تازہ ترین

Post Top Ad

منگل، 9 مارچ، 2021

جہیز ایک لعنت اور لمحۂ فکریہ


جہیز ایک لعنت اور لمحۂ فکریہ

 
شمیلہ عظمت
    چند روز قبل شوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوا جوکہ امت مسلمہ کیلۓ ہی نہیں بلکہ دنیاۓ انسانیت کیلۓ  بہت ہی دل سوز اور افسوسناک خبر تھی اس ویڈیو میں  عائشہ نامی ایک لڑکی نے اپنی خودکشی کا پیغام اپنے شوہر عارف اور خاندان کے دیگر افراد کو دیا اس ویڈیو سے  صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ کس قدر ٹوٹ چکی تھی  وہ ایک تعلیم یافتہ اور بر سر روزگار لڑکی اس قدر بہادر تھی کہ اسنے ہنستے ہوئے موت کو گلے لگا لیا.... نہ جانے اس نے زندگی کے  کن مجبوریوں سے تنگ آکر پل بھر  میں زندگی سے ہاتھ دھونے کا فیصلہ کر لیا یہ ایک نہایت ہی افسوسناک بات ہے کہ ایک لڑکی  جہیز  اور اپنے سسرالیوں کی وجہ سے اپنی جان دے دی اگر ہمارے سماج سے جہیز کی اس لعنت کو ختم نہ کیا گیا تو نہ جانے اور کتنی عائشائیں اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھیں گی اس جہیز کی وجہ سے نہ جانے کتنی معصوم بیٹیوں کی جانیں گئیں ہیں اور نہ جانے کتنی جانیں جائیں گی....ہمارے معاشرے میں جب بھی کسی معصوم کی جان چلی جاتی ہے تو  اس کے دروازے پر صحافیوں کی بھیڑ اکٹھا ہو جاتی ہے ، جگہ جگہ مظاہرے کئے جاتے ہیں، کینڈل مارچ نکالا جاتا ہے جب بھی آپ اخبار کھولیں، شوشل میڈیا پر جائیں ہر جگہ وہی خبریں  سرخیوں میں ہوتیں ہیں اور جب تک کوئی دوسرا نیا حادثہ رونما نہ  ہو تب تک اسی واقعے پر تبصرے کیۓ جاتے ہیں... تو کیا ایسا کرنے سے ہمارے سماج سے وہ برائیاں ختم ہو جاتیں ہیں یا پھر اس حادثے کے بعد ایسا کوئی دوسرا حادثہ رونما نہیں ہوتا؟؟

ہم چاہے جتنی بھی آوازیں اٹھا لیں کتنے ہی جلوس نکالیں اس سے ہمارے سماج کی برائیاں ختم نہیں ہو سکتیں ہمیں اپنے اندر تبدیلی لانے کی ضرورت ہے خود کا محاسبہ کرنا ہے کہیں ہم بھی اس جہیز کی لعنت میں مبتلا تو نہیں ہیں... آجکل ہمارے سماج میں اپنی بیٹیوں کو جہیز میں رنگ برنگ کے بیش قیمت  چیزیں دیتے ہیں اور فخر سے  کہتے ہیں کی اگر یہ نہ دیا تو لوگ کیا کہیں گے؟؟؟؟ جب تک ہمارے اندر سے "لوگ کیا کہیں گے" والے جراثیم كو ختم نہ کیا گیا تو نہ جانے کتنی نوجوان بہنیں اپنے والدین کے گھروں میں بیٹھی رہیں گی نہ جانے کب تک بوڑھا باپ اپنی نوجوان بچیوں کا بوجھ اپنے کاندھے پر لیۓ پھرینگے....... اگر واقعی ہم نے عائشہ کی ہنسی کے پیچھے کا درد محسوس کیا ہےاور اسکی دردناک موت کی کرب کو سمجھا ہے تو ہمیں اپنے سماج سے جہیز جیسی  لعنت کو ختم کرنا ہوگا جس کے عذاب میں مبتلا عورتیں گھروں سے نکال دی جاتیں ہیں یا انکو زندہ جلا دیا جاتا ہے یا پھر تو وہ مرگ و زیست کی کشمکش سے دو چار  رہتی ہیں    ہرپل, ہر لمحہ  موت کی اذیت سے گزرتی ہیں  پھر خود کشی کر لیتی ہیں 
       بیداری پہلے خود ہمیں اپنے  اندر لانے کی ضرورت ہے اگر ہر والدین یہ فیصلہ کر لیں کہ نا ہم بیٹے کی جہیز لینگے اور نہ اپنی بیٹیوں کو جہیز دینگے تو نا جانے کتنی غریب بچیاں اپنے گھروں کی ہو جائے 
  ایک اور اہم بات  بچیوں کی والدین سے کہیں گے کی جب آپ اپنی بیٹی کی جہیز کے لئے اپنی اوقات سے بڑھ کر بیش قیمت سامان مہیا کرتے ہیں  خدارا یہ نہ کریں بلکہ اپنی ضرورت کے بقدر سامان خرید کر خود اپنے گھروں میں رکھیں تاکہ آپکی بہو کو یہ ساری چیزیں لانے کی ضرورت ہی نہ ہو اگر ہر شخص ایسا کرنے لگے تو دھیرے دھیرے ہمارے معاشرے سے اس مہلک مرض کا خاتمہ ممکن ہے 
ہم اپنی مظلوم بہنوں سے یہ کہیں گے کہ اگر آپ پر ظلم و ستم کی انتہا ہو جائے تو آپ ہمت نا ہاریں اپنی جان لینے کا منصوبہ نہ بنائیں کیونکہ ہماری جانیں اللہ کی امانت ہے اور کسی بھی بشر کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اپنی زندگی اور موت کا فیصلہ خود کرے کیونکہ زندگی بہت انمول ہے اسے آپ بے قدرے لوگوں کی وجہ سے نہ گنوائیں بلکہ اس سے آپ عبرت حاصل کریں اور آگے چل کر اپنی اولادوں کو اس کے نقصانات سے آگاہ کریں اور جہیز نامی لعنت سے انہیں نفرت دلوائیں نیز ایک خوبصورت معاشرہ کا تشکیل دیں زندگی تو عارضی ہے یہ تمام مشکلات ایک دن ختم ہو جائیں گی........

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad