تازہ ترین

Post Top Ad

منگل، 20 اپریل، 2021

مشرف عالم ذوقی کا انتقال ایک عہد کا خاتمہ:ڈاکٹر نواز دیوبندی



مشرف عالم ذوقی کا انتقال ایک عہد کا خاتمہ:ڈاکٹر نواز دیوبندی



دیوبند19اپرےل(دانیال خان)
برِصغیر کے مشہور ادیب،ناول نگار،سکرپٹ رائٹر مشرف عالم ذوقی کا تقریباً 58 سال کی عمر مےں انتقال ہو گیا ۔جیسے ہی یہ خبر دیوبند پہنچی تو یہاں کے ادبی حلقوں میں شدید رنج و غم کا ماحول برپا ہوگیااور مرحوم کے لئے دعائے مغفرت اور اےصال ثواب کیا گیا ۔ شعراء،ادباءو دانشوران نے ان کے انتقال کو اےک عہد کا خاتمہ قرار دیا ہے ،اپنے تعزیتی بیان مےں عالمی شہرت یافتہ شاعر واتر پردیش اردو اکےڈمی کے سابق چےئر مےن ڈاکٹر نواز دےوبندی نے مشرف عالم ذوقی کو عہد ساز شخصیت قرار دےتے ہوئے بتایا کہ مرحوم سے ان کے بہت اچھے مراسم تھے انہوں نے نیلام گھر ،شہر چپ ہے،بیان،اور لے سانس بھی آہستہ جیسے کئی اہم ناول لکھے جنھیں عوام وخواص کے درمیان زبردست مقبولیت حاصل ہوئی،ناولوں کے علاوہ انھوں نے بہت سے افسانے بھی تخلیق کیے ہیں جو اردو کے مو ¿قر رسائل واخبارات میں شائع ہوتے رہے ہیں۔اسی طرح ان کی ریڈیو پر نشر ہونے والی کہانیوں کی بھی معتد بہ تعداد ہے،انہوں نے عالمی سطح پر ہندوستان کی نمائندگی کی وہ ناول کی دنیا ہو یا افسانہ کی دنیا مظلوم اور دبے کچلے لوگوں کی آواز جس سطح پر انہوں نے اٹھائی اسکی دوسری مثال نہےں ملتی ہے ،ڈاکٹر نواز دےوبندی نے کہا کہ مشرف عالم ذوقی کی موت سے اردو ادب کانا قابل تلافی نقصان ہوا ہے ۔ڈاکٹر نواز دےوبندی نے بتایا کہ مرحوم کا امتیاز ےہ بھی تھا کہ وہ نئے لکھنے والوں کی حد درجہ خلوص کے ساتھ قدر افزائی کرتے تھے اور تنقید مےں اپنا اےک مختلف اور منفرد زاوئیہ نظر رکھتے تھے ۔ان کی ادب نوازی کی مثال اب اس دور مےں ناپےد ہے۔ڈاکٹر نواز دےوبندی نے کہا کہ مرحوم موجودہ عہد کی گھٹن، صارفیت اور سیاسی ظلم و زیادتی کے خلاف مسلسل احتجاج کرتے رہے۔ ان کا فکشن اردو تک محدود نہیں ہے بلکہ ہندی اور دوسری زبانوں کے رسائل و جرائد میں بھی ان کی تخلیقات شائع ہوتی رہی ہیں۔ وہ اس عہد کے ان فن کاروں میں سے تھے جن کا تخلیقی کینوس وسیع و ہمہ رنگ تھا۔اللہ مرحوم کے درجات بلند اور پسماندگان کو صبر جمےل عطاءفرمائے ۔معروف ادیب وقلم کار سید وجاہت شاہ نے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ اس قدر محبت کرنے والے ،مخلص اور نئے لکھنے والوں کو حوصلہ بخشنے والے لوگ اب رخصت ہوتے جا رہے ہےں ان کی رحلت اردو ادب کا اےک ناقابل تلافی نقصان ہے ۔سید وجاہت شاہ نے مرحوم کی سنجےدہ ادبی وابستگیوں اور غیر معمولی افسانوی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مشرف عالم ذوقی ہندوستان کے فکشن نگاروں میں اپنی منفرد تخلیقات کی وجہ سے نمایاں حیثیت رکھتے تھے، ان کی مطبوعات کی کل تعداد 50 سے بھی زیادہ ہے۔ ان کی وفات سے انہےں بہت بڑا صدمہ پہنچا ہے ۔اللہ مرحوم کو جنت الفردوس مےں اعلی مقام عطاءفرمائے آمےن ۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad