تازہ ترین

Post Top Ad

ہفتہ، 14 اگست، 2021

کیا اقلیتوں کا مذہب کے نام پر سیاست کرنا درست ہے؟

جس ملک میں آپ اقلیت میں ہوں، جہاں آپ سیاسی طور پر اچھوت بنا دئے گئے ہوں، جہاں آپ کے جوانوں کی لنچنگ ہوتی ہو، جہاں آپ کی بہن بیٹیوں کو بھگوا پریم ٹریپ کے ذریعہ ہندو بنایا جارہا ہو، جس ملک میں آپ کا تعلیمی ڈھانچہ برباد ہوچکا ہو، جس ملک میں آپ حکومتی ایجینڈے کے تحت اور اپنی نکمے پن کے سبب بے روزگار اور مسکین بنا دئے گئے ہوں، جس ملک میں اکثریت مذہب کی بنیاد پر نفرت کی سیاست کرتی ہو، جس ملک کا مسئلہ غربت و افلاس ہو مگر وہاں ایک خاص گروہ اپنی سیاسی پکڑ مضبوط کرنے کے لئے آپ جیسے بے بس کو طاقتور دشمن کے طور پر پیش کر رہا ہو، جہاں آپ کی ۵۰ فیصد سے زیادہ آبادی اسلام کی بنیادی تعلیمات اور مقاصد سے بے بہرہ ہو، اور آپ کی اکثریت کو حالات کی خطرناکی کا ادراک نہ ہوـ



ایسے ملک میں نوجوانوں اور مفکروں کی ایک پرجوش کھیپ کا تیار ہونا فطری بات ہے، جو ان حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے کمربستہ ہوجائے، مشکل حالات کو تبدیل کرنے کی قسم کھا لے، دشمن کے حملوں کا دفاع اور ان پر پلٹ وار کی تیاری کرلے! اور یہ بھی فطری بات ہے کہ اس کھیپ کے اندر نفرت کا جواب نفرت سے دینے کا رجحان پیدا ہوجائے، اور وہ ناسمجھی میں اکثریت کے اسی روش کو اختیار کرنے کی کوشش شروع کردے!


یہ سب فطری باتیں ہیں، کیونکہ جہاں ظلم ہوگا وہاں بغاوت کی ہوا ضرور چلے گی، لیکن کیا اس گروہ کے دانش مندوں کا بھی اسی روش پر چل پڑنا درست ہوگا؟ کیا یہ فطری سمجھا جائے گا؟ کیا اس گروہ کے عقلمندوں کی یہ دینی اور قومی ذمہ داری نہیں ہوگی کہ وہ حالات کا درست تجزیہ کریں، اور مالہ و ماعلیہ کو دیکھتے ہوئے قوم کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیں؟ کیا ان کے لئے یہ ضروری نہیں ہوگا کہ وہ زمینی سطح پر حالات کا جائزہ لیں، اور قوم کی اقتصادی، تعلیمی حالات، سیاسی شعور اور اقلیت و اکثریت کی روش و طریقہ کار کو دیکھتے ہوئے مستقبل میں برآمد ہونے والے نتائج پر غور و فکر کریں؟


آئیے کچھ باتوں کا تجزیہ کیا جائے!


(۱) مذہب کے نام پر سیاست کرنا، 

(حالانکہ اس ملک کے اعتبار سے یہ عمل بالکل بھی درست نہیں ہے، لیکن) آپ اگر اس کو درست مان بھی لیں تو کیا آپ اس بات کا دعوی کر سکتے ہیں کہ اس نہج پر آپ انتخاب جیت لینگے؟ اور جیتینگے بھی تو کتنی سیٹیں؟ اور ان کے فوائد و نقصان کیا ہونگے؟ 

اس ملک میں غیر مسلموں کی تعداد ۸۰ فیصد ہے، اور آپ کی تعداد ۲۰ فیصد؟ اگر ہم اس بات کو مان بھی لیتے ہیں کہ مسلمان مکمل ۲۰ فیصد متحد ہوجاتے ہیں، اور آپ کی مسلم پارٹی کو ووٹ دے دیتے ہیں، تو وہ ۸۰ فیصد آپ کے خلاف متحد نہیں ہوگی؟ اور اگر متحد نہ بھی ہو اور ۲۵-۳۰ فیصد ووٹ اسے مل جائیں تب بھی وہ آپ سے جیت جائے گی ـ

آپ کہینگے کہ ہم تو بس مسلم اکثریت والے علاقوں سے الیکشن لڑتے ہیں، تو کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ ایک ایک مسلم علاقے سے کتنے مسلمان ایک ساتھ الیکشن لڑتے ہیں؟ اس کے ساتھ انتخاب کے لئے سرکاری طور پر جو حلقے بنائے جاتے ہیں، ان میں مسلمانوں کی آبادی کو اس طرح تقسیم کیا جاتا ہے کہ ایک حلقے میں ہی آپ کی اکثریت کے غبارے سے ہوا نکل جاتی ہے! کیا اس حالت میں آپ کے جیتنے کی امید ہے؟ ٹھیک ہے اس حلقے والی بات کو بھی نکار دیا جائے تو آپ بتائیں کہ آپ نے سوشل میڈیا سے اوپر اٹھ کر ان حلقوں میں کتنا سیاسی شعور بیدار کیا ہے؟ کیا آپ اس کی گارینٹی لے سکتے ہیں کہ کوئی دوسرا مسلمان آپ کے امیدوار کے مقابلے نہیں کھڑا ہوگا اور مسلم عوام گھریلو و خاندانی واسطوں کے سبب اسے ووٹ نہیں دینگے؟


ان سوالوں سے ہٹ کر ہمارے کچھ مشورے ہیں،

(الف) آپ کو انتخاب میں حصہ لینا ہے تو پہلے سوشل میڈیائی ہنگامہ نہ کریں، اور مسلمانوں پر الزام تراشی بند کرکے زمینی سطح پر مسلمانوں کا سیاسی شعور بیدار کرنے اور متحد کرنے کی کوشش کریں، 


(ب) اپنی پارٹی کا نام ایسا رکھیں جس سے ملک کی نمائندگی جھلکے، پھر چاہے آپ کا ۸۰ فیصد کام صرف مسلمانوں کے لئے ہو.


(ج) اپنے کارندوں میں پڑھے لکھے لوگوں کو شامل کریں، دسویں فیل لونڈے چاہے جتنی پکڑ رکھتے ہوں ان کو کوئی ذمہ داری نہ دیں، کیونکہ نیم حکیم خطرے جان ہوتا ہے،


(د) مسلمانوں کی ضرورتوں کو دیکھتے ہوئے منصوبہ بند طریقے سے ان کی اقتصادی، تعلیمی مدد کریں، ان کے لئے (انہیں کی امداد سے) اسکول، کالج، ہاسپیٹل کھلوائیں، 


(و) جب مسلمان آپ پر متحد ہوجائیں تب بھی مذہب کے نام پر سیاست نہ کریں، بلکہ ضرورتوں کی بنیاد پر اپنا اتحاد دکھا کر پارٹیوں سے حصہ داری مانگیں، اور ہر پارٹی سے مول بھاؤ کریں، جو زیادہ مراعات دینے کے لئے تیار ہو اس سے اتحاد کریں، پھر چاہے وہ بھاجپا ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ جن لوگوں کے مفاد ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں وہ ایک دوسرے کے خلاف بیان بازیاں کم کرتے ہیں ـ


(ہ) اپنے نمائندوں کو غیر مسلموں کے رسم و رواج اور ان کے مذہبی عقائد و دیوی دیوتاؤں کو گالی دینے سے روکیں، اس سے فرقہ واریت بڑھتی ہے، اور آپ کے اور آپ کی کامیابیکے درمیان کی خلیج مزید وسیع ہوتی جاتی ہے، اس کے بجائے آپ غیر مسلموں کے سیاسی مدعوں پر بھی سرکار سے سوال کریں، اور اپنی آئی ٹی سیل میں تحقیقی کام کرنے والوں کو رکھیں جو دشمنوں کی تاریخ اور عقائد سے loose points نکالیں اور منطقی انداز میں ان پر اخلاقی وقانونی سوال کھڑے کرکے تشکیک کا ماحول بنائیں ـ


(۲) وہ مسائل جن کے سبب آپ کے اندر جوش پیدا ہوا ہے، جیسے لنچنگ، مسلم لڑکیوں کا بھگوا ٹریپ، نفرت کا ماحول، یہ چیزیں اگرچہ سیاست سے جڑی ہیں لیکن آپ سیاست کرکے ان کو ختم نہیں کرسکیں گے، بلکہ ان کے لئے دوسرے راستے ہی مفید ہونگے، 

جیسے:

(الف) لنچنگ، تو آپ سیاست میں آنے کے بعد بھی اقلیت میں ہی ہونگے، تو اکثریت پر تھوڑا بہت تو اثر انداز ہونگے لیکن مکمل طور پر آپ اس کا سد باب سیاسی اقتدار کے ذریعہ نہیں کرسکیں گے، کیونکہ یہ زمینی سطح کا معاملہ ہے، اور اس کے لئے زمینی محنت کی ضرورت ہے، مثلا اپنے نوجوانوں کو طاقتور بننے کے لئے جم کرنے اور اکھاڑے میں ٹریننگ کرنے کے لئے ابھاریے اور ان کے لئے یہ چیزیں مفت مہیا کرنے کی کوشش کیجئے، اپنے نوجوانوں کو پولس،  پیراملٹری اور فوج میں بھیجنے کے لئے منصوبہ بندی کیجئے، جن اسباب سے سب سے زیادہ لنچنگ ہوتی ہے، ان پر غور کیجئے کہ وہ فرائض میں سے ہے یا ضروریات میں سے، اگر صرف ضروریات میں سے ہو تو اس سے بچنے کی کوشش کیجئے اور اس کے بجائے دوسرے کاموں کو ترجیح دیجئے، ہاں اگر کہیں لنچنگ ہونے کا علم ہوجائے تو لنچنگ کرنے والوں کو نشانہ بنانا مت چھوڑیے، پھر وہ چاہے ذاتی لڑائی کے تحت ہو یا اجتماعی یا قانونی.... بدلہ ضرور لیجئےـ


(ب) بہن بیٹیوں کا منصوبہ بند شکار، اس سلسلے میں تو سیاسی طور پر آپ کچھ کر ہی نہیں سکتے، تو اس کے لئے سیاسی اٹھا پٹک بالکل غیر ضروری چیز ہے، آپ اس کے لئے الگ سے منصوبہ بندی کرسکتے ہیں، اور آج کل یہ موضوع بہت گرم ہے، بہت سے افراد نے اس کی وجوہات اور حل لکھے ہیں، آپ ان پر غور کر سکتے ہیں،  اس سلسلے میں آپ میرا مضمون "مسلم بچیوں کے ارتداد کے اسباب اور ان کا حل" پڑھئے:



(ج) تعلیمی کمزوری، اس کے لئے جس قدر حکومت ذمہ دار ہے ہم بھی اتنے ہی ذمہ دار ہیں، ہر مسلمان کو اسلام کی بنیادی تعلیمات کا علم ہونا چاہیے، لیکن ہم نے اسلامی تعلیمات کو مدرسوں میں اور دنیا کو اسکولوں میں قید کرلیا ہے، وہیں آر ایس ایس اور اس جیسی جماعتوں کو دیکھئے، انہوں نے اسکولوں کے ذریعہ ہی اپنے مذہبی تعلیمات کو اس قدر عام کیا ہے کہ ایک مسلمان بچا اپنے مذہب سے زیادہ ان کے بارے میں جانتا ہے، کیا مسلمانوں جیسی قوم جس کا سالانہ زکوة اربوں روپے نکلتا ہے اپنے زکوة کے پیسے کو اس کے لئے صرف نہیں کرسکتی؟


(و) معاشی کمزوری، یہ سچ ہے کہ سرکاری نوکریوں سے مسلمانوں کو جان بوجھ کر دور رکھنے کی سازش ہوتی ہے، لیکن کیا ہم نے اپنے طور پر اس قدر محنت کی ہے کہ ان کو حاصل کرسکیں؟ ہمارے نوجوان موٹر سائکل اڑانا، تاش کھیلنا، بیڑی پینا اور ایک جگہ جمع ہوکر غیبت کرنے میں بہت آگے ہیں لیکن جب ان سے تعلیم کی بات کی جاتی ہے تو ایسا لگتا ہے کہ ان پر پہاڑ جیسا بوجھ لاد دیا گیا ہو، اور جو نوجوان پڑھتے بھی ہیں تو ہمارے پاس ایسا کوئی ملکی لیول کا سسٹم نہیں ہے کہ ان کو درست سمت میں رہنمائی دے سکیں؟ ایسے حالات میں سرکاری ملازمتوں میں نمائندگی کیسے ممکن ہے؟ وہیں پرائویٹ سیکٹر اور تجارت میں بھی ہمارا برا حال ہے، ہم لوگ بیٹھے رہنا پسند کرتے ہیں، زمین بیچ کر کھانا جانتے ہیں، قرض پر عیاشی کر سکتے ہیں لیکن سبزی فروشی و چاٹ کے ٹھیلے لگا کر حلال کمائی نہیں کر سکتے، اور اوپر سے ہمارے نوجوانوں کو جب اس کے بارے میں مشورہ دیا جائے کہ یہ کام کرو تو کہتے ہیں ہم پٹھان ہیں، نیچ لوگوں کا کام نہیں کرینگے! گویا حلال کمائی سے بہتر ہمارے نزدیک مفت خوری اور بھیک مانگنا ہے!


وہیں ہمارے جاننے والے بہت سے ہندو لڑکے ہیں جو پڑھائی میں اچھے ہیں، اور شام کے وقت بازار میں اپنے والد کا ٹھیلہ لگانے میں مدد کرتے ہیں، اب سوچئے جو قوم محنت کرے گی وہ کامیاب ہوگی یا جو شور مچائے گی وہ کامیاب ہوگی؟


خلاصہ کلام یہ ہے کہ مجموعی طور پر ہم اپنی کمیوں اور پریشانیوں کے لئے خود ہی ذمہ دار ہیں، اور اسی کمزوری کا فائدہ ہمارا دشمن سیاسی طور پر اٹھارہا ہے، جس دن ہم زمینی سطح پر مضبوط ہونگے، اور ہمارا داخلی بحران دور ہوگا، دشمن کی چالیں خود بخود ناکام ہونے لگیں گی ـ


لہذا ہر چیز کو سیاست سے جوڑنا اور شور مچانا کہ ہمارے ساتھ سیاسی طور پر نا انصافی ہورہی ہے اور اس کے اسباب و عوامل پر غور و فکر نہ کرنا درست رویہ نہیں ہے، سیاست ضروری ہے، لیکن اندرونی طور پر مضبوط ہونا اس سے کہیں زیادہ ضروری ہے، اور ایسے ملک اور ایسے کمزور حالات میں کسی اقلیت کا اکثریت کے مقابلے مذہب کی بنیاد پر سیاسی جنگ لڑنا تو بہت بڑی غیر دانش مندی ہے.


محمد عادل خان

متعلم: جامعہ ہمدرد

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad