تازہ ترین

Post Top Ad

بدھ، 25 نومبر، 2020

جنازے میں ہزاروں کی شرکت ڈاکٹر کلب صادق کو ہزاروں افراد کی موجودگی میں چوک منڈی واقع امام باڑہ غفران مآب میں سپرد خاک کردیا گیا۔

لکھنؤ۔اسماعیل عمران ۔(یو این اے نیوز 25 نومبر 2020)بڑی تعداد میں عقیدت مند مولانا کلب صادق  کی میت کے قریب آنے کی کوشش کررہے تھے، جس کی وجہ سے منتظمین کو نماز پڑھانے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑرہا تھا۔



ڈاکٹر کلب صادق کی نماز جنازہ آیت اللہ خامنہ ای کے ہندوستان میں نمائندہ آیت اللہ مہندی مہدی نے پڑھائی۔  نماز ادا کرنے کے کافی دیر بعد تک لوگوں کے ہجوم کو سنبھالنا ایک مشکل کام نظر آتا تھا۔


یونیٹی کالج  کے چاروں طرف لوگوں کی بڑی تعداد کافی دیر تک جمع رہی، کالج کے احاطہ میں 11:30 بجے نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد  قافلوں کی شکل میں میت کا جلوس چوک منڈی واقع امام باڑہ غفرانمآب کی طرف روانہ ہوا،ٹھیک دوپہر دو بجے امام باڑہ غفر نمآب  میں  تدفین کا عمل انکے بیٹوں اور مجمعہ کثیر کے ساتھ عمل میں انجام دی گئی۔


لوگوں کی بڑی تعداد دور تک سڑک کے دونوں طرف پیدل چل رہی تھی۔ جبکہ پولیس اور رضاکاروں کی ٹیم   نے تمام حفاظتی انتظامات سنبھالے ہوئے تھے۔


شاہراہوں پر بیریکیڈ کے ذریعے  راستے بند کردئے گئےتھے تاکہ میت کے جلوس کو مزار  پہنچنے میں دشواری نہ پیش آئے۔


تدفین میں  ریاست اترپردیش کے نائب وزیراعلی ڈاکٹر دنیش شرما سمیت  ہر مکتب فکر  مختلف سیاسی جماعتوں کے سربراہوں اور وفاقی وزراء سمیت ،کئی اہم  رہنما شریک تھے۔


تدفین کے وقت مولانا کے قریبی رشتہ داروں اور ان کے صاحبزادے سبطین نوری نے فاتحہ پڑھی 


نماز جنازہ اور تدفین کے موقع پر رقت آمیز اور جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے۔


صبح دس بجے مولانا کا یونیٹی کالج میں ان کا آخری دیدار کروایا گیا تھا جہاں بہت بڑی تعداد میں لوگ جمع تھے۔


منگل کی شب مولانا کلب صادق کے انتقال کی خبر پھیلنے کے بعد سے ہی مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والی شخصیتوں کے ذریعہ تعزیتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس دوران پی ایم نریندر مودی اور کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے بھی سوشل میڈیا کے ذریعہ شیعہ عالم دین مولانا کلب صادق کے انتقال پر اظہارِ افسوس کیا۔ پی ایم مودی نے اپنے آفیشیل ٹوئٹر ہینڈل سے جو ٹوئٹ کیا ہے اس میں لکھا ہے کہ ’’آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے نائب چیئرمین رہے مولانا کلب صادق کے انتقال سے انتہائی غم ہوا۔ انھوں نے سماجی خیرسگالی اور بھائی چارے کے لیے قابل ذکر کوششیں کیں۔ ان کے اہل خانہ اور چاہنے والوں کے تئیں میری ہمدردی۔



وہیں پر کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے مولانا ڈاکٹر کلب  صادق کے انتقال پر بذریعہ ٹوئٹر تعزیتی پیغام جاری کیا ہے جس میں لکھا ہے کہ ’’ڈاکٹر مولانا کلب صادق صاحب کے انتقال کی خبر غمناک ہے۔ ایک ہمدرد انسان ہونے کے ساتھ وہ ایک دانشمند سماجی رہنما بھی تھے۔ انھوں نے مختلف طبقات کے درمیان بھائی چارے کو مضبوط کرنے میں اہم کردار نبھایا۔‘ ساتھ ہی راہل گاندھی نے یہ بھی لکھا کہ ’’ان کے اہل خانہ، دوستوں اور چاہنے والوں کے تئیں میری ہمدردی ہے۔ 




واضح رہے منگل کی رات تقریبا10 بجے  طویل علالت کے بعد مولانا کلب صادق کا ایرا اسپتال میں انتقال ہوگیا تھا ،جنکی اطلاع مولانا کے بڑے بیٹے  سبطین نوری نے ایک ویڈیو کے ذریعے لوگوں کو بتایا کہ اب ہمارے بیچ ہندو مسلم اتحاد شیعہ۔سنی اتحاد کی بات کرنے والا نہیں رہا۔قوم کے حکیم امت اللہ کی بار گاہ میں چلے گئے۔نوٹ مولانا کی دوسری نماز جنازہ گھنٹہ گھر پر سنی طبقہ کے ذریعے پڑھائی گئی،تاریخی کے مطابق لکھنؤ میں ایسا دوسری مرتبہ ہوا ہے جب ایک جنازہ کی دو مرتبہ نمازیں پڑھی گئیں ہوں

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad