ ہوگی،وہ یومِ عرفہ ہوگا اور وہاں کے لوگوں کو اسی دن یومِ عرفہ کا روزہ رکھنا ہوگااس کی دلیل میں صحیح بخاری کی درج ذیل حدیث ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ ، فَإِنْ غُبِّيَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا عِدَّةَ شَعْبَانَ ثَلَاثِينَ –(صحیح بخاری ، کتاب الصوم-چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند کو دیکھ کر روزوں کا اختتام کرو اور اگر تم پر چاند مخفی ہو جائے تو پھر تم شعبان کے ٣٠/ دن پورے کر لو،اس حدیث سے چاند دیکھنے کی اور قمری تاریخ کی اہمیت دیکھی جا سکتی ہے۔

یہ بھی یاد رہے کہ بعض ممالک ایسے بھی ہیں جب سعودیہ میں دن ہوتا ہے تو وہاں رات ہوتی ہے،اگر ان ممالک کے لوگ حجاج کرام کے وقوفِ عرفات کے وقت روزہ رکھیں تو گویا وہ لوگ رات کا روزہ رکھیں گے؟؟اور کچھ ایسے ممالک بھی ہيں،جہاں سعودیہ سے بھی پہلے چاند نظر آ جاتا ہے جیسے لیبیا، تیونس، تو کیا وہ لوگ 10 ذوالحجہ یعنی عید کے دن عرفہ کا روزہ رکھیں گے؟؟ہرشخص اپنے علاقے اور ملک کی روٴیت کا پابند ہوتا ہے، اسلئے آپ جس ملک میں ہیں وہاں کی روٴیت کے حساب سے عرفہ منائیں گے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad