تازہ ترین

Post Top Ad

ہفتہ، 13 فروری، 2021

ویلنٹائن ڈے کیا ہے حقیقت کیا ہے پس منظر ؟؟؟

از قلم:فرحان فاروقی ابن حافظ فاروق صاحب بہادرگنج متعلم : مادر علمی دار العلوم دیوبند

              ویلنٹائن ڈے دنیا کے تمام ممالک اور تقریبا ہر خطے کے با شعور لوگ اس کے موجودہ پس منظر سے واقفیت رکھتے ہونگے۔اور منایا بھی جاتا ہے مگر اس کی حقیقی روح اب مر چکی ہے۔حتی کہ ہم اب اس کی حقیقی پس منظر سے بھی نا آشنا ہیں۔اس کی ابتداء کے متعلق متعدد روایتیں اور حکایتیں مشہور ہیں۔جن میں سے ایک روایت یہ ہے کہ تیسری صدی عیسوی میں روم کے بادشاہ نے ایک فرمان جایا تھا کہ کوئی شادی نہیں کر سکتا کیونکہ ان کی زندگی روم کے تخت کیلئے وقف ہے،اس خلاف فطرت قانون کا رد عمل کرتے ہوئے ایک پادری(عیسائیت مذہب کا عالم)  ویلنٹائین نے ان سپاہیوں کی شادی کرا دی جو کہ اس فرمان کے خلاف تھے۔



بادشاہ کے فرمان کے خلاف کرنے کی بناء پر ویلنٹائن کو قید خانے میں ڈال دیا گیا۔اور پھانسی کی سزا سنائی گئی۔جیل میں ویلنٹائن نے اللہ کے مخلوق کو فائدہ پہنچانے کا سلسلہ جاری رکھا،وہ قیدیوں کی خدمت اور ان کی ضروریات کی تکمیل کرتا رہااس دوران ویلنٹائن نے جیلر کی بیٹی کا خدمت یا معالجہ  کیا جس بناء پر ان کی بینائی لوٹ آئی جوکہ بالکل چلی گئی تھی۔شاید اس جیلر کی بیٹی کو ویلنٹائین سے محبت ہو گئی تھی۔

چنانچہ 14 فروری سنہ 270ء کو ویلنٹائین کو پھانسی دی گئی اور مرنے سے پہلے ویلنٹائن نے جیلر کی بیٹی کو ایک خط لکھا تھا جس کا آخری جملہ  تمہارا ویلنٹائن تھا ۔اس ویلنٹائن پادری کے زمانے میں ملک روم کے اندر عیسائیت کی تبلیغ ممنوع تھی۔روم کا بادشاہ کلاڈیس دوم ایک ایسے مذہب کا مانے والا تھا جن کا عیسائیت کفر قرار دیتی تھی۔

ویلنٹائن کی قربانی کے سبب پورا ملک روم عیسائی مذہب قبول کر لیا۔ویلنٹائن پادری کو پھانسی دینے کے تقریبا 200سال بعد پاپائے روم نے ویلنٹائن کو سنت کا درجہ دیکر 14 فروری کو ویلنٹائن ڈے کے طور پر منانے کا حکم صادر فرمایا۔اس موقع پر لوگ اپنے عزیز و اقارب سے ملاقات کرتے اور ہدایا و تحائف سے ایک دوسرے کو نوازتے تھے۔اور ایسی ملاقاتوں سے لوگوں کی باہمی محبت و تعلق میں استحکام پیدا ہوتا تھا۔

یہ ہے اس کا حقیقی پس منظر۔

         اب آئے یہ جانتے ہیں کہ بے حیائی کی ابتداء کہاں ،کن سے اور کب ہوئی؟؟؟؟دور وسطی میں اس کو رومانی تصور سے آراستہ کر دیا گیا اور اس کا موجد انگریزی شاعر چاسر  ہے ۔ویلنٹائن ڈے کو رومان کا تصور شامل کئے جانے سے ایک نئی تہذیب مع بے حیائی کے ابتداء ہوئی۔اور لوگ 14 فروری کو بر ملا اپنی محبت کا اظہار کرنے لگے،اور شادی کی پیش کش کی جانے لگی۔

             

آج ویلنٹائن ڈے 

دنیا کے مختلف ممالک میں کسی نا کسی شکل میں منایا جاتا ہے۔مگر ویلنٹائن نے جس محبت، خدمت خلق اور خلاف فطرت فرمان کو مسترد کرنے کا جو پیغام دیا تھا وہ کہیں بھی باقی نہیں ہے۔آج صورتحال یہ ہے کہ ایک طرف ایک طبقے کے معاشرے میں ہر کے اندر ویلنٹائن ڈے سرایت کر رہا ہے، اور دوسری طرف اس کے خلاف تشدد ہو رہے ہیں۔ در حقیقت دونوں ہی  اپنے نتائج کے اعتبار سے غلط ہیں۔ان سے کسی طرح کی بھی بہتری کی امید نہیں کی جا سکتی،ویلنٹائن ڈے  کی موجودہ رسم یا تصور میں یقینا ہمارے لئے کوئی بھی کشش نہیں ہے۔


               مگر آج ویلنٹائن کا سا جذبہ پیدا کرنے کی ضرورت ہےممکن ہے کہ آپ اس سے اتفاق نا کریں،مگر جس محبت،خدمت خلق اور خلاف فطرت قانون کو ٹکھرا دینے کے جذبے پر اس کی بنیاد رکھی ہوئی ہے اس سے تو کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا ہے۔اور مزید ایک قدم کو حرکت دیکر میں یہ کہتا ہوں کہ اس جذبے کی معاشرے کو آج اشد ضرورت بھی ہےمگر ویلنٹائن ڈے  کا موجودہ تصور یہ ہیکہ اظہار محبت کیا جائے، اظہار محبت میں ڈرامائی شکل و صورت اختیار کیا جائے، کسی کو شادی کا پیغام دیا جائے اور محبوبہ یا محبوب کو ریسٹورنٹ یا ہوٹل میں مدعو کیا جائے۔

            

                بدقسمتی سے یہ حقیقت تقریبا ہم سب ہی کے ذہن سے محو ہو چکی ہے کہ ویلنٹائن نے جیلر کی بیٹی کی ایسی خدمت کی تھی کہ وہ بالکل صحت یاب ہو گئی تھی ، ایام قید و بند میں بھی وہ قیدی ساتھیوں کو راحت و سکون پہونچانے کی کوشش کر رہا تھا اور خلاف فطرت قانون یا فرمان کو مسترد کرنے میں بھی اپنی جان کی پرواہ نہیں کی تھی۔یہ کوئی معمولی خصوصیت نہیں ہے بلکہ میں تو یہ کہتا ہوں کہ یہ مقصد حیات میں شامل ہونا چاہئے۔اور آج اس کی سخت ضرورت بھی ہے جبکہ پوری دنیا میں ظلم و ستم روز بروز بڑھتی ہی جا رہی ہے کہ ہم اپنی جان و مال کی فکر کئے بغیر اسلام کی تحفظ و بقاء کی خاطر اپنی جان کو جاں آفریں کے حوالے کو تیار ہو جائیں، اور علم اسلام کو بلند کرنے کیلئے تن من دھن کی بازی لگا دیں۔اگر چہ رات لمبی ہو گئی ہے سویرا کبھی تو ہوگی ہی نا۔اللہ ہمیں صحیح سمجھ عطاء فرمائے اور اہل ایمان کی حفاظت آمین ثم آمین یا رب العالمین

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad